03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نرم جائے نماز پر سجدہ کرنے کا حکم
66954نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

مسجد میں کمبل کی بنی ہوئی موٹی اور نرم جائے نماز پر سجدہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس کے بارے میں وضاحت فرمادیں کہ اس پر سجدہ ادا ہوتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرایسی موٹی جائے نماز پر سجدہ کرتے وقت پیشانی کسی ایک جگہ پرجم جاتی ہے اور پیشانی میں مکمل ٹھہراوٴ اور سکون پیدا ہو جاتا ہے ، خواہ تھوڑے دباوٴ کے ذریعے ٹھہراوٴ حاصل ہو، تو اس پر سجدہ کرنا جائز ہے ، اس سے سجدہ ادا ہوجاتا ہے ۔ اور اگر سجدہ کرتے وقت تھوڑے دباوٴ کے باوجود پیشانی کسی ایک جگہ جمتی نہیں ہے ،بلکہ مزید دبتی جاتی ہو ، تو اس پر سجدہ ادا نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وفی  الدر المختار مع رد المحتار( 1/452):

وشرط سجود فالقرار لجبہة۔

قولہ: (وشرط سجود) مبتدأ ومضاف إليه (فالقرار) خبر بزيادة الفاء (لجبهة) أي يفترض أن يسجد على ما يجد حجمه بحيث إن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ مما كان عليه حال الوضع، فلا يصح على نحو الأرز والذرة، إلا أن يكون في نحو جوالق، ولا على نحو القطن والثلج والفرش إلا إن وجد حجم الأرض بكبسه

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

19/محرم1441ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب