| 71876 | جائز و ناجائزامور کا بیان | عورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام |
سوال
میرے دو بچے ہیں، بڑا دو سال کا ہے اور دوسرا ابھی ایک سال کا ہے۔ کچھ عرصے سے کمر میں تکلیف ہے، جس کی وجہ سے فزیو تھراپی چل رہی ہے۔ گھر میں ایک بزرگ ساس بھی ہیں، جو فالج کی مریضہ ہیں۔ کیا ایسی صورتِ حال میں مرد سے فزیو تھراپی کرواسکتے ہیں یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نامحرم مرد کے لیے کسی خاتون کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ خاص کر فزیو تھراپی کروانا جس میں مختلف انداز اور زاویوں سے جسم کو دبایا اور ہلایا جاتا ہے، بالکل ٹھیک نہیں۔ اِس مقصد کے لیے کسی خاتون فزیو تھراپسٹ کا انتظام آسانی سے ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ خاتون کا انتظام نہ ہوسکتا ہوتو مرد فزیو تھراپسٹ کسی خاتون یا محرم مرد کو سکھا کر اُس کے ذریعے علاج کروائے۔ فزیوتھراپی کی مشین کا استعمال آسان ہے اور مختلف امراض یا اعضاء کی فزیوتھراپی مریض کی حالت کے مطابق سیکھ لینا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: وبه صرح الزيلعي حيث قال: ولا يجوز له أن يمس وجهها ولا كفيها، وإن أمن الشهوة؛ لوجود الحرمة وانعدام الضرورة والبلوى اهـ. ومثله في غاية البيان عن شرح الأقطع معللا بأن المس أغلظ، فمنع بلا حاجة. (رد المحتار: 6/370)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها، فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء، إلا موضع العلة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع، إلا عن موضع الجرح.(رد المحتار: 6/371)
صفی ارشد
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
7/رجب/1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی | مفتیان | ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب |


