021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض حسنہ اسکیم والوں کاقرض دے کر ہدیہ وصول کرنا
..سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

ملک بھر میں کئی نجی ادارے قرضِ حسنہ سکیم کے تحت کام کررہے ہیں جس میں ان کے بقول وہ صارف سے وہی رقم واپس وصول کرتے ہیں جو وہ صارف کو کسی بھی صورت میں ( کیش، نقد یا رکشہ وغیرہ خرید کر ) دیتے ہیں۔ اس قرضے کے حصول میں وہ صارف سے کچھ رقم بطور پروسیسنگ فیس یا سروس چارجز کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر قسط لیٹ ہوجائے تو قسط کے ساتھ کچھ جرمانہ بھی وصول کیا جاتاہے۔ جب کہ بعض ادارے قرض کی قسط کے ساتھ کچھ رقم بطور عطیہ یا ہدیہ بھی وصول کرتے ہیں۔ سوال:صارف سے عطیہ یا ہدیہ وصول کرنا شرعا کیسا ہوگا؟

o

صارف سے عطیہ یا ہدیہ وصول کرنا جائز نہیں کیونکہ ہر وہ قرض جس سے کچھ نفع حاصل ہو وہ بھی ربا(سود)ہے۔ لہذا صورت مذکو رہ میں ہدیہ یا عطیہ یہ نفع ہے جو قرض کی وجہ سے وصول کیا جارہا ہے اس لیے ہدیہ یا عطیہ لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (12 / 106): عن النبي، صلى الله عليه وسلم، قال: من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية عليها، فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا، وهذا معنى ما ورد: كل قرض جر منفعة فهو ربا، مصنف ابن أبي شيبة (4 / 327): حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال: «كل قرض جر منفعة، فهو ربا»
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔