| 71660 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
تبلیغی جماعت کی مختلف تشکیلیں ہوتی ہیں، ان میں سے ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ مقامی مرکز(وطن اصلی) سے ایک تشکیل مسافتِ سفر سے کم مقام کےلیے ہوتی ہےاورپندرہ دن سے کم کی ہوتی ہے، یہ چھوٹی تشکیل کہلاتی ہے، جبکہ دوسری بڑی تشکیل اسی مقامی مرکز سے اسی وقت دوسرے ایسے مقام کےلیے کی جاتی ہےجو مقامی مرکز سے مسافتِ سفر پرواقع ہوتاہے ،یہ جماعت پہلے چھوٹی تشکیل کے مقام پر جاتی ہے اورپھرمطلوبہ مدت(پندرہ سے کم) گزارکرپھر وہاں سے بڑی تشکیل کےلیے نکل جاتی ہے،اب سوال یہ کہ چھوٹی تشکیل کے مقام تک جاتے وقت اورچھوٹے تشکیل کے مقام پر یہ جماعت مسافرشمار ہوگی یا مقیم؟ قصرکرے گی یا اتمام؟
ایک مفتی صاحب کی رائے یہ ہے کہ چھوٹی تشکیل کے مقام تک جانے اوروہاں رہنے کے دوران یہ جماعت مقیم ہوگی، قصرنہیں کرے گی، اس لیے کہ مقامی مرکز(وطن اصلی،جہاں پہ جماعت مقیم ہے)سے چھوٹی تشکیل کے لیے خروج یہ بڑی تشکیل کےلیے قصدِسفرنہیں ہے، لہذا قطعِ اقامت نہیں ہوا، لہذا یہ جماعت بدستورپہلے مقام پر جاتے وقت راستے میں اورچھوٹی تشکیل کے مقام پر مقیم رہے گی۔ پھرچھوٹی تشکیل کے مقام سے اگرچہ قصدِسفرالی المقام الثانی ہوجاتاہے، مگر قصدچونکہ یک بارگی شرط ہے، جو یہاں نہیں ہے، کیونکہ مقامی مرکزسے پہلےصرف چھوٹی تشکیل کی جگہ کا قصد تھا اورپھر وہاں سے بڑی تشکیل کے مقام کا،لہذا یہ قصد یک بارگی نہ ہوا، باقی چھوٹی تشکیل کے لیے خروج یہ بڑی تشکیل کےلیے قصدِ سفر نہیں؟ اس کی درج ذیل وجوہات بھی ہیں:
1۔تشکیل ہونے میں اگرچہ دونوں تشکیلیں مساوی ہیں، مگرہر تشکیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے۔
2۔ دونوں کا پرچہ اور رُخ وغیرہ مستقل ہوتا ہے۔
لہذا اس کو استراحاتِ معتادہ فی السفرنہیں کہاجاسکتا،یہ مستقل تشکیل ہے، مرکزسے نکلتے وقت بڑی تشکیل کے لیےقصدِسفر کے تحقق کا قول کرنا محلِ نظرمعلوم ہوتا ہے۔
مذکورہ بالاتفصیل تو اس وقت ہےجب دونوں تشکیلوں کی سمت (مثلاً:مشرق) ایک ہو اور پھر رخ الگ الگ ہو ، يعنی شمال مشرق اوردوسرے کا جنوب مشرق ہے،اس میں ایک اورصورت یہ ہوتی ہے کہ دونوں تشکیلیں بالکل مخالف سمت میں ہوں، یعنی چھوٹی تشکیل کا مقام مشرق میں ہو اوربڑی تشکیل کا مقام بالکل مغرب میں ہو اورارادہ ہوکہ پہلے مشرقی جانب جائیں گے،جوکہ مسافتِ سفر سے کم پرہے اورپھر مغربی جانب جائیں گے، جوکہ مدتِ مسافت پر ہے،اس میں مذکورہ بالاوجوہات کے علاوہ یہ وجہ بھی ہے کہ چھوٹی تشکیل بڑے تشکیل کےطریق پر واقع نہیں توپھر یہ اس بڑی تشکیل کا جزء کیسے ہوگا؟ بڑی تشکیل کے لیے یہاں سےقصدِ سفر کا تحقق کیونکر ہو گا؟ نیز جہاں قصد اوراتمام کے حوالےسے اشتباہ کی صورت ہوتو وہاں اتمام راجح ہوتاہے ،کما فی الشامی، لہذا یہ جماعت چھوٹی تشکیل کے مقام کےلیےجاتے ہوئےراستےمیں بدستورمقیم رہے گی اوراسی طرح چھوٹی تشکیل کے مقام پربھی مقیم رہے گی۔
مذکورہ بالاتفصیلات کی روشنی مجھے درج ذیل سولات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔چھوٹی تشکیل کے مقام تک جاتے وقت اورچھوٹی تشکیل کے مقام پر یہ جماعت مسافرشمار ہوگی یا مقیم؟
2۔ مقامی مرکزسےچھوٹی تشکیل کے جگہ کےلیے نکلنے سے بڑی تشکیل کے سفرکا تحقق ہوجاتاہے یانہیں؟
3۔ تشکیلوں کے دونوں مقام اگر بالکل مخالف سمت میں واقع ہوں یعنی چھوٹی تشکیل بڑے تشکیل کےطریق پر واقع نہ ہو اورنہ ہی اس سمت میں واقع ہو توپھر یہ پہلی تشکیل بڑی تشکیل کا جزء ہوگی یانہیں؟
4۔ مقام اشتباہ میں اگراتمامِ صلوة قصر پرراجح ہوتا ہے تواس جزئیہ کی روسے کیا مسئولہ صورت میں اتمام اولی نہیں ہوگا؟
5۔ اگر چھوٹی تشکیل پندرہ دن کے لیے مسافتِ سفر سے کم پر ہو تو ایسی صورت میں راستے پر اور مقام پر بھی اتمام ہو گا اور یہ سابقہ اقامت کے لیے قاطع نہ ہو گی اور اس تشکیل کی وجہ سے بڑی تشکیل کے قصدِ سفر کا تحقق نہیں کہا جاتا، اب اس صورت میں چھوٹی تشکیل کو بڑی تشکیل کے لیے قاطعِ سفر کیوں نہیں سمجھا جاتا؟جبکہ اگر پندرہ دن سے کم کے لیے ہو تو اس کو قاطعِ اقامت سمجھ کر دوسری تشکیل کے لیے قصدِ سفر کو معتبر مانا جاتا ہے، ان دونوں صورتوں میں وجہ فرق کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالات کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید دو مقدمات سمجھنا ضروری ہیں:
مقدمہ نمبر1:
تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض حضرات سے معلوم ہوا کہ چھوٹی اور بڑی دونوں تشکیلیں ایک ہی مرکز سے ہوتی ہیں، جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہے، البتہ چھوٹی تشکیل مقصودی تشکیل نہیں ہوتی، بلکہ اصل مقصود دوسری تشکیل میں بتائے گئے مقام پر جا کر کام کرنا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ چھوٹی تشکیل کو راستے کی تشکیل کہا جاتا ہے، کیونکہ اکابرینِ تبلیغ کی طرف سے جماعت کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ راستے میں کام کرتے ہوئے جانا ہے، جس کے لیے چھوٹی تشکیل کسی نزدیکی علاقے میں کی جاتی ہے اور یہ تشکیل عام طور پر بڑی تشکیل کے رُخ پر ہی ہوتی ہے، گویا کہ چھوٹی تشکیل کا مقصد راستے میں کام کرنا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مقامی مرکز سے نکلتے ہی دوسری تشکیل کے مقام کا قصدِ سفرمتحقق ہوجاتا ہے۔
مقدمہ نمبر2:
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ سفرِشرعی کے تحقق کی تین شرائط ہیں:
الف:قصدِ سفر کا ہونا (کیونکہ کبھی آدمی بغیر قصد کے بھی کافی سفر طے کر جاتا ہے)
ب: اڑتالیس میل يا اس سے زياده مسافت پر جانے كا ارادہ ہونا۔
ج: منزلِ مقصود پرپہنچنے کے بعد پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہونا۔
مذکورہ بالا تین شرطوں کے ساتھ اگر کوئی شخص سفر کرے تو وہ شرعاً مسافر سمجھا جاتا ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو وہ شخص مسافر نہیں ہوتا، بلکہ مقیم شمار ہوتا ہے، نیز سفر کے تحقق کے لیے یک بارگی سفر کرنا اور ایک ہی راستے پر سفر کرنا بھی ضروری نہیں، بلکہ اصل چیز قصدِسفر کا ہونا ہے،چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اڑتالیس میل سے کم مسافت پر جائے، وہاں جا کر اس کا کسی دوسرے شہرجانے کا ارادہ بن جائے، جبکہ دوسرا شہرپہلے مقام سے شرعی مسافت پر اور دوسرے مقام سے شرعی مسافت پر نہ ہو،پھراسی طرح وہاں سے شرعی مسافت سے کم پر واقع تیسرے شہر میں جائے اور اس طرح چلتا ہوا تمام دنیا کا چکر لگا لے تو شرعی مسافت طے کرنے کی نیت نہ ہونے کی وجہ سے ہر شہرمیں مقیم ہی سمجھا جائے گا، البتہ اس میں یہ بات ضروری ہے کہ پہلے سے دوسرے شہر جانے کا قصد اور ارادہ نہ ہو ، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے " فلما بلغها بدا له أن يذهب إلى بلدة" کی عبارت ذکر فرمائی ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شہر میں پہنچنے پر اس کی دوسرے شہر میں جانے کی رائے بن جائے تو مقیم شمارہو گا، لیکن اگر پہلے سے ہی دوسری جگہ جانے کا قصد ہو تو وہ شرعاًمسافرہو گا۔
ان مقدمات کے بعد سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:
1،2: تمہید میں ذکر کیے گئے دونوں مقدمات سے معلوم ہوا کہ اگر چھوٹی تشکیل کے مقام پر روانگی کے وقت ہی جماعت كے تمام حضرات کا دوسری تشکیل پر جانے کا قصد اور ارادہ بھی ہو اوربڑی تشکیل کا رُخ بھی طے ہو اور مرکز سے اس کا فیصلہ بھی ہوا ہو تو ایسی صورت میں مقامی مرکزسےچھوٹی تشکیل کی جگہ کےلیے نکلنے پر بڑی تشکیل کے سفرکا شرعاً تحقق ہوجاتاہے اور چھوٹی تشکیل کے لیے جاتے وقت راستے میں اور مقام پر پہنچنے پر یہ لوگ مسافر شمار ہوں گے، بشرطیکہ چھوٹی تشکیل پندرہ دن سے کم ایام کے لیے ہو، خواہ اس مقام اور مقامی مرکز کے درمیان شرعی مسافتِ سفر ہو یا نہ ہو، کیونکہ ان حضرات کا مقصد دوسری تشکیل کے مقام پر جانا ہے، جو کہ عام طور پر مرکز سے شرعی مسافتِ سفرپر واقع ہوتا ہے۔
3۔مذکورہ بالا صورت میں اگر چھوٹی اور بڑی دونوں تشکیلیں ایک سمت پر نہ ہوں، بلکہ مخالف سمت مثلا پہلی مشرق اور دوسری مغرب کی جانب ہو تو بھی یہی حکم ہو گا، کیونکہ سفر کا مدار ارادہٴ سفر پر ہے، لہذاقصدِ سفر کے تحقق کی وجہ سے پہلی تشکیل دوسری کا جزو سمجھی جائے گی اور پہلی تشکیل پر روانہ ہوتے وقت شرعاً سفر کا تحقق ہو جائے گا، بشرطیکہ دوسری تشکیل کے مقام پر جانے کے لیے واپس مقامی مرکز (جس کو مذکورہ صورت میں وطنِ اصلی فرض کیا گیا ہے، جیسا کہ سوال مذکور ہے) والے شہر سے گزرنا نہ پڑتا ہو، لیکن اگر دوسری تشکیل پر جانے کے لیے کوئی اور راستہ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی مرکز کے شہر سے گزرنا ضروری ہو تو اس صورت میں پہلی تشکیل دوسری تشکیل کا جزو نہیں بنے گی، بلکہ دونوں تشکیلیں علیحدہ علیحدہ سمجھی جائیں گی اور دونوں مقامات کی اپنی مسافت کا اعتبار ہو گا، کیونکہ واپس مرکز والے شہر میں یقینی داخلہ ہونے کی وجہ سے یوں کہا جائے گا کہ پہلی تشکیل ختم ہونے پر واپس شہر آ کر دوبارہ سفر پر روانگی ہو گی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ وطنِ اصلی میں داخل ہونے سے مسافر مقیم بن جاتا ہے، اگرچہ اس میں قیام کا ارادہ نہ ہو۔
4۔ اگر چھوٹی تشکیل کے وقت بڑی تشکیل کی تفصیلات مرکز کی طرف سے طے نہ ہوں کہ کس علاقے اور کس رُخ پر جانا ہے؟ بلکہ مرکز واپس بلا کر کسی ایسی جگہ پرتشکیل کیے جانے کا بھی احتمال ہو جو مسافتِ سفر سے کم پر واقع ہو تو ایسی صورت میں بڑی تشکیل کا بے غبار قصد وارادہ نہیں ہے، لہذا دونوں تشکیلوں کے اسفار الگ الگ شمار ہوں گے اور پھر ایسی صورت میں قصر کی بجائے اتمام کا حکم ہو گا۔
لیکن سوال میں ذکر کی گئی صورت میں اشتباہ نہیں ہے، بلکہ شروع سے ہی مقامی مرکز سے دوسری تشکیل کی سمت، رخ، مقام اور وہاں جا کر کتنے دن کام کرنا ہے؟ یہ سب چیزیں طے ہونے کے ساتھ ساتھ تمام حضرات کا دوسری تشکیل پر جانے کا ارادہ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے صورتِ مسئولہ میں پہلی تشکیل کے مقام پر اتمام کرنا جائز نہیں، بلکہ قصر کرنا ہی واجب ہے۔
5۔ اگر پہلی تشکیل پندرہ دن کے لیے مسافتِ سفر سے کم پر ہو تو یہ اصولی طور پر شرعی سفر نہیں ہے، کیونکہ شرعاً سفر کا اطلاق پندرہ دن سے کم اقامت پر ہوتا ہے، نیز مذکورہ صورت میں اقامت کی پانچوں شرائط (سفر یعنی چلنا موقوف کرنا، ۲۔پندرہ دن اقامت کی نیت کرنا،۳۔ ایک ہی جگہ/ شہر پر ٹھہرنا،۴۔ اس جگہ/ شہر کا صالح للاقامت ہونا، ۵۔اقامت کی نیت کرنے میں مستقل بالذات ہونا) پائی جا رہی ہیں اور اقامت کی شرائط پائے جانے کی وجہ سے یہ جگہ ان حضرات کے لیے وطنِ اقامت شمار ہو گی اور یہ حضرات وہاں مقیم ہوں گے، اس لیے پہلی تشکیل دوسری تشکیل کا شرعاً جزو نہیں سمجھی جائے گی، لہذا راستے اور مقام دونوں جگہ اتمام لازم ہو گا۔
جبکہ اگرپہلی تشکیل پندرہ دن سے کم کے لیے ہو، خواہ شرعی مسافت پر ہو یا نہ ہو، بہر صورت اس میں شرعاً سفرکا تحقق ہو جاتا ہے، کیونکہ مسافتِ سفر پر واقع دوسری تشکیل پر جانے کا قصد و ارادہ پہلےسے ہوتا ہے، اس لیے مقدمہ نمبر2 میں ذکر کی گئی سفر کی تین شرائط پائے جانے کی وجہ سے پہلی تشکیل پر روانگی کے وقت دوسری تشکیل کا قصدِ سفر معتبر مانا جائے گا۔
نوٹ: پیچھے ذکر کیے گئے جوابات اس تقدیر پر ہیں جب مقامی مرکز تبلیغ میں جانے والے حضرات کے لیے وطنِ اصلی یا پندرہ قیام کی نیت کی وجہ سے وطنِ اقامت ہو، اگر مقامی مرکز کی شرعی حیثیت ایسی نہ ہو تو اس صورت میں ہر شخص کے اپنے وطن کا اعتبار ہو گا، کیونکہ آدمی اپنے شہر، گاؤں یا بستی سے سفر كے ارادے سے نکلتے ہی شرعاً مسافر بن جاتا ہے۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 87) المطبعة الخيرية:
(قوله: وإذا دخل المسافر مصره أتم الصلاة وإن لم ينو المقام فيه) سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء حاجة؛ لأن مصره متعين للإقامة فلا يحتاج إلى نية.
الفتاوى الهندية (1/ 142) دار الفكر-بيروت:
وإذا دخل المسافر مصره أتم الصلاة وإن لم ينو الإقامة فيه سواء دخله بنية الاختيار أو دخله لقضاء الحاجة، كذا في الجوهرة النيرة.
الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (2/ 122) دار الفكر-بيروت:
ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر ۔
قال ابن عابدين: (قوله بلا قصد) بأن قصد بلدة بينه وبينها يومان للإقامة بها فلما بلغها بدا له أن يذهب إلى بلدة بينه وبينها يومان وهلم جرا. ح. قال في البحر: وعلى هذا قالوا أمير خرج مع جيشه في طلب العدو ولم يعلم أين يدركهم فإنه يتم وإن طالت المدة أو المكث؛ أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر اه.
الفتاوى الهندية (1/ 139) دار الفكر-بيروت:
ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح، وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح، واتحاد الموضع والمدة، والاستقلال بالرأي، هكذا في معراج الدراية.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 93) دار الكتب العلمية،بيروت:
وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا: فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء:
أحدها: مدة السفر وأقلها غير مقدر عند أصحاب الظواهر، وعند عامة العلماء مقدر، واختلفوا في التقدير قال أصحابنا: مسير ثلاثة أيام سير الإبل ومشي الأقدام وهو المذكور في ظاهر الروايات.۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔والثاني: نية مدة السفر لأن السير قد يكون سفرا وقد لا يكون؛ لأن الإنسان قد يخرج من مصره إلى موضع لإصلاح الضيعة ثم تبدو له حاجة أخرى إلى المجاوزة عنه إلى موضع آخر ليس بينهما مدة سفر ثم وثم إلى أن يقطع مسافة بعيدة أكثر من مدة السفر لا لقصد السفر فلا بد من النية للتمييز، والمعتبر في النية هو نية الأصل دون التابع حتى يصير العبد مسافرا بنية مولاه، والزوجة بنية الزوج، وكل من لزمه طاعة غيره كالسلطان وأمير الجيش؛ لأن حكم التبع حكم الأصل. وأما الغريم مع صاحب الدين: فإن كان مليا فالنية إليه؛ لأنه يمكنه قضاء الدين والخروج من يده، وإن كان مفلسا فالنية إلى الطالب؛ لأنه لا يمكنه الخروج من يده فكان تابعا له والثالث: الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرا بمجرد نية السفر ما لم يخرج من عمران المصر وأصله ما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه لما خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خصّ أمامه وقال: لو جاوزنا الخصّ صلينا ركعتين ولأن النية إنما تعتبر إذا
كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر فما لم يخرج لا يتحقق قران النية بالفعل فلا يصير۔
منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 187) وزارة الأوقاف ،قطر:
قوله: (ويصير المسافر مقيماً بمجرد النية) لأن النية هي المعتبرة في تغير حاله، فيؤثر فيما يصادف محلها، حتى لا يصير المقيم مسافراً إلا بالنية مع الخروج.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 140) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:
وفي فتاوى قاضي خان أن الرجل إذا قصد بلده وإلى مقصده طريقان: أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها، والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا اهـ. وإن سلك الأقصر يتم وهذا جواب واقعة الملاحين بخوارزم فإن من الجرجانية إلى مدانق اثني عشر فرسخا في البر، وفي جيحون أكثر من عشرين فرسخا فجاز لركاب السفينة والملاحين القصر والإفطار فيه صاعدا ومنحدرا كذا في المجتبى وذكر الإسبيجابي المقيم إذا قصد مصرا من الأمصار، وهو ما دون مسيرة
ثلاثة أيام لا يكون مسافرا، ولو أنه خرج من ذلك المصر الذي قصد إلى مصر آخر، وهو أيضا أقل من ثلاثة أيام فإنه لا يكون مسافرا، وإن طاف آفاق الدنيا على هذا السبيل لا يكون مسافرا اهـ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 97) دار الكتب العلمية، بيروت:
وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما: فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة. (أما) نية الإقامة: فأمر لا بد منه عندنا حتى لو دخل مصرا ومكث فيه شهرا أو أكثر لانتظار القافلة أو لحاجة أخرى يقول: أخرج اليوم أو غدا ولم ينو الإقامة لا يصير مقيما، وللشافعي فيه قولان: في قول: إذا أقام أكثر مما أقام رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بتبوك كان مقيما وإن لم ينو الإقامة.
الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني (1/ 301) إدارة القرآن والعلوم الإسلامية ، كراتشي:
قلت أرأيت رجلا من أهل الكوفة خرج يريد القادسية في حاجة له كم يصلي؟ قال يصلي أربع ركعات قلت فإن خرج من القادسية إلى الحيرة وهو يريد أن لا يجاوزها قال يصلي أربع ركعات قلت فإن فعل هكذا مسيرة يوم أو يومين حتى أتى مكة كلما سافر يوما أو يومين كان من نيته أن لا يجاوز قال عليه أن يصلي في هذا كله صلاة المقيم قلت فإن خرج إلى القادسية وهو لا يريد أن يجاوزها ثم خرج منها إلى الحفيرة ثم خرج وهو يريد الشام ومر بالقادسية ولا يمر
بالكوفة قال عليه أن يصلي ركعتين حتى يخرج من الحفيرة مقبلا فيما بينه وبين القادسية حتى يأتي الشام قلت فإن كان له بالقادسية ثقل قد خلفه فخرج من الحفيرة إلى ثقلة فحمله منها إلى الشام ولم يمر بالكوفة قال يصلي ركعتين قلت فإن لم يأت الحفيرة ولكنه يخرج من القادسية لحاجة له حتى إذا كان قريبا من الحفيرة بدا له أن يرجع إلى القادسية فيحمل ثقله منها ويرتحل منها إلى الشام ولا يمر بالكوفة قال عليه أن يصلي أربعا حين يرتحل منها قلت لم؟ قال أرأيت لو خرج من القادسية في جنازة أو لغائط أو بول ثم بدا له أن يرتحل إلى الشام أليس كان يصلي أربعا حتى يرتحل منها قلت نعم قال فهذا وذاك سواء۔
الفتاوى الهندية (1/ 138) دار الفكر،بيروت:
"وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق. فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان: أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها، والآخر دونها، فسلك الطريق الأبعد كان مسافراً عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان. وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق".
الفتاوى الهندية (1/ 139) دار الفكر،بيروت:
"ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبداً ... ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوماً أو أكثر، كذا في الهداية".
الموسوعة الفقهية الكويتية (27/ 269) دارالسلاسل، الكويت:
الشريطة الثانية: نية مسافة السفر، فلكي يصير المقيم مسافرا لا بد أن ينوي سير مسافة السفر الشرعي؛ لأن السير قد يكون سفرا وقد لا يكون، فالإنسان قد يخرج من موطن إقامته إلى موضع لإصلاح ضيعة، ثم تبدو له حاجة أخرى إلى المجاوزة عنه إلى موضع آخر، وليس بينهما مدة سفر، ثم يتجاوز ذلك إلى مكان آخر، وهكذا إلى أن يقطع مسافة بعيدة أكثر من مدة السفر، ولذلك لابد من نية مدة السفر للتمييز.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
2 رجب المرجب 1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


