| 68752 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
اسلم نےاپنی بیٹی اپنےسسر کوپرورش کےلیےدی تھی۔سسرکےانتقال کےبعد وہ لڑکی اسلم کی سالی لےگئی۔اسلم نےاپنی بیوی سےکہاکہ تم اس وقت تک گھر نہیں آؤگی،جب تک بچی کونہ لاؤ۔پھراسلم کےبھانجےنےاسلم کےسسرال والوں سےبطور دھمکی یہ کہا کہ اگرتم نےبچی اوراسلم کی بیوی کوواپس نہیں بھیجا تو ہم طلاق نامہ بھجوا دیں گے۔طلاق نامہ لکھاگیااور میں(اسلم شوہر) نےدستخط کردیالیکن مجھےیہ معلوم نہیں تھاکہ اس میں کیالکھا ہے،البتہ یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے۔ اس دوران چھ مہینے گزرگئے اور میں نےاس مدت کےدوران کسی قسم کا رجوع نہیں کیا ۔اب پوچھنایہ ہےکہ کیاطلاق واقع ہوگئی یانہیں ؟ اگرواقع ہوگئی ہے توکونسی طلاق واقع ہوئی ہے؟ کیارجوع کی کوئی صورت بن سکتی ہےیانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں جب مسمی ٰاسلم کومعلوم تھاکہ یہ طلاق نامہ ہے اورپھراس نے دستخط کردیے،تودستخط کرنےسےمذکورہ طلاق نامہ میں لکھی گئی تحریران کی طرف منسوب ہوگی اوراس تحریرمیں طلاق کااقرار کیا گیاہے۔طلاق کےاقرار کاحکم یہ ہےکہ اقرارکے جھوٹےہونےکی صورت میں بھی قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا مذکورہ صورت میں(خواہ اقرار سچاہو یاجھوٹابہرحال) طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔
طلاق رجعی کاحکم یہ ہے کہ اس میں عدت کےاندر نکاح کےبغیررجوع کرناجائزہے۔مذکورہ صورت میں چونکہ عدت گزرچکی ہے، لہذاعورت شوہرکےنکاح سےآزاد ہے،اب رجوع نہیں کرسکتا۔البتہ طرفین باہمی رضامندی سےگواہوں کی موجودگی میں نئے مہر پردوبارہ نکاح کرناچاہیں توگنجائش ہے۔واضح رہے کہ اس کےبعد شوہرکوصرف دو طلاق کا اختیار ہے۔
حوالہ جات
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | متخصص | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


