03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹھیکے پر دی گئی زمین کا عشر کس کے ذمے ہو گا؟﴿تفصیلی اور جدید فتوی﴾
66679زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

پنجاب ميں ہماری زمین ہے، جو ہم نے دو لاکھ روپیہ سالانہ ٹھیکہ پر دی ہے، اس زمین کی پیداوار کا عشر ہم دیں گے یا کاشتکار؟ درِ مختار میں لکھا ہے کہ کاشتکار پر ہو گا، مالکِ زمین پر دیگر اموال کی طرح اس زمین سے حاصل شدہ کرایہ پر زکوۃ لازم ہو گی، جبکہ یہاں کاشتکار عشر ادا نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ عشر مالک کے ذمہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ٹھیکے پر دی گئی زمین کے عشر کے بارے میں فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ٹھیکے پر دی گئی زمین کا عشر زمین کے مالک پر اورحضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کاشتکار پر واجب ہے، ظاہر الروایہ میں بھی یہ دونوں قول منقول ہیں، البتہ بعد کے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حضراتِ صاحبین رحمہماللہ کے قول کو ترجیح دی ہے، اسی لیے الدرالمختار میں ’’وبقولہما نأخذ‘‘ کہہ کر اس قول کے مفتی بہ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔  اور اس کی وجہ یہ ہےکہ عشر کا تعلق پیداوار سے ہوتا ہے، اسی لیے زمین سے پیداوار حاصل ہو تو عشر واجب ہوتا ہے، ورنہ نہیں اورٹھیکہ پر دی گئی زمین کی  پیداوار چونکہ  کاشت کار حاصل کرتا ہے، اس لیے عام حالات میں  ایسی زمین کی پیداوار کا عشر بھی کاشت کار یعنی ٹھیکہ دار  کے ہی ذمہ ہو گا اور مالکِ زمین کے ذمہ  حاصل شدہ رقم پر زکوۃ واجب ہو گی، بشرطیکہ اس کی زکوۃ کے لیے مقرر تاریخ میں وہ شخص صاحبِ نصاب ہو۔

البتہ اگر کسی جگہ زمین کا کرایہ (ٹھیکہ) مکمل وصول کیا جاتا ہو اور اس کے مقابلے میں مستاجر یعنی ٹھیکہ دار کو پیداوار کم حاصل ہوتی ہو تو ایسی صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بعض متأخرین حضرات جیسے علامہ خیر الدین الرملی رحمہ اللہ وغیرہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر  فتوی دیا ہے اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے بھی  مالک کے پوری اجرت وصول کرنے کی صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتوی کی تصریح کی ہے، نیز حکیم الامۃ  حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدّس اللہ سرّہ نے امداد الفتاوی میں زمین کی اجرت زیادہ ہونے کی صورت میں مالکِ زمین پر عشر کے وجوب  کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

اگرموجر پوری  اجرت لے اور مستاجر کو بہت کم بچے تو عشر موجر کے ذمہ ہے اور اگر موجر اجرت کم لے اور مستاجر کے پاس زیادہ بچے تو مستاجر کے ذمہ ہے۔چونکہ ہمارے دیار میں اجرت کم لی جاتی ہے اسی لیے میں وجوبِ عشر علی المستاجر پر فتوی دیا کرتا ہوں، ہاں اگر کسی جگہ پوری اجرت لی جاوے جس میں زمیندار عشر بخوبی ادا کر سکتا ہو تو اس صورت میں وجوبِ عشر موجر پر ہو گا، صورتِ مسئولہ میں اجرت اور پیداوار کی نسبت معلوم نہیں، اس لیے حکم میں بھی تعیین نہیں کی جا سکتی۔ 

(امداد الفتاوی:ج:۲ص:۵۹)ط: مکتبہ  دارالعلوم کراچی

لہذا بعض فقہاء کے فتاوی اور حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا فتوی کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے قول کے مطابق  صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ علاقے میں ٹھیکہ پر دی جانے والی زمینوں کی مکمل اجرت(ٹھیکہ) وصول کی جاتی ہو  اور مستاجر یعنی ٹھیکہ دار کو کم بچت ہوتی ہو تواس صورت ميں عشر مالكِ زمين پر واجب ہو گا ، ورنہ مستاجر پر واجب ہو گااور اس (مکمل اجرت)  کی پہچان کا طریقہ یہ  ہو سکتاہے کہ پیداواری اخراجات  جیسے پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ نکالنےاور زمین کا ٹھیکہ ادا کرنے کے بعد کاشتکار کےپاس ٹھیکہ کی رقم سے کم بچت ہو تو اس صورت میں زمین کا عشر مالکِ زمین پر ہو گا، کیونکہ اس صورت میں زمین سے زیادہ نفع مالک نے حاصل کیا اور اگر پیداوار کے تمام اخراجات اور زمین کی اجرت ادا کرنےکے بعد کاشتکار کے پاس زمین کی اجرت سے زیادہ بچے تو ایسی صورت میں عشرمستاجر یعنی کاشت کار کے ذمہ لازم  ہو گا، کیونکہ اس صورت میں زیادہ نفع کاشتکار کو پہنچا ہے۔

حوالہ جات

الأصل المعروف بالمبسوط لمحمد بن الحسن الشيباني (2/ 143):

قلت: أرأيت الرجل يستأجر الأرض من أرض العشر فيزرعها على من عشرها؟ قال: على رب الأرض وليس على المستأجر شيء۔

الأصل المعروف بالمبسوط لمحمد بن الحسن الشيباني (2/ 164):

قلت: أرأيت الرجل يستأجر أرضا من أرض العشر فيزرعها على من عشر ما يخرج منها؟قال على رب الأرض وليس على المستأجر شيء قلت أرأيت إن كان آجرها بخمسين

درهما وأخرجت الأرض مائتي كر كان عليه عشر ذلك كله؟ قال نعم وهذا قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد: العشر على ما أخرجت الأرض۔

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (2/ 334) ایچ ایم سعید:

والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ۔

حاشية ابن عابدين  (2/ 334) ایچ ایم سعید:

(قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ.

قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم۔

المبسوط للسرخسي (3/ 5) دار المعرفة – بيروت:

(قال): رجل استأجر أرضا من أرض العشر وزرعها قال عشر ما خرج منها على رب الأرض بالغا ما بلغ سواء كان أقل من الأجر، أو أكثر في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى العشر في الخارج على المستأجر.

وجه قولهما أن الواجب جزء من الخارج والخارج كله للمستأجر فكان العشر عليه كالخارج في يد المستعير للأرض وأبو حنيفة - رحمه الله تعالى - يقول وجوب العشر باعتبار منفعة الأرض والمنفعة سلمت للآجر؛ لأنه استحق بدل المنفعة، وهي الأجرة وحكم البدل حكم الأصل أما المستأجر فإنما سلمت له المنفعة بعوض فلا عشر عليه كالمشتري للزرع، ثم العشر مؤنة الأرض النامية كالخراج وخراج أرض المؤاجر على المؤاجر فكذلك العشر عليه أما أذا أعار أرضه من مسلم فالعشر على المستعير في الخارج عندنا۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

23/ذوالقعده 1440ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب