021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الکحل ملی دواؤں کا استعمال اور ان کی تجارت کاحکم
..شراب کے احکامالکحل کے احکام

سوال

الکحل ملی دواؤں کو استعمال کرنا اور ان کی تجارت کا کیا حکم ہے؟ سنا ہے کہ الکحل شراب کی ایک قسم ہے اس لیے اس کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

o

انگور یا کھجور کی شراب سے نکالا گیا الکحل ناپاک ہے، اس کا استعمال جائز نہیں اگرچہ اضافی حفاظت یا تاثیر کی تیزی کی غرض سے ہو۔ البتہ انگور و کھجور کے علاوہ گندم، جَو وغیرہ سے حاصل کیا گیا الکحل پاک ہے، اس کا استعمال جائز ہے۔ چونکہ آج کل دواؤں میں عام طور پر دوسری قسم کا الکحل استعمال کیا جاتاہے، اس لیے جب تک یقین نہ ہو کہ یہ الکحل کھجور یا انگور سے لیا گیا ہے، اس وقت تک عام الکحل کو پاک سمجھا جائے گااور ایسی دواؤں کو استعمال کرنا اوران کی تجارت کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (4 / 395): وقال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به" قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره، وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة ۔ واما غیر الاشربۃ الربعۃ،فلیست نجسۃ عندالامام ابی حنیفۃؒ۔ وبھذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ(AL COHALS)التی عمت بھا البلوی الیوم، فانھا تستعمل فی کثیر من الأدویۃوالعطور والمرکبات الأخری، فإنہا إن اتخذت من التمر والعنب فلاسبیل إلی حلتھا وطھارتھا،وإن اتخذت من غیرھا فالأمر فیھا سھل علی مذھب أبی حنیفۃؒ،ولایحرم استعمالھا للتداوی أو لأغراض مباحۃ اخری مالم تبلغ حد الإسکار، لأنھا انما تستعمل مرکبۃ من المواد الأخری،ولا یحکم بنجاستھا أخذا بقول أبی حنیفۃؒ۔ وإن معظم الکحول الیوم تستعمل فی الأدویۃ والعطور وغیرھا لاتتخذ من العنب أو التمر،إنما تتخذ من الحبوب أوالقشور أوالبترول وغیرہ،۔۔۔۔۔۔ وحینئذھناک فسحۃ فی الأخذ بقول أبی حنیفۃ عند العموم البلوی۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔