| 71162 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
معاملہ میرے بھائی کا یہ ہے کہ وہ گاڑیوں کی بکنگ کے لیے لوگوں سے ادھار پر رقم لیتا اور اُس پر کچھ عرصے بعد جب اُس کو بکنگ کی رقم مل جاتی، وہ رقم واپس کردیتا اور رقم پر اُن لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا کہ دو یا تین فیصد اضافی رقم دوں گا۔ شرعی طور پر یہ معاملہ کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرض پر اضافی رقم دینے کا معاہدہ کرنا سود اور حرام ہے۔ لہذا سوال میں ذکر کردہ معاملہ کرنابالکل درست نہیں۔ اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار اور آیندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: (کل قرض جر نفعا حرام) أي إذا کان مشروطا، کما مما نقلہ عن البحر. (رد المحتار:7/395)
صفی ارشد
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
3/جمادی الثانیہ/ 1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی | مفتیان | ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب |


