021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
برابر کرنے کے لیے داڑھی کے بال کاٹنے کا حکم
63305جائز و ناجائزامور کا بیانناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان

سوال

میری داڑھی حصوں میں اگتی ہے۔ داڑھی کاٹنا تو حرام ہے، لیکن اسے برابر اور صاف رکھنے کے لیے شرعاً کیا حدود ہیں: کیا بالکل نہیں کاٹی جاسکتی یا اس میں تفصیل ہے؟

o

برابر کرنے کے لیے داڑھی کے بال ایک مٹھی سے چھوٹا کرنا جائز نہیں۔ اگر ایک مٹھی سے زیادہ ہوں تو انہیں ایک مٹھی تک کاٹا جا سکتا ہے۔ گردن اور گالوں پر اگنے والے بال بھی صاف کیے جا ستکے ہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن الهمام رحمه اللہ تعالی: " وأما الأخذ منها، وهي دون ذلك، كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال، فلم يبحه أحد." (فتح القدیر: 2/348) ذكر في الفتاوي الهندية: "ولا بأس إذا طالت لحيته أن يأخذ من أطرافها. ولا بأس أن يقبض على لحيته، فإن زاد على قبضته منها شيء، جزه. وإن كان ما زاد طويلة، تركه، كذا في الملتقط." (الفتاوی الھندیۃ: 5/358) ذکر فی الفتاوی الھندیۃ: " ولا يحلق شعر حلقه، وعن أبي يوسف رحمه الله تعالى: لا بأس بذلك. ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يتشبه بالمخنث." (الفتاوى الهندية، 5/438، العلمية)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔