| 67139 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں
اگر کسی مسجد میں دو ہال (دومنزل)ہیں،اور نیچے والی منزل میں محراب اور منبر ہو،اور امام صاحب نیچے والی منزل چھوڑ کر بغیر کسی عذر کے اوپر والی منزل میں جماعت پڑھا رہاہوتو کیا یہ نمازجائز ہے؟مطلب نمازادا ہوجائے گی یانہیں؟(نیچے والے ہال میں صرف مقتدی کھڑے ہیں ،اور امام اوپر ہے،لیکن وہاں بھی مقتدی پیچھے موجود ہیں۔)اگر کسی نے اس طرح نماز پڑھ لی تو اعادہ کیا جائے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دوسری منزل بھی چونکہ مسجد ہی کے حکم میں ہے،لہذااگر امام وہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھاتا ہے ،اور مقتدی بھی موجود ہیں تو نماز ہوجائے گی ،اعادہ کی ضرورت نہیں۔البتہ بلاعذر ایسا نہیں کرنا چاہیے،تاہم ایسی صورت میں نچلی منزل والے مقتدیوں کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ صف میں امام سے آگے نہ بڑھ جائیں۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
امداد الاحکام:(1/473)(1/559)
فتاوی عثمانی:(1/408)
فتاوی عثمانی میں ہے:
مسجد کی دوسری منزل پر جماعت کرانے کا حکم
- و کرہ تحریما الوطیٔ فوقہ و البول و التغوط، لانہ مسجد الی عنان السمائ۔ (در مختار مع شامی :1/412)
اس سے معلوم ہوا کہ مسجد آسمان تک مسجد ہی مسجد ہوتی ہے اور اوپر کی منزل بھی مسجد ہی ہے۔ لہٰذا اس میں جماعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ بلا ضرورت ایسا نہ کیا جائے، کیونکہ یہ تقلیل جماعت کا سبب بن سکتا ہے۔(فتاوی عثمانی: 1/408)
امدا الاحکام میںہے:
مسجد کی دوسری منزل میں نماز پڑھنابلاکراہت صحیح ہے
- قال فی الدر:وکرہ تحریما الوطأ فوقہ والبول والتغوط، لأنہ مسجد إلیٰ عنان السماء اھ وفی الفتویٰ الشامیۃ :قولہ :الوطأ فوقہ ای الجماع خزائن ،أما الوطأ فوقہ بالقدم فغیر مکروہ إلا فی الکعبۃ لغیرعذرلقولھم بکراھۃ الصلوٰۃ فوقھا ثم رأیت القھستانی نقل عن المفید کراھۃ الصعود علیٰ سطح المسجد اھ ویلزمہ کراھۃ الصلوٰہ أیضا فوقہ فلیاتمل۔
قولہ: لأنہ مسجد علۃ لکراھۃ ماذکرفوقہ، قال الزیلعی :ولھذا یصح اقتداء من علی سطح المسجد بمن فیہ إذالم یتقدم علی الإمام ولایبطل الاعتکاف بالصعودإلیہ ولایحل للجنب والحائض والنفساء الوقوف علیہ اھ (ص ۶۸۶ ج ۱)
وفی ردالمحتار (ج ۳ ص ۵۸۳)
قولہ: اوجعل فوقہ بیتاالخ ظاھرہ انہ لافرق بین الیکون البیت للمسجد اولاالاانہ یؤخذ من التعلیل ان محل عدم کونہ مسجداً فیما اذالم یکن وقفا علی مصالح المسجدوبہ صرح فی الاسعاف فقال :واذا کان السرداب اوالعلولمصالح المسجد اوکانا وقفاعلیہ صارمسجداً اھ شربنلالیہ،قال فی البحر:وحاصلہ ان شرط کونہ مسجد اان یکون سفلہ وعلوہ مسجد الینقطع ح قالعبد عنہ اھ قال فی الدر (ص مذکور) فرع، لوبنی فوقہ بیتاللامام لایضرلانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالنباء منع اھ قلت لعل ھذا المنع مختص بمااذا بنی بیتا فوقہ للسنی کماھوظاھرواماذا بنی الصلوۃ وتوسیع المسجد فلایمنع مطلقا(۱۲ ظفر،)
قال فی ردالمحتار: وفی جامع الفتاویٰ لھم تحویل المسجد الیٰ مکان اٰخران رکوہ بحیث لایصلی فیہ اھ (ص ۵۷۲ ج۳) قلت :کان لھم تحویل المسجد الیٰ مکان آٰخرقلان یحولواالصلوٰہ فی بعض المواسم من تحتہ الیٰ فوق اولیٰ بالجواز واماکراھۃ الوطأ بالاقدام فوق المسجد فانہ مختص بمااذا کان لغیر عذرواذاکان عذرفلاکراھۃ فی الصلوٰہ فوقہ ایضا، واللہ اعلم
عبارات مذکورہ سے معلوم ہواکہ صورت مذکورہ میں مسجد کی اوپروالی منزل میں نمازبلاکراہت جائزہے، مسجد کی چھت پرنماز کامکروہ ہونا اس صورت کے ساتھ مختص ہے جبکہ چھت پر اہل محلہ نماز کے لیے جگہ نہ بنادیں اور اس کو چھت ہی قرار دیں اور جب اس پر نماز کے لیے دوسری منزل بنادی گئی تو اب یہ سقف کے حکم میں نہیں، بلکہ دوسری منزل کی چھت کو سقف قراردیاجائے گا، واللہ اعلم، (امدا الاحکام:1/473)
دوسری جگہ ہے:
مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے یا نہیں؟
- ۱۱۷ میں یہ عبارت ہے: وکذالوصلی علی السطح فی شدۃ الحرلقولہ تعالیٰ قل نار جہنم اشدحراً لو کانوایفقہون، کیا اس عبارت سے چھت پرنماز پڑھنے کو مکروہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں،
- : قال فی الدروکرہ تحریما الوطأ فوقہ والبول والتغوط لانہ مسجد الی عنان السماء اھ قال الشامی ولھذا یصح اقتداء من علیٰ سطح المسجد بمن فیہ اذالم یتقدم علی الامام ولایبطل الاعتکاف بالصعود الیہ ولا یحل للجنب والحائض والنفساء الوقوف علیہ ولو حلف لایدخل ھذہ الدار فوقف علیٰ سطحہ یحنث اھ (ص ۶۸۶ ج۱) وایضا فان الفقہاء لم یذکروا فی مکروھات الصلوٰۃ سوی ظھربیت اللّٰہ اھ،
مسجد کی چھت پرنمازپڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ وہ بھی مسجد ہی ہے، البتہ یہ جائز نہیں کہ جماعت سقف ہی پر ہو نیچے کے درجے میں نمازہی نہ ہو، کیونکہ اصل مسجدیت میں داخلی حصہ ہی ہے، سقف کی مسجدیت تبعاً للتحت ہے پس داخلی حصہ میں نماز نہ ہونا صرف سقف پرہونامکروہ ہوگا، الاللحاجۃ الشدیدۃ بان کان المسجد ذامنزلین ویتعذرالصلوٰۃ فی الداخل للحرونحوہ فہوعذر، ولان المنزلۃ الثانیۃ لیس فی حکم السقف بالکلیۃ بل لہ حکم المسجد والسقف ماکان فوق المنزلۃ الثانیۃ اور یہ صورت بلا کراہتہ جائز ہے کہ امام تحت میں داخل مسجد ہواور کچھ جماعت اس کے ساتھ ہو، اور کثرت جماعت کے وقت کچھ آدمی اوپرجماعت پراقتداء کرلیں بشرط التخلف عن الامام وفی شرح المنیۃ للحلجی وکذا(یکرہ) لوصلی علی سطح المسجد من شدۃ الحرلقولہ تعالیٰ قل نارجہنم اشدحراًلوکانواہفقہون اھ وفی القنیۃ امام یصلی التراویح علی سطح المسجد اختلف فی کراہتہ ولا ولیٰ ان لایصلی فیہ عند العذرفکیف بغیرہ اھ (ص ۳۹۲) اس سے معلوم ہوا کہ تحت مسجد کو چھوڑ کر سقف پرنماز پڑھنا مکروہ ہے، یہ تو سقف کاحکم ہے، اور دو منزلہ کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ بالائی منزل سقف کے حکم میں ہے، صحیح نہیں، بلکہ سقف وہ ہے جو بالائی منزل کے اوپرہے، پس دو منزلہ میں یہ جائز ہے کہ کسی وقت تحتانی منزل میں نماز نہ پڑھی جائے، صرف بالائی میں پڑھی جائے وہ اس کی نظیر ہے کہ کسی وقت مسجد کے داخلی حصہ میں نماز نہ ہو بلکہ صحن میں پڑھی جائے کہ یہ بلاکراہت جائز ہے، رہی یہ صورت کہ دو منزلہ مسجد میں ایک امام تحتانی منزل میں ہو اور ایک امام بالائی منزل میں ہو، اور دونوں الگ الگ تراویح پڑھائیں، سو یہ صورت مکروہ ہے کیونکہ فقہاء نے ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعتوں سے منع کیاہے، ولو صلوا التروایح ثم ارادواان یصلی ثانیا یصلی فرادیٰ کذا فی الخلاصۃ(ص ۶۴ ج۱) وفی شرح المنیۃ (ص ۳۸۹) ولو ام فی التراویح مرتین فی مسجد واحدکرہ وکذالوصلاہامرتین ماموماً فی مسجدداحدوان صلی فی المسجدین اختلف المشائخ فیہ اھ نیز تکرارجماعت ایک مسجد میں ایک وقت میں سلف سے ثابت نہیں، والخیر کلمہ فی اتباع السلف ولایغتر احدبمایفعلہ اہل الحرم من تعددالجماعات فی التراویح فان الحرم یجوز فیہ تکرار الجماعۃ فانہ، لایصدق علیہ انہ مسجد محلۃ بل ہوکمسجد شارع وقدتقررانہ لاکراہۃ فی تکرار الجماعۃ فیہ اجماعاً(شامی ص ۵۷۸) وبالجملۃ فکل مسجد یجوز تکرار الجماعۃ فیہ لا بأس بتکرار التراویح فیہ اذا کان الامام والمومنون فی کل علٰحد تہم والافلا،
حوالہ جات
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 656):
(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء۔
(قوله لأنه مسجد) علة لكراهة ما ذكر فوقه. قال الزيلعي: ولهذا يصح اقتداء من على سطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
30/محرم1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


