021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا سر ڈھانپنا ضروری ہے
71194جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

میں نے سنا ہے کہ عورت کا سر ڈھانپنا فرض نہیں ہے، جبکہ سعودی عرب میں سر کے بالوں کو بہت سختی سے ڈھانپنے کا حکم دیتے ہیں۔ اِس بارے میں وضاحت فرمائیں۔

o

عورت کا سر اور اُس کے بال ستر میں داخل ہیں، لہذا نامحرم کے سامنے سر اور بالوں کو ڈھانپنا واجب ہے۔

حوالہ جات

قال الإمام الجصاص رحمہ اللہ تعالی: والثاني: أن رأس المرأة عورة، ويجب ستره في الصلاة.(شرح مختصر الطحاوي: 1/699)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: (و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة. مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة. قيل: والقدم والذراع إذا أجرت نفسها للخبز. تتارخانية... (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة، وإلا فحرام، وهذا في زمانهم. وأما في زماننا، فمنع من الشابة. قهستاني وغيره.(الدر المختار: 6/370)
قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: والأصح أن كل عضو لا يجوز النظر إليه قبل الانفصال لا يجوز بعده كشعر رأسها وقلامة رجلها وشعر عانتها، كذا في الزاهدي.(الفتاوی الھندیۃ: 5/329)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

10/جمادی الثانیہ/1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔