021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کی اجازت سے اسکے کریڈٹ کارڈکےاستعمال کاحکم
70938جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس  مسئلے کےبارے میں کہ اگر عابد زید کی اجازت سے اس  کاکریڈٹ کارڈاستعمال کرے (اس سے خریداری کرے)تو کیا یہ جائز ہے یانہیں؟

وضاحت:یہ کریڈٹ کارڈ عابد کانہیں بلکہ زید کاہے اور عابد خریداری کے بعد متعین کردہ تاریخ سے پہلے ہی زید کو پیمنٹ(ادائیگی) کرے۔

o

عام حالات میں کریڈٹ کارڈ کااستعمال اور اس کے ذریعہ خرید وفروخت جائز نہیں،اس لیے کہ کسی معاملےکےجائز وناجائز ہونے کی بنیاد درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جوفریقین کےدرمیان طے پاتاہے۔کریڈٹ کارڈ لینےوالااس کے جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتاہے کہ اگر مقررہ وقت میں لی جانے والی رقم ادا نہ کرسکاتو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔شریعت مطہرہ میں جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی حرام ہےاس لیےکریڈٹ کارڈ  کا استعمال جس طرح  مالک  کارڈ کےلیے ناجائز ہے اس طرح دوسروں کےلیے بھی ناجائز ہے۔البتہ اگرشدید مجبوری ہوتودواحتیاطوں کے ساتھ اس  کے جواز کی گنجائش دی جاسکتی ہے:

  1. ضرورت شدیدہ ہواوراس کے استعمال کےبغیر کوئی دوسراراستہ نہ ہو۔
  2. اپنی رقم کے اندر خریداری کرے،سودی قرض کی نوبت نہ آنے دے، اسی طرح اس سےلی ہوئی رقم کی ادائیگی مقررہ تاریخ پر کرےاس کو”overdue”نہ ہونے دے۔

حوالہ جات

السنن الصغير للبيهقي (2/ 273)
وروينا عن فضالة بن عبيد، أنه قال: «كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا۔
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 571)
حد ثنا أبو بردة , قال: قدمت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام , فقال: " انطلق معي المنزل فأسقيك في قدح شرب فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وتصلي في مسجد صلى فيه " , فانطلقت معه فسقاني سويقا , وأطعمني تمرا وصليت في مسجده , فقال لي: " إنك في أرض الربا فيها فاش وإن من أبواب الربا أن أحدكم يقرض القرض إلى أجل فإذا بلغ أتاه به وبسلة فيها هدية فاتق تلك السلة وما فيها " رواه البخاري في الصحيح ۔
مصنف ابن أبي شيبة (4/ 327)
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال: «كل قرض جر منفعة، فهو ربا»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395)
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض۔
فقہ البیوع(1/463)
انماجری التعامل علی ان الانسان یتعاقد معھا من غیر نکیر بشرط ان یکون فی عزمہ ان یودی واجباتہ فی حینھا۔وانما اجیز ذلک لحاجۃ عامۃ۔فان لم یتیسر الحصول علی بطاقۃ الحسم الفوری،ولاالتعاقد مع مصدر البطاقۃ بان یسحب مبلغ الفاتورۃ من حساب الحامل ،واشتدت الحاجۃ الی مثل ھذہ البطاقۃ، فاالمرجو ان حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذاالعقد ان شاءاللہ تعالی اخذجمیع الاحتیاطات اللازمۃ لان لایلجا الی دفع الفائدۃ الربویۃ

وقاراحمد

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

۱۹جمادی الاول ۱۴۴۳

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔