| 71143 | نکاح کا بیان | نکاح کی وکالت کابیان |
سوال
میرا نکاح ایسے ہوا تھا کہ لڑکی نے مجھے وائس میسج کے ذریعے وکیل بنایا تھا (اس طرح: "وقاص میں آپ کو اختیار دیتی ہوں کہ آپ 50 ہزار حق مہر کے بدلے اپنا نکاح مجھ سے کروادیں")، اس کے بعد میں نکاح کی مجلس میں گیا، وہاں پر میرے تین دوست گواہ تھے اور ایک جو قاضی تھے وہ مدرسے کے طالب علم تھے۔ میرے دوست اور قاضی سب لڑکی کو نام سے جانتے تھے کبھی دیکھا نہیں تھا، بس سب کو لڑکی کا نام اور یہ پتہ تھا کہ میں لڑکی کو پسند کرتا ہوں، یعنی گواہ اور قاضی لڑکی کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے تھے۔
(اب مجلس نکاح میں لڑکی کا وکیل بھی میں تھا اور دولہا بھی میں تھا) نکاح پڑھانے والے نے مجھ سے پہلے لڑکی کی اجازت لی، میں نے دے دی، خطبہ نکاح ہوا، پھر قاضی صاحب (جو میرے دوست تھے اور تین گواہ بھی میرے دوست تھے) نے گواہوں کے سامنے اس لڑکی اور اس کے والد کا نام لیا اور پھر میرا اور میرے والد کا نام لے کر مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں میرے نکاح میں دے دیا، میں نے قبول کر لیا۔
ہمارا نکاح ولی کے اجازت کے بغیر تھا لیکن کفو میں تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اس طریقے سے ہمارا نکاح منعقد ہو گیا ہے یا نہیں؟
بہشتی زیور میں ایک مسئلہ لکھا ہے کہ گواہوں کا لڑکی کو جاننا ضروری ہے۔ اس مسئلے کے جاننے کے بعد میں نے جامعۃ الرشید کے ایک مفتی صاحب کو فون کر کے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ نکاح نہیں ہوا ہے کیونکہ گواہ لڑکی کو نہیں جانتے تھے۔
اس حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ جب میں خود قبول کرنے والا اور میں ہی لڑکی کا وکیل تھا، لڑکی کی نمائندگی کر رہا تھا، مجلس نکاح میں میں نے نکاح ہوتے دیکھا، نکاح بھی مجھ سے ہوا، تو یہ نکاح کیوں صحیح نہیں؟ بھلے سے گواہ لڑکی کو بس نام سے جانتے تھے، لیکن میں لڑکی کا وکیل خود تو موجود تھا، نکاحِ مجلس میں میرے سامنے نکاح ہوا۔
اب یہ نکاح درست ہے یا نہیں، اس کا صحیح اور مدلل جواب عنایت فرما دیں کہ کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے، کیونکہ یہ نکاح کا مسئلہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ذکر کردہ نکاح درست نہیں، اس لیے کہ نکاح میں دی جانے والی عورت کی بخوبی پہچان ضروری ہے، کسی قسم کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہنا چاہیے۔ اگر گواہ اس عورت کو اچھی طرح جانتے ہوں تو نکاح کے وقت اس کا نام اور اس کے والد کا نام ذکر کرنا کافی ہوتا ہے، لیکن اگر گواہ نہ جانتے ہوں تو پہچان کرانے کے لیے اس عورت کا نام، اس کے والد کا نام، اس کے دادا کا نام اور دیگر ضروری معلومات ذکر کرنا بھی ضروری ہیں، تاکہ اچھی طرح پہچان ہو سکے، کیونکہ نکاح کرنے اور گواہی قائم کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ لوگوں کو یہ علم ہو سکے کہ فلاں عورت فلاں مرد کے نکاح میں ہے۔
نکاح کے بارے میں شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ اس کو چھپ چھپا کر نہ کیا جائے بلکہ اعلانیہ اور زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نکاح علی الاعلان مسجد میں کیا کرو۔ دوسری حدیث میں فرمایا کہ ولی (سرپرست) کی رضامندی اور دو عادل گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ ایک اور روایت میں فرمایا کہ زنا اور نکاح میں فرق یہی ہے کہ نکاح سر عام ہوتا ہے اور زنا چھپ کر۔
بہتر یہ ہے کہ فریقین دوبارہ باقاعدہ نکاح کی مجلس منعقد کر کے سرپرستوں کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب وقبول کریں، اس طریقے سے نکاح کرنے میں دنیا کا سکون بھی ہے اور آخرت کا نفع بھی۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 390)
عن عائشة قالت: [ص:391] قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف»: «هذا حديث غريب حسن في هذا الباب،»
مسند أبي داود الطيالسي (3/ 72)
عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا نكاح إلا بولي، وأيما امرأة نكحت بغير ولي فنكاحها باطل باطل باطل، فإن لم يكن لها ولي فالسلطان ولي من لا ولي له»
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 203)
عن الحسن، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل نكاح إلا بولي وصداق وشاهدي عدل "، قال الشافعي رحمه الله: " وهذا وإن كان منقطعا دون النبي صلى الله عليه وسلم فإن أكثر أهل العلم يقول به، ويقول: الفرق بين النكاح والسفاح الشهود " قال المزني ورواه غير الشافعي رحمه الله عن الحسن، عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14)
ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهرنعم يصح الحط كزيادة قبلتها في المجلس، وأن لا يكون مضافا ولا معلقا كما سيجيء، ولا المنكوحة مجهولة، ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل الخ
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 21)
[تنبيه]
أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها. فإن لم يروا شخصا وسمعوا كلامها من البيت، إن كانت وحدها فيه جاز، ولو معها أخرى فلا لعدم زوال الجهالة وكذا إذا وكلت بالتزويج فهو على هذا. اهـ. أي إن رأوها أو كانت وحدها في البيت يجوز أن يشهدوا عليها بالتوكيل إذا جحدته، وإلا فلا لاحتمال أن الموكل المرأة الأخرى، وليس معناه أنه لا يصح التوكيل بدون ذلك وأنه يصير العقد عقد فضولي فيصح بالإجارة بعده قولا أو فعلا لما علمته آنفا فافهم. ثم قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها. وجوز الخصاف النكاح مطلقا، حتى لو وكلته فقال بحضرتهما زوجت نفسي من موكلتي أو من امرأة جعلت أمرها بيدي فإنه يصح عنده. قال قاضي خان: والخصاف كان كبيرا في العلم يجوز الاقتداء به وذكر الحاكم الشهيد في المنتقى كما قال الخصاف. اهـ.
قلت: في التتارخانية عن المضمرات أن الأول هو الصحيح وعليه الفتوى، وكذا قال في البحر في فصل الوكيل والفضولي أن المختار في المذهب خلاف ما قاله الخصاف، وإن كان الخصاف كبيرا. اهـ. وما ذكروه في المرأة يجري مثله في الرجل ففي الخانية قال الإمام ابن الفضل إن كان الزوج حاضرا مشارا إليه جاز ولو غائبا فلا ما لم يذكر اسمه واسم أبيه وجده، قال والاحتياط أن ينسب إلى المحلة أيضا، قيل له فإن كان الغائب معروفا عند الشهود؟ قال، وإن كان معروفا لا بد من إضافة العقد إليه، وقد ذكرنا عن غيره في الغائبة إذا ذكر اسمها لا غير وهي معروفة عند الشهود وعلم الشهود أنه أراد تلك المرأة يجوز النكاح. اهـ.
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس. اهـ.
ناصر خان مندوخیل
دارالافتا ءجامعۃالرشید
10 جمادی الثانی 1442 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ناصر خان بن نذیر خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


