021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق دینے کا حکم
71249طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

  میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے 2020کے مارچ کے مہینےمیں غصہ میں کہا تھا کہ تم مجھ پر حرام ہو ایسا انہوں نے دو بار کہااور اس سے پہلے انہوں نےاپنے والد کے  سامنے کہا  تھا کہ میں اس کو طلاق دیتا ہوں۔یہ مسئلہ ہم نے خودجامعۃ الرشید  آکر مفتی عابد شاہ صاحب سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ طلاق ہوگئی ہے اب اگر آپ کی بیوی راضی ہے تو نیا نکاح ہوگا۔لیکن مفتی صاحب! میں اب ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔اب تو منظور مفتی صاحب کی بات کوبھی نہیں مان رہا جن کے سامنے مفتی صاحب نے کہاتھا کہ طلاق ہوگئی ہے۔اب مجھے تحریری فتوی چاہیےتاکہ میں اپنی زندگی بہتر طریقے سے اپنے بچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کے گھر گزار سکوں۔

آخری بار 29 اکتوبر کو میرے گھر والوں کے سامنے فون پراپنے حوش وہواس میں  کہا تھا کہ میں طلاق دیتا ہوں۔اس حساب سے بھی میں تین مہینے ایام حیض نہا چکی ہوں ۔اب آپ شریعت کے حساب سے مجھ سے متعلق اللہ کاجو  حکم ہووہ بتادیں۔

تنقیح:سائلہ نے فون پر بتایا کہ 29 اکتوبر کو ان کے سابقہ شوہر نےفون پر جوطلاق دی تھی وہ خود انہوں نے سنی ہےاور گھر والوں نے بھی سنی ہے۔

o

صورتِ مسئولہ میں آپ کا سابقہ شوہرآپ کو تین مرتبہ طلاق دے چکا ہے،پہلی مرتبہ میں ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ کے الفاظ سے اور دو  سری مرتبہ ’’ تم مجھ پر حرام ہو‘‘  کے الفاظ سے ، اور تیسری مرتبہ فون پر ’’طلاق دیتا ہوں ‘‘کے الفاظ سے، لہذا اگر یہ بات درست ہے کہ آپ کے شوہر نے آپ کو فون پر تیسری طلاق بھی دی ہےتوآپ پر  تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور نکاح ختم ہوکرحرمت ِمغلّظہ ثابت ہوگئی ہے۔اب رجوع بھی نہیں ہوسکتا ہےاور حلالہ  شرعیہ )عورت کی عدتِ طلاق گزرنے کے بعدکسی دوسرے شخص سےاس کا  نکاح ہوجائےاوردوسرا شوہرجماع یعنی ہمبستری کے بعد اس کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا ہمبستری کے بعداس شوہر کا انتقال ہوجائے( کےبغیرآپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ۔البتہ دوسری جگہ جہاں آپ چاہیں نکاح کرسکتی ہیں اور چونکہ ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق آپ کی عدت بھی گزر چکی ہے ۔ لہذا آپ والدین کے  پا س  رہ سکتی ہیں، سابقہ شوہر کے پاس رہنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

البقرة :[230]
}فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ }
صحيح البخاري -751/3)
حدثني محمد بن بشار قال حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته (امرأة) ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي ﷺ أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
البناية شرح الهداية (5/ 474)
(وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 29)
وأما كناياته : فلا يقع بها إلا بالنية ديانة سواء كان معها مذاكرة الطلاق أو لا والمذاكرة إنما تقوم مقام النية في القضاء إلا في لفظ الحرام فإنه كناية ولا يحتاج إليها فينصرف إلى الطلاق إذا كان الزوج من قوم يريدون بالحرام الطلاق
الفتاوى البزازية (3/ 18)
قال الزوج أنت على حرام أو بائن مني فواحدة بائنة وإن نوى ثلاثاً.

محمداشفاق

          دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

            ۹جمادی الثانیہ ۱۴۴۲؁ھ

n

مجیب

محمد اشفاق بن عبد الغفور

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔