021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقائد خراب کرنے والی کتابوں کا حکم
71862ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مسجد میں غیر مسلک والے اپنی کتبِ تفسیر وغیرہ رکھ دیتے ہیں، جن کو پڑھنے سے لوگوں کے عقائد خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اِن کتب کا کیا کرنا چاہیے؟ ظاہر ہے کہ اِن کتب کو اِن کے اصل مالک تک پہنچانا ممکن نہیں ہے۔ تو کیا اِن کتب کو اُن کی ہم مسلک مساجد میں رکھنا چاہیے یا پھر مقدس اوراق میں ڈال دینا چاہیے یا انہیں کسی تحقیقی ادارے میں دے دینا چاہیے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

o

مسجد کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی بھی کتاب مسجد میں نہیں رکھنی چاہیے۔ نیز مسجد کمیٹی کو اختیار ہے کہ وہ اِس مقصد کے لیے اعلان لگائے اور لوگوں کو پابند کرے۔ خاص طور پر جن کتابوں کو پڑھنے سے عقائد و نظریات خراب ہونے کا اندیشہ ہو، اُن کتابوں کو پڑھنے سے لوگوں کو روکنا چاہیے۔ ایسی کتابوں کے بارے میں بہتر یہ ہے کہ انہیں کہیں دفن کردیا جائے۔ تاہم یہ کتابیں کسی ایسے عالمِ دین کو بھی دی جاسکتی ہیں، جو اِن کتابوں کی غلطیوں کو پہچانتا ہو اور اِن کتابوں کے ذریعے اُس کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہ ہو۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله، ويحرق الباقي، ولا بأس بأن تلقى في ماء جار، كما هي، أو تدفن وهو أحسن، كما في الأنبياء. (الدر المختار مع رد المحتار: 6/422)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله: (كما في الأنبياء): كذا في غالب النسخ، وفي بعضها، كما في الأشباه. لكن عبارة المجتبى: والدفن أحسن، كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها. اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم؛ لأن أفضل الناس يدفنون. (رد المحتار: 6/422)
قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: قال الشيخ الإمام صدر الإسلام أبو اليسر: نظرت في الكتب التي صنفها المتقدمون في علم التوحيد، فوجدت بعضها للفلاسفة، مثل إسحاق الكندي والاستقراري وأمثالهما، وذلك كله خارج عن الدين المستقيم زائغ عن الطريق القويم، فلا يجوز النظر في تلك الكتب، ولا يجوز إمساكها، فإنها مشحونة من الشرك والضلال. قال: ووجدت أيضا تصانيف كثيرة في هذا الفن للمعتزلة، مثل عبد الجبار الرازي والجبائي والكعبي والنظام وغيرهم، فلا يجوز إمساك تلك الكتب والنظر فيها كي لا تحدث الشكوك ولا يتمكن الوهن في العقائد. (الفتاوی الھندیۃ: 5/377)
وقال أیضا: ومن العلوم المذمومة علوم الفلاسفة، فإنه لا يجوز قراءتها لمن لم يكن متبحرا في العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن إشكالاتهم.(الفتاوی الھندیۃ: 5/378)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

5/رجب/ 1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔