03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کے اندر معذور شوہر کی خدمت
67104طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

وہ معذور ہیں ، شدید بیمار ہیں حتی کہ طہارت تک میں بیوی کی خدمت کامحتاج ہے، کیا طلاق کی عدت میں وہ بیوی سے خدمت لے سکتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق بائن کی عدت کے دوران چونکہ بیوی کو شوہر سے الگ رہنے کا حکم ہوتا ہے،اس لیے بیوی ایسی  خدمات سے دور رہے جس میں شوہر کے ساتھ براہ راست ربط ہو،نیز پردہ کا بھی اہتمام کرے، استنجاء اور پاکی سے متعلق ایسی خدمت  جو صرف بیوی کو کرنے کی اجازت ہوتی ہے،اس میں ٹشو وغیرہ کا استعمال کیا جائے، وضو اور ستر کی رعایت رکھتے ہوئے غسل کی خدمت اولاد میں سے کوئی بھی سر انجام دے سکتا ہے.ا گر کوئی بھی اس کے لیے تیار نہ ہوتو پھر تیمم کرے۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 233):

(أو لمرض) يشتد أو يمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم ولو بتحرك، أو لم يجد من توضئه، فإن وجد ولو بأجرة مثل وله ذلك لا يتيمم في ظاهر المذهب كما في البحر.

حاصل ما فيه أنه إن وجد خادما: أي من تلزمه طاعته كعبده وولده وأجيره لا يتيمم اتفاقا، وإن وجد غيره ممن لو استعان به أعانه ولو زوجته فظاهر المذهب أنه لا يتيمم أيضا بلا خلاف. وقيل على قول الإمام يتيمم، وعلى قولهما لا كالخلاف في مريض لا يقدر على الاستقبال أو التحول من الفراش النجس ووجد من يوجهه أو يحوله لأن عنده لا يعتبر المكلف قادرا بقدرة الغير. والفرق على ظاهر المذهب أن المريض يخاف عليه زيادة الوجع في قيامه وتحوله لا في الوضوء. اهـ

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/محرم1440ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب