021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض سے کاروبار کرنے والے کو قربانی میں شریک کرنے کا حکم
..قربانی کا بیانقربانی کے جانور میں دوسروں کو شریک کرنے کے مسائل

سوال

بنک سے سودی قرض لے کر تجارت کرنے والے شخص کو قربانی میں شریک کرنے کا کیا حکم ہے؟

o

کیونکہ اس شخص کی تجارت کی آمدنی حرام نہیں،لہذا اس کے ساتھ کی ہوئی قربانی درست ہے،البتہ سودی عقد کی وجہ سے یہ شخص گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ أ بوداؤد رحمہ اللہ: حدثنا أحمد بن يونس ، ثنا زهير ،ثنا سماك ، حدثنى عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود ، عن أبيه ، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وشاهده.(ح:3333) فی الفتاوى الهندية : والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى …لا يشارك المضحي فيما يحتمل الشركة من لا يريد القربة رأسا، فإن شارك لم يجز عن الأضحية… وإن كان كل واحد منهم صبيا أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيا ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضا ،كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية :5/ 304)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔