021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی وقف اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانا
71092وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

مسجد کے لیے جوچیزیں وقف  کی جاتی ہیں،کبھی کبھی ضرورت پڑتی ہے تو امام صاحب یا مؤذن صاحب اس چیزکو مسجد کے ساتھ والے کمرے میں ذاتی استعمال  کے لیے لاتے ہیں ،ایسا کرنا درست ہے؟

o

وقف کرنے والوں کی جانب سے اجازت کی تصریح ہویا عرفا اجازت سمجھی جاتی ہوتو کرسکتے ہیں،ورنہ جائز نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (2/ 463):
وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة.
ولو شرط الواقف في الوقف الصرف إلى إمام المسجد وبين قدره يصرف إليه إن كان فقيرا وإن كان غنيا لا يحل وكذا الوقف على الفقهاء المؤذنين، كذا في الخلاصة.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

25/جمادی الاولی1442ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔