| 70413 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کی خواہش کےمطابق فدوی اور بڑےبھائی نےتحریری طور لکھ کردیاتھاکہ ہم مکان میں اپناحصہ بشمول والدہ صاحبہ کاحصہ اپنی چھوٹی ہمشیرہ اور چھوٹےبھائی کودےدیں گے۔والد صاحب کی زندگی میں مناسب قیمت نہ ملنےکی وجہ سےمکان فروخت نہ ہوسکا۔علاوہ ازیں ہماری تحریر کوئی شکل قانونی بھی نہیں دی جاسکی۔والد محترم کےانتقال کےبعد بھی ہم دونوں بھائیوں اور والدہ نےاس بات کا اعاہ کیاکہ مکان جب بھی فروخت ہوگا،مکان کی رقم ہمشیرہ اورچھوٹےبھائی کےمابین آدھی آدھی تقسیم کردی جائےگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مورث کی زندگی میں کسی وارث کااپنےشرعی حق سےدستبردار ہونا شرعا معتبر نہیں،اسی طرح مورث کی موت کےبعدبھی تقسیم سےپہلےبلاعوض دستبرداری کااعتبار نہیں ہے۔البتہ جائیداد تقسیم ہونے کے بعد جب ہروارث اپنےحصےپر قبضہ کرلےپھر اگر کوئی وارث اپناحصہ کسی کودینا چاہےتو درست ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں آپ کا اور آپ کےبھائی کا والد صاحب کی زندگی میں یا وفات کےبعد مکان کے حوالے سےیہ اقرار کرناکہ"مکان جب بھی فروخت ہوگا،اس کی رقم ہمشیرہ اورچھوٹےبھائی کےمابین آدھی آدھی تقسیم کردی جائےگی"ایک وعدہ ہے اور درست ہے،لیکن اس کےصحیح کےلیےضروری ہےکہ پہلےمیراث جواب اول میں بیان کی گئی تفصیل کی مطابق تقسیم کی جائے،اس کےبعد اگردونوں بھائی اور والدہ کے حصہ میں جورقم آئی ہے،اس کووہ اپنےچھوٹےبھائی اور ہمشیرہ کو دینا چاہیں جوان کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہوتوایساکرناجائز ہے۔اگرتقسیم میں یا بیچنےمیں مشکلات ہوتواس سےپہلےدونوں بھائی اور والدہ کچھ عوض(چاہےوہ جتنابھی ہو) لےکر اپناحصہ ان دونوں کو دیدیں تو اس طرح ان کاحصہ ترکہ سےختم ہوجائےگااور مکان سارا ان دونوں کےدرمیان مشترک ہوجائےگا۔
حوالہ جات
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 208)
ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.
ضیاءاللہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
15/ربیع الاول1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ضیاء اللہ بن عبد المالک | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


