021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بنک سے سود پر قرض لے کر کاروبار کرنا
..سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

ہمارے ہاں کچھ لوگ کاروبار یا زراعت کے لیے بنک سے سود پر قرض لیتے ہیں۔اس کاروبار اور زراعت سے حاصل ہونے والے منافع کا کیا حکم ہے؟

o

سود ی قرض لے کر کاروبار وغیرہ کرنا اور اس پر سود ادا کرنا ناجائز اور حرام ہے اور اس پر اخلاص کے ساتھ توبہ و استغفار کرنا لازم ہے،البتہ اب تک اس کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

فی مشکاۃ المصابیح: عن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية " . رواه أحمد والدراقطني وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه. "( مشكاة المصابيح ،ح:2825،2826) قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام…القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط، فالفاسد منها لا يبطله، ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر…(وما) يصح و (لا يبطل بالشرط الفاسد) سبعة وعشرون (القرض والهبة والصدقة… قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: والمراد بقول الشارح :ما يصح أي في نفسه ،ويلغو الشرط…قوله :(القرض): ك: أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني سنة، وفي البزازية: وتعليق القرض حرام والشرط لا يلزم. والذي في الخلاصة عن كفالة الأصل :والقرض بالشرط حرام اهـ نهر: أي فالمراد بالتعليق الشرط. وفي صرف البزازية: أقرضه على أن يوفيه بالعراق فسد اهـ :أي فسد الشرط.(الدر المختار مع رد المحتار:5/ 165 ،166 ،249)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔