021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رؤیت ہلال میں صوبہ سرحد (کے پی کے)کی شہادتیں
..روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

رؤیت ہلال کمیٹی کے جانب سے جو صوبہ سرحد میں ہونے والی شہادتوں کو رد کیا جاتا ہے، آپ حضرات کے خیال میں آیا وہ سائنسی وقمری حساب کی بناء پر رد کیا جا رہا ہے یا تہمت غلط یا کذب بیانی کی بناء پر ان کی رؤیت کو قبول نہیں کیا جاتا۔

o

حکومت پاکستان نے رؤیت ہلال کمیٹی کو ہمارے اکابر ہی کے بتائے گئے نظام کے مطابق ترتیب دی تھی۔ ایک عرصے تک اس کی صدارت بھی ہمارے اکابر ہی کرتے رہے۔ آج بھی ہمارے بہت سے علماء اور دیگر ماہرین فلکیات اس کی نمائندگی گر رہے ہیں۔ اس کمیٹی میں فیصلہ فرد واحد کا نہیں ہوتا بلکہ اس میں موجود تمام ارکان کا متفقہ فیصلہ ہوتا ہے۔ لہذا محض بد گمانی کی بناء پر یہ فرض کرلینا کہ سرحد سے آنے والی شہادتوں کو مطلقا رد کیا جا رہا ہے، یہ بہت قابل مذمت اور انتہائی ناگوار بات ہے۔ اگر بالفرض کسی شہادت کو رد بھی کیا جائے تو اسے شرعی اور مشاہدتی اصولوں کی بناء پر رد کیا جاتا ہے۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ یہ سوچ میڈیا کے پروپیگنڈے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ لہذا در حقیقت یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ آیا واقع میں رؤیت ہلال کمیٹی صوبہ سرحد سے آنے والی شہادتوں کو رد کر رہی ہے یا نہیں ؟ اور اگر بالفرض ردکر بھی رہی ہے تو براہ راست یہ بھی معلوم کیا جائے کہ رد کرنے کا مدار کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کو ولایت عامہ حاصل ہے، لہذا ریاست کی طرف سے نامزد رؤیت ہلال کمیٹی کی حیثیت قاضی کی ہے، شرعی طور پر چاند کی رؤیت کے اعلان کی ولایت اسی کمیٹی کو حاصل ہے اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنا پاکستان کے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ اگر مرکزی کمیٹی کسی شہادت کو شرعی اور مشاہداتی اصولوں پر پرکھنے کے بعد رد کر دے، تو ایسا کرنا اس کی ذمہ داری بھی ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ہاں! البتہ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ سرحد سے آنے والی شہادتوں کا اطمینان کے ساتھ انتظار کرے تاکہ کسی شہادت کے رہ جانے کا امکان باقی نہ رہے اور یوں بدگمانیاں اور شبہات بھی ختم ہو جائیں۔ (فتاوی مفتی محمود: ۳/۴۳۷) وہ شرعی اصول جن کے نہ ہونے کی وجہ سے شہادتوں کو رد کیا جا سکتا ہے مندرجہ ذیل ہیں: 1) محل شہادت ہونا ضروری ہے۔ رؤیت ہلال کی شہادت کا محل یوم الشک ہے یعنی ۲۹ تاریخ، لہذا ۲۸ تاریخ کو تو شہادت لی بھی نہیں جائے گی۔ سرحد سے آنے والی بہت سی شہادتوں کو اسی بنیاد پر رد کیا جاتا ہے، کیونکہ ہماری وہ ۲۸ تاریخ ہوتی ہے اور ان کے بقول وہ ۲۹ تاریخ ہوتی ہے۔ لہذا رؤیت ہلال کمیٹی ان حضرات کی شہادتوں کا اعتبار ہی نہیں کرتی۔ 2) اگر آسمان ابر آلود ہو، تو رمضان کے چاند میں ایک بندے کی خبر کو کافی سمجھا گیا ہے، بشرطیکہ خبر دینے والا ثقہ مسلمان ہو، نصاب شہادت ضروری نہیں ہے۔ 3) رمضان کے علاوہ دوسرے ہر چاند کی شہادت کے لیے نصاب شہادت ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں، جو مسلمان، عاقل، بالغ اور بینا ہوں۔ 4) اس کے علاوہ سب سے اہم شرط عادل ہونے کی ہے یا کم از کم قاضی کے نزدیک قابل اعتماد ہونا۔ 5) لفظ "شہادت" کے ذریعہ گواہی دینا۔ 6) شاہد جس واقعہ کی گواہی دے رہا ہو اس کو بچشم خود دیکھا ہو، محض سنی سنائی بات نہ ہو۔ 7) شاہد مجلس قضاء میں خود حاضر ہو کر شہادت دے۔ نوٹ: یاد رہے کہ مذکورہ بالا شرائط اس وقت لاگو ہوں گی جب مطلع صاف نہ ہو، اگر مطلع صاف ہو تو چاند کے ثبوت کے لیے صرف دو چار گواہوں کی شہادتوں کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ایک جم غفیر کی گواہی لازمی ہوگی۔ (مفتی شفیع عثمانی، رؤیت ہلال: ص ۵۱-۵۷) پاکستان کی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اگر مذکورہ بالا شرعی یا دیگر مشاہدتی اصولوں کی بناء پر صوبہ سرحد سے آنے والی شہادتوں کو رد کر رہی ہے، تو صحیح ہے ورنہ درست نہیں۔ لہذا بنیادی بات یہ ہے کہ معلوم کر لیا جائے کس وجہ سے شہادتوں کو رد کیا جا رہا ہے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی: "وأشھدوا ذوی عدل منکم." (الطلاق: ۱) قال اللہ تعالی: "یا أیھا الذین آمنوا أطیعوا اللہ وأطیعوا الرسول وأولي االأمر منکم." (النساء: ٥٩) عن ابن عمر رضي اللہ عنہما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: "السمع والطاعة حق ما لم یؤمر بالمعصیة، فإذا أمر بمعصیة فلا سمع ولا طاعة." (صحیح البخاري: ٣/١٠٨٠) قال العلامة ابن عابدین: "قوله: أمر السلطان إنما ينفذ، أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى." (رد المحتار:٥/٥٢٢) قال العلامة النسفي: " البينة لا تصير حجة إلا بقضاء القاضي وللقاضي ولاية عامة فينفذ قضاؤه في حق الكافة." (کنز الدقائق مع شرحہ تبیین الحقائق: ٤/٩٩) ذکر في الفتاوی الھندیة: " يجب أن يلتمس الناس الهلال في التاسع والعشرين من شعبان وقت الغروب، فإن رأوه صاموه، وإن غم أكملوه ثلاثين يوما." (١/١٩٧) قال العلامة ابن الھمام: "قولہ: وینبغی للناس أن یلتمسوا الھلال في الیوم التاسع والعشرین أي یجب علیھم وھو واجب علی الکفایة." ( فتح القدیر: ٢/٣١٣) قال الشیخ المرغیناني: " وإذا كان بالسماء علة قبل الإمام شهادة الواحد العدل في رؤية الهلال ]أي ھلال رمضان[ رجلا كان أو امرأة حرا كان أو عبدا لأنه أمر ديني فأشبه رواية الأخبار ولهذا لا يختص بلفظة الشهادة وتشترط العدالة ... وإذا لم تكن بالسماء علة لم تقبل الشهادة حتى يراه جمع كثير يقع العلم بخبرهم." (الھدایة فی شرح بدایة المبتدي: ۱/١١٩) ذکر في الفتاوی الھندیة: " وإن كان بالسماء علة لا تقبل إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين ويشترط فيه ]أي ھلال ما دون رمضان[ الحرية، ولفظ الشهادة ... وإن لم يكن بالسماء علة لم تقبل إلا شهادة جمع كثير يقع العلم بخبرهم، وهو مفوض إلى رأي الإمام من غير تقدير هو الصحيح، وسواء فی ذلك رمضان وشوال وذو الحجة." (۱/١٩٨) قال العلامة الحصکفي: "رأى مكلف هلال رمضان أو الفطر ورد قوله بدليل شرعي صام وجوبا." (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/٣٨٤) ذکر في الفتاوی الھندیة: "أما التعريف فهو إخبار صدق لإثبات حق بلفظ الشهادة في مجلس القضاء ... وعن أبي یوسف رحمہ اللہ تعالی الفاسق إذا کان وجیہا فی الناس، ذا مروءة تقبل شہادتہ ... الفاسق إذا تاب لا تقبل شھادتہ ما لم یمض علیہ أثر التوبة، والصحیح أن ذلك مفوض إلی رأي القاضي." (۳/٤٥٠، ٤٦٦، ٤٦٨) وذکر ایضا: "والفاسق إذا رآہ ]الھلال[ وحدہ یشھد لأن القاضي ربما یقبل شھادتہ." (١/١٩٧) قال العلامة ابن عابدین: "البينة إذا قامت على خلاف المشهور المتواتر لا تقبل ... لأنه يلزم تكذيب الثابت بالضرورة والضروريات مما لا يدخلها الشك، وكذلك الشهادة التي يكذبها الحس لا تقبل." (العقود الدریة في تنقیح الفتاوی الحامدیة: ۱/٣٣٧)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔