021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آباء واجداد کی آباد کی گئی زمین پر ملکیت کا دعوی
70528بنجر زمین کو آباد کرنے کے مسائلشاملات زمینوں کے احکام

سوال

اگر کوئی شخص اس زمین کی ملکیت کا دعوی کرے کہ یہ زمین میرے آباء و اجداد کی ملکیت تھی اور مجھے وراثت میں ملی ہے،دلیل یہ ہے کہ میرے آباء و اجداد اس جگہ کاشتکاری کرتے تھے،بعد میں پانی نے اس زمین کو کاٹا ہے تو کیا اس شخص کا دعوی قبول کیا جائے گا یا نہیں؟

o

جس زمین کا یہ شخص دعویدار ہے اگر یہ زمین اس کے آباء اجداد کے زمانے میں جب انہوں نے اسے آباد کیا تھا،کسی کی ملکیت نہیں تھی،نہ اس زمین کے آس پاس بسنے والے لوگوں کی کوئی منفعت اس سے وابستہ تھی اور حکومت کی طرف سے اسے آبادکرنے کی اجازت تھی تو ایسی صورت میں اس زمین کو آباد کرنے کی وجہ سے اس شخص کے باپ دادا اس زمین کے مالک متصور ہوں گے اور ان کے بعد یہ زمین ان کے ورثہ کا حق ہوگی۔

لیکن اگر اس زمین سے کسی کا شخصی حق یا عام آبادی کا حق وابستہ تھا،یا حکومت کی طرف سے اسے آباد کرنے کی اجازت نہ تھی تو پھر یہ زمین  آباد کرنے کے باوجوداس کے آباء و اجداد کی ملکیت میں  نہیں آئی اور اس کا یہ دعوی درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (4/ 195):
" ولو أقطعه السلطان أرضا مواتا أو ملكها السلطان، ثم أقطعها له جاز وقفه لها والأرصاد من السلطان ليس بإيقاف ألبتة وفي الأشباه قبيل القول في الدين أفتى العلامة قاسم بصحة إجارة المقطع وأن للإمام أن يخرجه متى شاء، وقيده ابن نجيم بغير الموات، أما الموات فليس للإمام إخراجه عنه لأنه تملكه بالإحياء فليحفظ".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله ولو أقطعه السلطان أرضا مواتا) أي من أراضي بيت المال حيث كان المقطع له من أهل الاستحقاق، فيملك رقبتها كما قدمناه أو من غير بيت المال، والمراد بإقطاعه أنه له بإحيائها على قول أبي حنيفة من اشتراط إذنه بصحة الإحياء، وهذا لا يختص بكون المحيي مستحقا من بيت المال بل لو كان ذميا ملك ما أحياه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

23/ربیع الاول1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔