021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرضعہ کی گوہی کاحکم
70644رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

 ایک مرضعہ (دودھ پلانے والی )نے دعوی کیاہے کہ فلاں لڑکے نے مجھ سے دودھ پیاہے،اورفلاں لڑکی نے بھی دودھ پیاہے۔اوربات یہ ہےکہ لڑکااورلڑکی آپس میں نکاح قائم رکھناچاہتےہیں۔جب شادی قریب الوقت ہے تومرضعہ نے دعوی کردیاکہ لڑکے نے دودھ پیاہے۔حالانکہ لڑکی کے گھروالےیقین سےکہ رہے ہیں کہ ہماری بیٹی نے فلاں عورت سے دودھ پیا ہے،اورلڑکے والےکہ رہے ہیں کہ مرضعہ نے ہمارےبیٹے کودودھ نہیں پلایا،اور لڑکی والوں کامرضعہ سے بہت سارےاختلافات چل رہےہیں،اورلڑکی والے مرضعہ کوقسم کھانے کاکہتےہیں تومرضعہ قسم بھی نہیں کھارہی،اورمرضعہ نے پہلےکبھی نہیں کہاکہ لڑکےکودودھ پلایاہےمیں نے،مگرشادی کےقریب اس مرضعہ نے دعوی کرلیاہے۔

لہٰذاآپ حضرات سے گذارش ہے کہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائیں۔

اللہ آپ حضرات کو جزائے خیردے۔

o

حرمت رضاعت کےثبوت کےلیےدو عادل مرد یاایک عادل مرداوردوعورتوں کی گواہی ضروری ہے،صرف ایک مرد یا تنہا خواتین کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی ،خصوصا جبکہ خاتون اس لڑکی اورلڑکےکےنکاح پرناخوش ہو، لہذا آپ کےبیان کےمطابق چوں کہ خاتون لڑکی کےگھروالوں سےاختلافات بھی رکھتی ہےلہذااس خاتون کی بات کاکوئی اعتبارنہیں اورشرعااس لڑکےاور لڑکی کا نکاح آپس میں درست ہے۔یادرہےکہ اگرخاتون کی بات پراطمینان ہوتوایسی صورت میں احتیاط کے طور پر الگ ہوجانابہترہے۔کیونکہ بہرحال یہ دعوی کیاجاچکاہےکہ دودھ پلایاہے،لہٰذاخدشہ ہےکہ لوگ بعدمیں باتیں کرتےرہیں گے۔

حوالہ جات

"ولا تقبل فی الرضاع الا شهادة رجلین او رجل و امراتین عدول،وفی الخانیة :۔۔۔ إذا  أراد الرجل أن یخطب امرأةفشھدت امرأةقبل النکاح أنھاأرضعتھماکان فی سعةمن تکذیبھا، کما لو شھدت بعدالنکاح ".(الفتاوی التاتارخانیة:240/3)
"قال - رحمه الله - (ويثبت بما يثبت به المال) أي يثبت الرضاع بما يثبت به المال وهو شهادة رجلين أو رجل وامرأتين،...وما ذهبنا إليه مذهب عمر وعلي وابن عباس أجمعين وكفى بهم قدوة، وحديث عقبة حجة لنا أيضا فإنه - عليه الصلاة والسلام - أعرض عنه مرتين فلو كانت الحرمة ثابتة لما فعل ذلك، ثم لما رأى منه طمأنينة القلب إلى قولهما حيث كرر السؤال أمره أن يفارقها احتياطا والدليل عليه أن الشهادة كانت عن ضغن فإنه قال جاءت امرأةسوداء تستطعمنا فأبينا أن نطعمها فجاءت تشهد على الرضاع وبالإجماع بمثل هذه الشهادة لا تثبت الحرمة فعرفنا أن ذلك كان تنزها وإليه أشار - عليه الصلاة والسلام - بقوله «كيف وقد قيل»، ونحن نقول بالتنزه إذا وقع في قلبه أنها صادقة.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشِّلْبِيِّ:188/1)
"وأما بيان ما يثبت به الرضاع أي: يظهربه فالرضاع يظهر بأحد أمرين: أحدهما الإقرار والثاني البينة. أما الإقرار فهو أن يقول لامرأة تزوجها: هي أختي من الرضاع أوأمي من الرضاع أو بنتي من الرضاع ويثبت على ذلك ويصبرعليه فيفرق بينهما؛ لأنه أقر ببطلان ما يملك إبطاله للحال فيصدق فيه على نفسه،.......وأما البينة: فهي أن يشهد على الرضاع رجلان أو رجل وامرأتان ولا يقبل على الرضاع أقل من ذلك ولا شهادة النساء بانفرادهن.وهذا عندنا....... ولناماروى محمد عن عكرمة بن خالد المخزومي عن عمر - رضي الله عنه - أنه قال: لا يقبل على الرضاع أقل من شاهدين وكان ذلك بمحضر من الصحابة ولم يظهر النكير من أحد؛ فيكون إجماعا ولأن هذا باب مما يطلع عليه الرجال فلايقبل فيه شهادة النساء على الانفراد كالمال".
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:14/4)

    ذیشان گل بن انارگل

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

1ربیع الثانی1442ھ

n

مجیب

ذیشان گل بن انار گل

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔