021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکم نکاح الأب المعروف بسوء الاختیارابنتة الصغیرة من غیر کفؤ
71075نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

ماذا یقول العلماء والمفتون فی المسئلة التالیة:

ھناک اب زوج ابنتہ الصغیرة التی لم تبلغ بعد من رجل کبیر السن غیر کفؤ لھا ،متزوج من قبل ولہ اولاد ذکورواناث بغرر المال،والبنت غیر رشیدة لاتتحمل  الزواج ،صغیرة فی العمروالجسم والاب سییٴ الاختیارو عدم شفقة الاب علیھاظاھرة.ماھوموقف الشرع الإسلامی من ھذا النکاح؟ھل القاضی یبطل ھذا النکاح؟  ومن لہ حق الدعوی والفسخ؟

o

 إذا کان الواقع کماذکرہ المستفتی ان الاب المذکورمعروف بسوء الاختیار وقد زوج إبنتہ الصغیرة برجل کبیر السن ،غیر کفؤ لها  فا لنکاح المذکورباطل لم ینعقد ،فلاحاجة الی فسخہ ولا إلی قضاء القاضی لأنہ حسب تصریحات الفقھاء لم ینعقد أصلا.

نعم اذا کان الجانب الاخرظالماوعندھم قوة لایرضون بھذا الحکم الشرعی فحینئذیجوز لأولیاء الصغیرة المذکورة الاستفادة  من المحاکم المتواجدة فی ذلک البلداستخلاصا للصغیرة  المسکینة ودفعا للشروالفساد.

حوالہ جات

وفی الفتاویٰ الخیریۃ (ص۲۳) باب الأولیاء والأکفاء:
 (سئل) فی الأب إذ اعلم منہ سوء الاختیار وعدم النظر فی العواقب إذا زوج ابنتہ القابلۃ للتخلق بالخیر والشر بغیر کفؤھل یصح ام لا (اجاب) قال ابن فرشتہ فی شرح المجمع لو عرف من الأب سوء الاختیار لسفھہ او لطمعہ لا یجوز عقدہ اتفاقا ومثلہ فی الدرر والغرر وقال فی البحر فی شرح قول الکنز ولو زوج طفلہ غیر کفوء أو بغبن فاحش صح ولم یجز ذلک لغیر الاب والجد اطلق فی الأب والجد وقیدہ الشارحون وغیرھم بأن لایکون الأب معروفا بسوء الاختیار حتی لو کان معروفا بذلک مجاناأو فسقا فالعقد باطل علی الصحیح۔
وفی الشامیۃ (۶۶/۳):
وفي شرح المجمع حتى لو عرف من الأب سوءالاختيار لسفهه أو لطمعه لا يجوز عقده إجماعا اھ۔
وفی منحۃ الخالق (۲۳۶/۳):
قولہ (یعنی لو زوج الأب الصاحی) قال الرملی: لوزاد علی ھذا الذی لم یعرف بسوء الاختیار لکان أولی ۔۔۔ وما ھنا فی نفی الجواز عند فقد الشرط المذکور ومقتضاہ أنہ لو کان معروفا بسوء الاختیار فزوج من کفوء بمھر المثل یصح إذ لم یظھر منہ ما ینافی الشفقۃ الخ۔
وفی کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعۃ۴/۳
أحدهمااذا زوجهم الأب والجد ، فلا خیار لہا بعد بلوغہا بشرطین: أن لا یکون معروفاً بسوئ الاختیار قبل العقد ، ثانیہما: أن لا یکون سکرانا فیقضی علیہ سکرہ بتزویجہا بغیر مہر المثل أو فاسق أو غیر کفوئ۔    
وفی مصنف ابن ابی شیبہ : ۴/۱۴۱ 
اذا الرجل زوج ابنہ أو ابنتہ، فالخیار لہما اذا شبا.
وفی الدر المختار
( لم یعرف منما سوء الاختیار) مجانۃ وفسقا (وان عرف لا) یصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران فزوجھا من فاسق أو شریر أو فقیر أو ذی حرفۃ دنیئۃ لظھور سوء اختیار فلا تعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر وقال لاشامی والحاصل ان المانع ھو کون الأب مشھوراً بسوء الاختیار قبل العقد فاذا لم یکن مشھورا بذلک ثم زوج بنتہ من فاسق صح وان تحقق بذلک انہ سییٔ الاختیار شامی .
وفی الھندیۃ (۲۹۴/۱)(النکاح، باب الخامس فی الاکفاء):
 والخلاف فيما إذا لم يعرف سوء اختيار الأب مجانة أو فسقا أما إذا عرف ذلك منه فالنكاح باطل إجماعا وكذا إذا كان سكران لا يصح تزويجه لها إجماعا كذا في السراج الوهاج.
لو عرف من الأب سوء الاختیار وعدم النظر فی العواقب ۔ ۔ ۔  لا یجوز عقدہ اتفاقاً ومثلہ فی الدر والغرر۔ وقع فی أکثر الفتاویٰ فی هذا المسئلۃ ان النکاح باطل ۔ ۔ ۔ أی یبطل( فتاویٰ خیریہ ص۲۳)
قال الشیخ رشیداحمد اللدھیانوی فی کشف الغبارعن مسئلة سوءالاختیار:
سیئ الاختیارباپ نے صغیرہ کا نکاح غبن فاحش سے کیا یا غیرکفؤمیں کی تویہ نکاح موقوف نہیں،بلکہ منعقد ہی نہیں وا ،اس لیے بالکل باطل اورکالعدم ہے۔﴿کشف الغبارعن مسئلة سوءالاختیار،احسن الفتاوی 5/118 تحت عنوان "سیٴ الاختیارکا نکاح باطل ہے"﴾
قال الشیخ المفتی محمدتقی العثمانی فی فتاوی عثمانی ﴿ 2/ 383﴾
احقر نے احسن الفتاویٰ جلد پنجم میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب دامت برکاتہم کا تحریر فرمودہ رسالہ’’ کشف الغبار عن مسئلۃ سوء الأختیار‘‘کا مطالعہ کیا ، اور متعلقہ عبارات پر غور کیا ، حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے اس رسالہ میں جو تحقیق فرمائی ہے ، وہ درست ہے، اس کے مطابق سوء الاختیارکی صورت میں جو نکاح غیر کفو یا غبن فاحش کے ساتھ کیا گیا ہو ، وہ اصلا ہی باطل ہے اور غیر منعقد ہے ، لہٰذا اس کے فسخ کے لئے قضا ء قاضی کی ضرورت نہیں۔
وفی الحیلة الناجزة للحلیة العاجزة﴿ص:92ط دارالاشاعت﴾
غیرکفؤ کے ساتھ اورغبن فاحش پرنکاح کے صحیح ہونے کےلیے دوشرطیں ہیں: اول یہ کہ وہ شخص ہوش حواس سالم رکھتاہوپس اگر نشہ کی حالت میں ایسا کیا گیا تونکاح بالکل ہی باطل ہے۔ دوسری شرط یہ ہےکہ معروف بسوء الاختیارنہ ہویعنی اس کے قبل کوئی واقعہ ایسا نہ ہوا ہو جس کی بناء پر عموما خیال کیاجائے کہ یہ شخص لالچ وغیرہ کی وجہ سے مصلحت اورانجام بینی کو مد نظر نہیں رکھتا پس اگر کوئی شخص لالچ اورناعاقبت اندیشی کے بدتدبیری میں مشہورومعروف ہووہ اگر نابالغ بیٹے یا بیٹی کانکاح  غیر کفو سےکردے یا مہر میں غبن فاحش کردے توہ نکاح بھی بالکل باطل ہے ۔
وفی المجموع لمحي الدين النووي - (ج 16 / ص 198)
ولا يزوج ابنته الصغيرة بشيخ هرم، ولا بمقطوع اليدين والرجلين، ولا بأعمى ولا زمن ولا بفقير وهى غنية، فإن فعل ذلك فسخ.

  سیدحکیم شاہ عفی عنه

دارالافتاء جامعة الرشید                                                                                                                                               

   26 /5/1442ھ 

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔