03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے بعد حلالہ کی ضرورت
67105طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

کیا اس خاتون کوطلاق کی صورت میں کسی سےنکاح کراناہوگا؟کوئی آسان تدبیر بتائیں ، جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اوپر سوالِ اول کے جواب میں جو طریقہ لکھ دیا گیا ہے،اگر اس پر عمل کیا گیا تو پھر اس خاتون کا کسی اور سے نکاح کی ضرورت نہیں رہے گی۔اگر اس طریقہ پر عمل نہیں ہوا،بلکہ ویسے ہی بیٹی کی شادی اُس شخص سے کردی گئی تو پھر اِس شخص  کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

تین طلاق واقع ہو جانے  کے بعد  عورت کا پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا  شرعی  طریقہ یہ ہے کہ  خاتون  پہلے طلاق کی عدت گزارے،پھرکسی دوسرے شخص کے ساتھ  دائمی نکاح کر لے ، اس میں  خاص  وقت کے بعد  طلاق دینے کی کوئی شرط نہ ہو،پھرکم ازکم ایک بار میاں بیوی والا تعلق قائم ہوجانے کے بعد وہ طلاق دیدے  یا مر جائے  تو  عدت گزرنے کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے ،اگر طلاق کی شرط لگا کر نکاح کیاجائے تو یہ باعثِ لعنت ہے،مگر اس سے بھی عورت  پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی،البتہ  زبان سے شرط نہ لگائی جائے اور کوئی شخص میاں بیوی کی ہمدردی اور خیر خواہی کی نیت سے دل میں طلاق کی نیت رکھتا ہو اور پھر نکاح اور ہمبستری کے بعد طلاق دیدے تو اس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ باعثِ اجر ہے۔

حوالہ جات

وفي الهنديه(10/196) :

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .

وفی التبیین(6/486)  :

قال رحمه الله ( وكره بشرط التحليل للأول ) أي يكره التزوج بشرط أن يحلها له يريد به بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحلك له أو قالت المرأة ذلك .وأما لو نويا ذلك في قلبهما ولم يشترطاه بالقول فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا بذلك لقصده الإصلاح ۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/محرم1440ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب