021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالی جرمانہ کا حکم
..سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

قسط کے ساتھ جرمانہ وصول کرنے کا کیا حکم ہوگا؟ اس سے معاملہ قرض پر کیا اثر ہوگا؟

o

اگر قسط لیٹ ہوجائے تو قسط کے ساتھ جرمانہ لینا جائز نہیں یہ سود اور ربا ہے۔ اس لیے کہ اس پر سود کی تعریف"الفضل الخالی عن العوض المشروط فی عقد المعاوضہ" صادق آرہی ہے۔ ایسا قرض جس میں، ادائگی میں تاخیر پر جرمانے کی شرط لگی ہو، لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

فقه المعاملات: وبعد البحث والدراسة قرر المجمع الفقهي بالإجماع ما يلي: إن الدائن إذا شرط على المدين أو فرض عليه أن يدفع له مبلغا من المال غرامة مالية جزائية محددة أو بنسبة معينة إذا تأخر عن السداد في الموعد المحدد بينهما فهو شرط أو فرض باطل ولا يجب الوفاء به بل ولا يحل سواء أكان الشارط هو المصرف أم غيره لأن هذا بعينه هو ربا الجاهلية الذي نزل القرآن بتحريمه۔۔۔۔۔لا يجوز تطبيق غرامة التأخير على القرض الحسن۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔