03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی ادائیگی کونسی کرنسی میں کی جائے؟
69834خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

ایک آدمی نےایک شخص کوچند سال پہلےایک ہزار ریال قرض دیےتھے۔اب اس کی ادائیگی کرناچاہ رہاہے۔تو کیاوہ ریال ہی میں قرض کی ادائیگی کرےگا یا پاکستانی روپے میں؟ جب کہ اس وقت ریال کی قیمت پاکستانی روپے میں کم تھی اوراب  کافی زیادہ ہے؟

ایک شخص نےدوسرے کو ایک سال پہلےسریا قرض دیاتھا۔ تو اب وہ سریا ہی دےگا یااس کی جو مالیت بنتی ہےوہی دےگا؟جب کہ اس وقت سریا سستاتھا اوراب کافی مہنگا ہوچکا ہے۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت کااصل  یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی اسی کرنسی میں کی جائےجس میں مقروض شخص نےقرض وصول کیا تھا،تاہم اگر واپسی کےدن فریقین باہمی رضامندی سےکسی دوسری کرنسی میں قرض کی ادائیگی پر متفق ہوجائیں تو یہ بھی جائز ہے۔ واضح رہےکہ ایسےمیں جس دن قرض واپس کررہاہے,کرنسی کی اسی دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا،چاہے وہ کم ہو یازیادہ۔لہذا قرض کی وصولی کےوقت مارکیٹ میں اس کرنسی یعنی ایک ہزار ریال کے جو ریٹ ہوں گے وہ ادا کرنے ہونگے۔ قرض کی مالیت کے گھٹنےیابڑھنے کا شریعت نےاعتبار نہیں کیاہے۔

ایساہی سریا کاحکم بھی ہے کہ سریا ہی میں مقروض اپنا قرض ادا کرےگا۔اس کی مالیت کے گھٹنےاور بڑھنے کا اعتبار نہیں ہے،البتہ باہمی رضامندی سےادائیگی کےدن اتنےسریا کی قیمت بھی ادا کرسکتاہے۔

حوالہ جات

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 281)

(سئل) فيما إذا استدان زيد من عمرو مبلغا معلوما من المصاري المعلومة العيار على سبيل القرض ثم رخصت المصاري ولم ينقطع مثلها وقد تصرف زيد بمصاري القرض ويريد رد مثلها فهل له ذلك؟

(الجواب) : الديون تقضى بأمثالها.

البناية شرح الهداية (9/ 479)

 لأن الديون تقضى بأمثالها۔

  ضیاءاللہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

7محرم الحرام 1442ھ      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ضیاء اللہ بن عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب