03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ،اہلیہ،دوبیٹوں میں تقسیم میراث
72272میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!

گزارش یہ ہے کہ میں بیوہ محمدآصف مرحوم آپ سے فتوی نکلوانا چاہتی ہوں کہ میرے دوبیٹے ہیں،ایک کی عمر6سال اور دوسرے کی عمر دو سال ہے،میرے شوہر کا ایک گھر ہے جو کہ انہوں نے اپنی محنت سے بنایا ہے اس میں کسی وراثت کے حصے کو شامل نہیں کیا، بلکہ وراثت کا  حصہ 450000 میرے سسرال والوں کے پاس موجود ہے،میرے سسرال والے میرے شوہر کے انتقال کے 5 دن بعد لڑ جھگڑ کرمجھ سے واسطہ  ختم کر کے چلے گئے،لیکن اب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے فتوی حاصل کر لیا ہے کہ میرے گھر میں ان کے حصے بھی ہیں،میرے ساس کی دوبیٹیاں پہلے شوہر کی ہیں،باقی میرے شوہر کی 3بہنیں اور 3 بھائی ہیں،میرے شوہر اپنی زندگی میں اپنی والدہ  کو ہفتہ خرچہ دیا کرتے تھے ،اب میری ساس کہتی ہیں کہ تم وہ خرچہ ادا کرو ،تم کما کرمجھے  ہرہفتہ دو،میرے شوہر کا کڑھائی کا کام تھااسٹال کرائے پرلیا ہوا ہے،اب میں  اس کرائے کے اسٹال پر بیٹھ کر اپنی روزی کمارہی ہوں ،تاکہ اپنے بچے پال سکوں،لیکن یہ لوگ  مجھے سکون سے گزر بسر نہیں کرنے دے رہے ،یہ لوگ بہت زیادہ لڑتے جھگڑتے ہیں،یہاں تک کہ مارکیٹ میں آکر مجھ کو ساس نے دھمکیاں دیں اور دھکے دے کر نکالنے کی کوشش کی،دیورنے بہت گالیاں دیں اور کہا یہ ہمارے بھائی کی جگہ ہے ،تم یہاں سے جاؤ،ورنہ ماریں گے،تو وہاں کی یونین نے ایکشن لیا اور پولیس بلائی اور وہاں سے نکالا ،اب یہ لوگ میرے گھر کے پیچھے پڑگئے ہیں،میں اپنے شوہر کا قرضہ بھی اتار رہی ہوں،اور اپنے چھوٹے بیٹے کا علاج بھی کروارہی ہوں،اس کا علاج کافی مہنگا ہے ،وہ چل نہیں سکتا ،اس لیے اس کی فزیوتھراپی ہوتی ہے،جو کہ ایک دن کے مجھے 700ادا کرتے پڑتے ہیں،اس کے علاوہ اس کا جھٹکوں کا علاج بھی چل رہا ہے،اس کی میڈیسن 6 ماہ کی عمر سے چل رہی ہے، جو اب تک چل رہی ہے،میں اپنے میکے میں رہ رہی ہوں،ان لوگوں کی دھمکیوں کے ڈر سے ،میرے بچے چھوٹے ہیں،اور میرا دیور شرابی ہے،مجھے اپنی عزت کا بھی خطرہ ہے،اس لیے میں اکیلی نہیں رہ سکتی اور یہاں میرے بھائی میری کفالت کررہے ہیں،کیونکہ ابھی تک میری اتنی آمدنی نہیں اور میرے بچے کا علاج بہت مہنگا ہے اور میرے اس کا ایک گھر کے علاوہ میرے پاس دوسرا کچھ نہیں،میرے بچوں کی چھت یہی ایک گھر ہے،میں بہت پریشان ہوں،براہ مہربانی مجھے صحیح راہ دکھائیے اور بتائیے یہ  لوگ گھر پر قبضے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،،کیا وقعی اس گھر میں انکاکوئی حصہ بنتا ہے ،یہ لوگ مجھ پر کیس کرنے کی بھی دھمکی دے رہے ہیں،میرے جیٹھ اپنی ماں کو پورا ہفتہ کا گوشت سبزی اور 1500 روپے ہفتہ دیتے ہیں،میرا چھوٹا دیور 1000 روپے ہفتہ دیتا ہے اور کنوارا دیور بھی ہے ،پھر بھی یہ لوگ مجھ سے خرچہ مانگ رہے ہیں،میرے شوہر نے اپنی زندگی میں اپنی ساری  ذمہ داریاں نبھائی ہیں،میری ساس اور میرے دیور کو عمرہ بھی کروایا جبکہ خود نہیں کیا ،اس لیے کہ میرا بھائی  زنا،شراب ،چوری کے چکروں میں رہتا ہے شاید سدھر جائے،بہنوں کی شادی پر تینوں کو ڈھائی تولے سونا بنوا کردیا،اور دوسرے اخراجات  بھی ادا کیے ،میرے شوہر نے سب کچھ اپنی محنت سے بنایا کسی  سےکوئی پیسہ نہیں لیا ،،اب سب دعویدار بن کر آگئے ،لیکن میرے شہر کا قرض اتانے میں کسی نے مدد نہ کی ،جس کی مالیت لاکھوں میں تھی اور نہ ہی ان کی ماں،بہنیں  بیماری میں پوچھنے تک آئیں،میرے شوہر پڑوسیوں کو بیماری کی حالت میں گواہ بنا کرگئے کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے تو میرا گھر میری بیوی بچوں کا ہے ،اس میں کسی کا کوئی  حصہ نہیں،میرا دیور پہلے میرے شوہر کے ساتھ سیلزمین کا کام کرتا تھا،لیکن چوری اور کسٹمرز(خواتین) سے بدتمیزی کی تو انہوں نے نکال دیا ،مارکیٹ والے بھی جانتے ہیں کہ میرے شوہر نے خود محنت سے گھر بنایا،اور کاروبار کیا ہے،میں اپنے بڑے بیٹے کو پڑھارہی ہوں ،اس کی فیس ،اسکول ٹیوشن،مدرسہ سب میں ادا کرتی ہوں ،،اس کے علاوہ میری ساس کے گھر میں ایک کنوارا دیور ،ایک طلاق والی نند اور دوشادی شدہ نندیں رہتی ہیں،جبکہ ایک شادی شدہ نند کے بیٹے کو میرے شوہر نے کام سکھایا، اب وہ بھی دکان لے کر بیٹھا ہے اس مارکیٹ میں ،اس لڑکے کا بچپن سے لے کر جب تک وہ زندہ تھے خرچہ اٹھایا،کاروبار سکھایا،وہ بھی ساس کو خرچہ دیتا ہے،اس کے علاوہ دوسری نند کی بھی دوبارہ شادی کی ہے،مگر وہ بھی میری ساس کے گھر رہتی ہے ،اپنے گھر نہیں جاتی ،اس کی بیٹی بھی وہی رہتی ہے،اور جبکہ میری ساس کا ذاتی گھر ہے،اور باقی بیٹوں کے حصے بھی اپنے پاس رکھے ہیں،صرف ایک دیورنےلڑکراپنا حصہ لیا ہے،یہ فتوی مجھے جلد از جلد تحریری طورپر چاہیے،تاکہ میں آگے کی کاروائی کرسکوں۔

پوچھنے والے امور:

1۔شوہر کی میراث میں دیگر گھر والوں کا حصہ اور شوہر پر موجود قرضے کی ادائیگی۔

2۔ساس کو خرچہ کی فراہمی۔

3۔شوہر کا کرایہ پر لیاجانے والے اسٹال پر کس کاحق ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ آپ کے شوہر کی اگر کوئی رقم کسی پر قرض ہے،یا گھر ہی میں والدہ ،بھائیوں میں سے کسی کے پاس موجود ہے،

وہ سب میراث کا حصہ ہے، اس کے علاوہ جو کچھ(مکان،اسٹال میں موجود مال وغیرہ) ان کی ملکیت میں تھا،وہ سب جمع کرکے ان کی قیمت لگائی جائے گی،پھر سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے،اس کے بعد جو قرضہ ہوگا وہ اس رقم سے اداکیا جائےگا۔

قرضہ کی ادائیگی کے بعدجو کچھ  باقی رہ جائے گا،اس میں فقط آپ کے شوہر کی حقیقی والدہ کا حصہ ہوگا۔ (اگرماںسوتیلی ہے تو اس کا حصہ نہیں ہوگا)بقیہ آپ کا اور آپ کے بچوں کا ہے،شوہر کے بھائیوں یا بہنوں کا کوئی حصہ نہیں۔حصوں کی تقسیم  اس طرح ہوگی۔

والدہ:16.67فیصد،                 اہلیہ:12.5فیصد،    

 ہر ایک بیٹا:35.42 فیصد(دونوں بیٹوں کا مجموعی حصہ:70.83فیصد)

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

25/رجب1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب