021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کا مطالبہ کرنے کے باوجود بیوی کو مہر لینے کا حق ہے
70692نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں حضراتِ مفتیانِ کرام اِس مسئلے میں کہ اگر عورت اپنے شوہر سے شرط لگائے کہ فلاں جگہ مجھے گھر بنا کر دو۔ نہیں بنا سکتے تو مجھے طلاق دے دو۔ اِس صورت میں اگر آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو شوہر کو مہر دینا پڑے گا یا عورت پیسے دے گی؟

مسئلے کا حل مطلوب ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔

o

مذکورہ صورت میں اگر شوہر نے بیوی کے کہنے پر اُسے طلاق دے دی تو اُسے بیوی کو مہر دینا پڑے گا۔ اگر رخصتی سے پہلے طلاق دی اور مہر متعین تھا تو اُس کا آدھا دینا پڑے گا اور اگر رخصتی کے بعد طلاق دی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر مہر متعین نہیں تھا تو رخصتی کے بعد طلاق دینے کی صورت میں مہرِ مثل اور رخصتی سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں متعہ دینا پڑے گا۔ اور اِس صورت میں اُسے بیوی سے کچھ بھی لینے کا حق نہیں ہوگا۔

کسی بھی لڑکی کا مہرِ مثل وہ مہر کہلاتا ہے جو اُس کے والد کے خاندان کی لڑکیوں کا عام طور سے رکھا جاتا ہو اور متعہ اُن کپڑوں کو کہا جاتا ہے جو کوئی خاتون عام طور سے باہر نکلتے وقت پہنتی ہے۔ اِس کی کم سے کم مقدار تین کپڑے ہے: قمیص، دوپٹہ اور بڑی چادر۔ اور عرف کے اعتبار سے اِس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصکفي:و یجب (الأکثر منھا إن سمی) الأکثر ویتأکد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدھما)...... ویجب النصف بطلاق قبل وطء أو خلوة.(الدر المختار مع رد المحتار:4/233(
وقال أیضا: (وکذا یجب) مھر المثل (فیما إذا لم یسم)مھرا (أو نفی إن وطئ) الزوج (أو مات عنھا). (الدر المختار مع رد المحتار:4/242)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: والمعنی أنہ إذا أردنا أن نعرف مھر مثل امرأة تزوجت بلا تسمیة مثلا ننظر إلی صفاتھا وقت تزوجھا من سن وجمال الخ، وإلی امرأة من قوم أبیھا کانت حین تزوجت في السن والجمال. (رد المحتار:4/210(
قال جماعة من العلماء رحمھم اللہ تعالی: ومھر مثلھا یعتبر بقوم أبیھا إذا استویا سنا وجمالا وبلدا وعصرا ودینا وبکارة....... وقوم أبیھا أخواتھا لأبیھا وأمھا أو لأبیھا وعماتھا وبنات عمھا، ولا یعتبر مھرھا بمھرھا أمھا إلا أن تکون أمھا من قوم أبیھا بأن کانت بنت عم أبیھا، کذا في المحیط. (الفتاوی الھندیة:1/337)
قال العلامة الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: وھي درع وخمار وملحفة لا تزید علی نصفہ.
(الدر المختار مع رد المحتار:4/179)
وقال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی تحتہ: قال فخر الإسلام: ھذا في دیارھم، أما في دیارنا فیزاد علی ھذا إزار ومکعب، کذا في الدرایة، ولا یخفی إغناء الملحفة عن الإزار، إذ ھي بھذا التفسیر إزار إلا أن یتعارف تغایرھما کما في مکة المشرفة، ولو دفع قیمتھا أجبرت علی القبول کما في البدائع. (نھر) وما ذکر من الأثواب الثلاثة أدنی المتعة.. شرنبلالیة عن الکمال. وفي البدائع: وأدنی ما تکتسي بہ المرأة وتستر بہ عند الخروج ثلاثة أثواب اھ.
قلت: ومقتضی ھذا مع ما مر عن فخر الإسلام من أن ھذا في دیارھم الخ، أن یعتبر عرف کل بلدة لأھلھا فیما تکتسي بہ المرأة عند الخروج. تأمل.
ثم رأیت بعض المحشین قال: وفي البرجندي قالوا: ھذا في دیارھم، أما في دیارنا فینبغي أن یجب أکثر من ذلك؛ لأن النساء في دیارنا تلبس أکثر من ثلاثة أثواب فیزاد علی ذلك إزار ومکعب اھ. (رد المحتار:4/179)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

 7ربیع الثانی  1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔