03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عاریت سےمتعلق مسئلہ
69867امانت ودیعت اورعاریت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

میرے چار مرلےکےگھر میں میری بیوی نےفضائل اعمال کی تعلیم عورتوں میں شروع کردی۔ اس کےبعد ہمارےگھرمیں بچیوں کاناظرہ ،قرآن مجید پڑھایاجانےلگا اور پھر اس کےبعد ابتدائی کتابوں کی تدریس شروع ہوگئی اور گھر ایک چھوٹےسےمدرسہ کی شکل اختیار کرگیا۔کمرےمیں جگہ کم ہوگئی۔ان عورتوں میں سےایک مخیرعورت نےاپنےشوہر سےکہہ کرمیرےگھرکےاوپر دوکمرےتعمیر کروادئیےجس میں بچیاں دینی تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ایک دن میری ملاقات اس شخص سے ہوئی جس نے اوپر دو کمرے تعمیر کرکے دئیےتھے،تو میں نےاس سے کہا کہ اب اس مکان کے حصے ہوں گے۔انہوں نےکہا کہ جتنی رقم کمروں کی تعمیر پر خرچ ہوئی ہے۔اتنی رقم تم کسی یتیم بچی پر خرچ کردینا یعنی شادی کردینا۔اس مسئلےکےبارے میں شریعت کاکیا حکم ہے؟

اگر میں کل اپنےاس گھر کواپنےدو بیٹوں میں تقسیم کروں، تو اس کی کیا صورت ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں مکان کی تعمیر کےبعد اگر صاحب خیر نےحوالگی کےوقت آپ کو تعمیر عاریۃ صرف بچیوں کی تعلیم دینے کی غرض سےاستعمال کی اجازت دی تھی،تو یہ تعمیر صاحب  خیر ہی ملکیت ہے،جیسے اور جہاں وہ اس کےاستعمال کاحکم دے،اسی کی تعمیل کی جائےگی، لہذا اگر اس کی طرف سے یہ حکم ہو کہ اتنےہی اخراجات  سےجتنے اس تعمیر پر خرچ ہوگئے تھے،کسی یتیم بچی کی شادی کرلے،تو اس حکم کی تعمیل کرناجائز ہے۔ایساکرنےکےبعد آپ اس عمارت کےمالک شمار ہوں گے۔

اس پورے گھر کو دو بیٹوں کےدرمیان تقسیم کرنےکی صورت یہ ہے کہ پورے گھر کے دو حصے کیے جائیں، یعنی اگر چار مرلےہیں تو دو  مرلےایک بیٹے کو اور دومرلے دوسرے بیٹے کو دیے جائے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 370)

الباب السابع في استرداد العارية وما يمنع من استردادها) . وللمعير أن يرجع فيها أطلق أو وقت، كذا في الوجيز للكردري.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 347)

(وللمعير أن يرجع فيها) أي في العارية المطلقة أو المقيدة (متى شاء) لعدم لزومها هذا إذا لم ينقلب إجارة وإلا فلا يرجع

 (خلاصۃ الفتاوی 2/400 )

قال الامام طاھربن  عبدالرشید البخاری ؒ :وفی الفتاوی رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھمماشیئافالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ وعند ابی یوسف ؒ بینھماسواء ھوالامختارلورود الاثار،ولووھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی الاقضاءھواثمثم نص عن محمد ؒ ھکذافی العیون ،

ضیاءاللہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 11محرم الحرام 1442ھ              

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ضیاء اللہ بن عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب