021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی کے اختلافات،الزام تراشیاں اوربیوی کا ہفتوں خاوندسے بات نہ کرنا
72508طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری ساس میری شادی سے پہلے وفات پاچکی تھی اورمیرے سسر میری منگنی کے تقریبا6ماہ بعد انتقال کرگئے تھے جس کے کچھ دنوں بعد میرے والد نے ان کے بھائی کو یہ کہا کہ آپ کی بہن اب گھر میں پورا دن اکیلی رہتی ہے اورآپ جاپ پر ہوتے ہوتواپنی بہن کو بنا کسی جہیزیا کسی اورچیز کے گھر ہی میں نکاح کرکے رخصت کرادیں، لیکن ان کے بھائی اوررشتے داروں (چچا ،پھوپھی )نے یہ کہاکہ شادی ابو کے دیئے ہوئے ٹائم پر باخوشی ہوگی ،منگنی کے وقت ان کے والد نے اپنی بیٹی کی عمر 24سال بتائی جبکہ وہ اس وقت 31سال کی عمر میں تھی، لیکن اس بات کابعد میں معلوم ہونے پر بھی ہم نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اہمیت دی اورنظر انداز کیا، اس کے بعد میری شادی مورخہ 29نومبر 2018کو ہونا قرارپائی اورشادی کے ایک مہینے بعد میری زوجہ حمل سے ہوگئی اورہم نےان کی دیکھ بھال اورصحت کےلیے ہر ضروری اقدامات کئے جو کے ان کا بنیادی حق بھی تھا،اس حمل کے دوران ہم ایک سے دوبارقریب ہوئے اورپھر زوجہ نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ حمل ضائع نہ ہوجائے ،جبکہ حمل ٹھہرےہوئے تین ماہ ہوچکے تھے اورڈاکٹر کی اجازت بھی اس  میں شامل تھی، حمل کے چیک اپ کے دوران ڈاکٹرنے یہ بھی ظاہر کیا کہ یہ ان کا دوسرا بچہ ہے جس پر مجھے ان پر شک ہوا لیکن اپنی بیوی کی بدنامی سے بچنے کےلیے میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی مگر میری بیوی نے خود یہ بات میری والدہ پر ظاہر کردی ،میں نے یہ سوچ کر خاموشی اختیا کی کہ یہ بن ماں باپ کی لڑکی ہے ،ان شاء اللہ، اللہ تعالی  سب بہترکردے گا،اس لیے اس بات کو پی لیا ،شادی کے پہلے مہینے سے ہی ان کی خواہش کے مطابق انہیں ان کے والد کے گھر ہرمہینے ایک ہفتے کے لیے چھوڑجاتاتھااورساتھ ہی یہ بات لازم کی تھی کہ میری اجازت کے بغیراور میرے علم میں لائے بغیر کسی بھی جگہ مثلاً بازاریا کسی کے گھر نہ جائیں ،مگر انہوں نے میری بات کو نظر انداز کیااور بازاروغیر جاتی رہی جس پر میں اس سے ناراض ہوا اورڈانٹا ،لیکن کچھ ہی مہینوں بعدبالکل یہی معاملہ دوبارہ ہوا کہ وہ میری اجازت کے بغیر اپنے والد کے گھر سے بازار گئی جس کا ذکر خود انہوں نے مجھ سے باتوں باتوں میں کیاجس سے انہوں نے میرے بھروسے کو کمزرورکیا جس پر میں غصہ ہوا،اسی طرح جب بھی میں نے اس کو جماع کےلیے قریب آنے کوکہا تواس نےیہ کہہ کر انکارکیا کہ آج نہیں ،کل،  یا پیٹ میں درد ہے یا حیض جیسے بہانے کئے،اس طرح طرح ہم بچی کی پیدائش تک قریب نہیں ہوئے ، بچی کی پیدائش (جوکہ 18اکتوبر2019کوہوئی  تھی)کے فورا بعد ان کے مزاج میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہوگئی اورپہلے یہ تقاضہ کیا کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور18اکتوبر 2019کو20دن کی بچی لیکراپنے والد کے گھر چلی گئی اوروہی میری اورمیرے خاندان کی غیر موجودگی میں بچی کے سوا مہینے کی رسم اد ا کی جس کی تیاری میری فیملی نے بہت ارمانوں سے کررکھی تھی،اس دوران انہوں نے ہم سےکسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیاورایک میسج شادی کی سالگرہ  والے دن مجھے کیا جس پر کوئی سلام و دعاءیا خیریت  کی بات نہیں تھی ،پورے 40دن وہ اپنے والد کے اوراپنے خاندان میں اپنے رشتہ داروں کے گھر رکتی رہی جبکہ وہ جانتی ہے کہ میری اجازت صرف اورصرف اپنے والد کے گھر رکنے کی ہے، اس نے میرے  کسی حکم کی  پرواہ نہیں کی اورنہ ہی میری کسی بات کوکوئی اہمیت دی،جب میں نے ان کے نہ آنے  پر میسج کیا کہ آپ خلع کے پیپر مجھے بھیج دیں اورپھر جہاں چاہیں جائیں، کیونکہ آپ نے میری کسی بات کونہیں مانااورپھر 8دسمبر2019کو یہ اپنے چچا اورپھوپھی کے ساتھ آئی اوربڑوں میں معاملات طے پاگئے اورہماری ازدواجی زندگی بحال ہوگئی، مگر اللہ کی ذا ت بہترجانتی ہے نہ تو اس کا دل میری فیملی کی طرف سے صاف تھا اورنہ ہی میری طرف ، اس وقت سے لیکر آج  تک (یعنی مورخہ 8 دسمبتر  2019سے مورخہ 10 مارچ2021ء تک )وہ میرے قریب نہیں آئی اورجب جب میں نے انہیں جماع کے لیے بلایا تو انہوں نے بہانے بنا کر انکارکیا اورکہا کہ مجھے ابھی اولاد نہیں چاہیے اورہر چھوٹی چھوٹی  ڈانٹ پر مجھ سے ہفتہ ہفتہ بات چیت  نہیں کرتی اوربولنا بند رکھتی ہے ،اگر میں انہیں ڈانٹوں تو مجھ سے بدزبانی بھی کرجاتی ہیں اورایک بارمیں نے اسے ایک چانٹا بھی ماراجوکہ ٕغصے میں اچانک ہاتھ اٹھ گیاتھا،اوریہ پورے عرصے میں پہلی اورآخری دفعہ ہوا، اب ایک سال بعد ایک اور معاملہ دوبارہ اٹھاہے جوکہ اس سے زیادہ سنجیدہ ہے  ہوا یہ کہ دسمبر 2020میں اسی طرح چھوٹی سی بات پر جو یہ تھی کہ میں نے آفس سے چھٹی کرکے کمرہ صاف کیا اورجب رات گیارہ بج گئے تو میں نے بیوی سے کہا کہ صبح الماری میں کپڑے لازمی رکھ دینا،اورخاص کر برتن سیٹ کردینا کیونکہ بچی چھوٹی ہے وہ برتن کہیں اپنے اوپر نہ گرالے جوکہ انہوں نے نہیں کیا جس پر میں غصہ ہوا یہ بات وہ دل میں رکھ کرایسی بیٹھی کہ اس کے دودن بعد اس کے بھائی کی تاریخ طے تھی اس نے اپنی اوربچی کی تومکمل تیاری کرلی مگرمیری تیاری نہیں کی اور پھر اپنے گھرجاکراپنے پہنچنے کی اطلاع تک نہ دی اوررات کو امی کے نمبر پر میسج کرکے آگاہ کیا ،دوسرے دن میں نے ان کے بھائی کو قریب 6بچے کال کی کہ میں آفس میں پھنسا ہوا ہوں دیر ہوجائے گی آپ لوگ میرا انتظار نہ کرنا اورچلے جانا،ان شاء اللہ اگلی بار میں ہر صورت آپ کے ساتھ ہونگا۔اس کال سے دو گھنٹے پہلے میری بچی ان کے گھر کھولتے ہوئے پانی میں پیٹھ کی طرف سے گرگئی تھی اوراس کی اطلاع مجھے کسی نے نہیں دی، تقریباً چھ دن بعد میرے والد کے نمبر پران کے چچا کا فون آیا اوراطلاع دی کہ بچی ہلکی پھلکی جل گئی ہےتو میرے والد نے ویڈیو کا ل کرکے دکھانے کوکہا تو بچی کی آدھی پیٹھ جلی ہوئی تھی ،ہم اسی وقت وہاں پہنچے تو ابو نے ان کے چچا سے یہ کہا کہ ہے تو یہ  ایک حادثہ جوکہیں بھی ہوسکتاتھا لیکن آپ نے ہمیں بروقت اطلاع کیوں نہیں دی،آپ کم از کم بچی کے باپ کو تو بتاتے جس پر ان کے چچا نے یہ کہاکہ  باپ کو چھوڑویار اسےکیابتانا ،جس پر مجھے شدیدغصہ آیا اوراسی دوران میں نے اپنی بیوی سے اونچی اونچی آواز میں بات  شروع کی اس پران  کے چچا اوران کے بیٹے نے مجھ پر اوروالد پر چڑھائی شروع کردی اورکافی بدتمیزی  کی اس کے بعد ان کے چچا ،چچی اورشادی شدہ بیٹی ندا جسے اس کے گھر سے بلایا گیا تھا ان تنیوں نے مجھ سے طلاق کی ڈیمانڈ کی تب بھی میرے بیوی نے کسی قسم کی کوئی مداخلت  نہیں کی  اور اپنے گھر کو بچانے کی کوشش نہیں کی ،نداکے بیٹے نے مجھے جان سے مارنے کی  بھی دھمکی دی جس پر میں اپنی بچی کو گود میں لے کرگھر جانے لگا جب بھی میری بیوی نے کوئی تاثر نہیں دیا ورمیرے والد نے کہا کہ بچی ماں کو دو،وہ دودھ پیتی ہے ،ان سارے معاملات کے دوران میں نے کسی قسم کے طلاق یا اس جیسے کوئی الفاظ ادا نہیں کئے، حالانکہ وہاں مجھےبہت اکسایاجارہاتھا،اس کے ایک ماہ بعد میں نے والد سے کہا کہ  مجھے بچی سے ملنا ہے تو انہوں نے میرے سالے کو دن کے وقت کال کرکے کہا کہ ہم چھ سے سات بجے تک اپنی بچی سے ملنے آرہے ہیں ،ہم صرف اس سوچ سے  وہاں گئےتھے کہ بچی سےبھی  ملیں گے اوراگر میری بیوی ساتھ چلنے کا ارادہ کرے تو ہم اس کو بھی  لے آئیں گے تو سالے نے یہ کہا کہ ابھی وہ اپنی خالہ کے گھر ہیں ،شام تک لے آؤنگا،یہاں بھی یہ میری اجازت کے بغیر گئی تھی اورجب گلی میں میرے سامنے اپنے گھر آئی تو اس کے جسم پر برقع نہیں تھا جسے دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اورمیں نے کہا کہ ہمارے گھرکی خواتین اگر برابروالے گھر میں بھی  جاتی ہیں تو برقع اوڑھ کر جاتی ہیں ،اس کےبعدجب ہم بچی سے ملنے ان کے گھر بیٹھے تو انہوں نے اپنے ایک دور کے عزیزکو دھوکہ سےوہاں بلوایاجوسٹی کورٹ میں ملازم ہے، اس نے ہمیں پریشرمیں لینے کی بہت کوشش کی اورہمیں دھمکانے اوراپنے تعلقات ظاہر کرنے کے لیے سہراب گوٹھ کے ڈی ایس پی کو کال کی اورساتھ مجھے یہ دھمکی دی کہ میں تجھے زندگی بھر بچی کی شکل نہیں دیکھنے دونگا اورشرط رکھی کہ اگر گھر الگ کروگے تو ہی تمہاری بیوی ساتھ بھیجیں گے ،اس پر میں نے انکارکیا ،کیونکہ میری انکم اتنی نہیں  کہ میں  گھر یا چھولہاالگ کرسکوں ۔ساتھ ہی میری بیوی نے مجھ پر یہ الزام بھی لگایاکہ یہ یعنی میں وقت کا پابند ہوں اورانہیں ہرچیز ٹائم پر چاہیے ،اوریہ ہروقت گالیاں دیتے ہیں ،اب محترمہ جو میری بیوی ہیں وہ یکم جنوری 2021سے اب تک اپنے والد اوراپنے رشتہ دار وں کے ہاں رہ رہی ہیں اوربے پردہ ہرجگہ گھومتی پھر رہی ہیں ،اس نے میرا اورمیرے گھرکا نمبر بھی واٹس اپ پر بلاک کردرکھاہے۔اب  ان سب معاملات میں قرآن وسنت کی رہنمائی میں میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ

کیا میری بیوی کا ہر چھوٹی چھوٹی ڈانٹ پر ہفتوں مجھ سے بات نہ کرنا شرعاً درست عمل ہے؟

o

ٍٍپہلے بطورتمہید یہ سمجھ لیناچاہئے کہ میاں بیوی والا رشتہ اسلام میں ایک ایسا مقدس رشتہ  ہے جس پر نسل انسانی کی بقاءہےاوریہ اخلاقی کے لحاظ سے انسانوں کوپاک رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ، اس بناء پراسلام اس کو بہت اہمیت دیتاہے اور انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے، اوراس کوبا قی رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتاہے ،یہ مقدس رشتہ تب ہی چل سکتاہے جب میاں بیوی میں سے  ہر ایک دوسرے کے حقوق کاپوراپورا خیال رکھے ،اورایک دوسرے کو برداشت کرے ،نہ میاں  بلاوجہ  چھوٹی چھوٹی چیزوں پربیوی کو ڈانٹےاورنہ  ہی بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے اپنے محسن میاں سے ناراض ہو ۔

        شرعی دلیل کے بغیر بیوی پر شک کرناجائز نہیں اورڈاکٹرکا قول کہ یہ دوسرا بچہ ہے حجت نہیں لہذخاوند کا ڈاکٹرکی اس بات کو خاطرمیں نہ لانا اوردرگزرکرنا اچھی بات ہے اورایک مسلمان کی ستر پوشی ہے ،االلہ تعالی اس پر ان شاء اللہ شوہر کو اجردےگا۔

       بیوی کے لیے ہرگز جائزنہیں کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر بلاوجہ گھر سے نکلے اوربازاروں میں گھومتی پھرے،لہذا اس پر شوہر کا اس سے ناراض  ہونا اورڈانٹنا ٹھیک ہے۔

     جماع کرنا مرد کا شرعی حق ہے لہذا بیوی کےلیے بلاوجہ اس سےانکارکرنا جائزنہیں ہے اورپیٹ میں بچہ ہونا جماع سے انکارکی کوئی وجہ نہیں ہے،ایسی عورت پر صبح تک فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔

       بچی کے سوامہینے کی رسم  کی کوئی شرعی اصل نہیں ہے یہ غیر وں کا طریقہ ہے لہذا اسے ترک کیاجائے،تاہم بیوی کے لیے میاں کی اجازت کے بغیر اس کے بچے کو میکے لیجانا ٹھیک نہیں ۔

اگرشوہر بیوی کوصرف اس کے والد کے گھررہنے کےلیے کہے تو پھر اس کےلیے دیگررشتہ داروں کے گھروں میں جانااوروہاں رہنا ٹھیک نہیں  ہے۔

       جب مرد جماع کےلیے بلائے توعورت پر لازم ہے وہ اس کی جنسی ضرورت کو پورا کرے اوریہ بہاناکرنا کہ مجھے اولاد نہیں چاہیے شرعاً درست نہیں ۔

      شوہر کو ڈانٹا،بدتمیزی سے پیش آنا اورچھوٹی چھوٹی باتوں پر ہفتوں  اس کے ساتھ بات چیت بند کرناانتہائی بداخلاقی ہے اوریہ شرعاً بالکل جائز نہیں ہے، بلاشرعی عذر تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے بات چیت بند رکھناجائزنہیں ہے، خاص طورپر جب وہ شوہر جیسا محسن شخص ہو ۔

      شوہر کو چاہیے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیوی کو نہ ڈانٹے اوراس کاخیال رکھے لہذا اگربیوی نے الماری میں کپڑے کسی وجہ سے نہیں رکھے تو شوہر کویہ بات برداشت کرلینی چاہیے تھی اوراتنی چھوٹی بات پرغصہ نہیں کرناچاہئے تھا،تاہم بیوی کوبھی  چاہیے کہ خاوند کی حکم کی تعمیل کرتی اوران کی شکایت کا موقع نہ دیتی ،الٹا شوہر کی  بات کو دل میں رکھنا اورپھر بلااجازت بھائی کے ہاں شادی پرجانااورپھر اطلاع تک بھی دینا درست طرزِ عمل نہیں ۔

         بچی کاکھولتے پانی  میں گرجانایقیناً ایک حادثہ ہوگا مگراس کی اطلاع والد کو ضرورکرلینا چاہیے تھاتاکہ کسی قسم کےشکوک وشہبات  پیدا نہ ہوں اورتعلقات خراب نہ ہوں،بروقت اطلاع نہ کرنا یقیناً سسرال والوں کی غلطی تھی، جس  پر ان کو معافی

مانگنی چاہیے ،اوراپنی غلطی کا اعتراف کرناچاہئے۔

      سسرال والوں کا اپنے داماد پر جملے کسنا،چڑھائی کرنا،بدتمیزی سے پیش آنا،جان سے مارنے کی دھمکی دیناسب غیر شرعی کام ہیں ،ان پر لازم ہے کہ اللہ کے حضورصدقِ دل سے توبہ اوراستغفارکریں اورداماد سے معافی مانگیں۔

     عورت کا گھر سے باہر برقع اتارنا اوربے پردہ گھومناشرعاً ناجائز ہے جس پر شوہر کا غصہ بجاہے لہذا بیوی کے خاندان والوں کا شوہر کو سٹی کورٹ کے ملازم کو بلاکر دھمکانا اوربےعزت بالکل ناجائز ہے ،بچی کو دیکھنا شوہر کا شرعی حق اس سے بیوی کے خاندان والےاسے نہیں روک سکتے ۔بیشک شریعتِ مطہرہ نے شوہر کو  اپنی  بیوی کے لئےعلیحدہ  رہائش فراہم کرنے کا پابند کیا ہے، مگر رہائش سے مراد ایسا کمرہ  فراہم کرنا ہے، جس میں شوہر کے گھر والوں کی مداخلت نہ ہو،  نیز  اگر بیوی شوہر کے گھر والوں کے ساتھ  مشترکہ طور پر کھانا پکانا اور کھانا نہیں چاہتی تو  الگ پکانے کی سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے، یہ سہولت والدین کے ساتھ  ایک ہی گھر میں فراہم کردے تب بھی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے، الگ جگہ پر گھر لے کر دینا ضروری نہیں، باقی اگر شوہر الگ گھر میں ٹھہرانے کی استطاعت رکھتا ہے اور اس میں مصلحت سمجھتا ہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، تاہم اس قسم کے مطالبہ کا حق بیوی کو نہیں۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك". (الباب  النفقات 1/556، ط: ماجدية)

 فتاوی  شامی میں ہے:

"إن أمكنه أن يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك". (مطلب في مسكن الزوجة 3/601، ط: سعيد)

        بیوی کا شوہرپربلادلیل الزامات لگانااوراس بیناد پر بلااجازت شوہر کا گھر چھوڑکر میکےچلے آنااوردیگررشتہ داروں کے ہاں رہنااورباہر گھومتے پھرنا اورخاوند سے بالکل رابطہ منقطع کرلیناجائزنہیں ہے اوریہ اعلی درجےکی بداخلاقی ہے بیوی پرلازم ہےکہ  توبہ استغفارکرےورشوہرسے معافی مانگے ۔

اس تمہید اورضمنی باتوں کے جوابات کے بعد  آپ کے پوچھےگئے پہلے سوال(بیوی کا ہر چھوٹی چھوٹی ڈانت پر ہفتوں شوہر سے بات نہ کرنے) کا مختصرجواب درجِ ذیل ہے :

         کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان سے بلاکسی شرعی عذر  کےتعلقات ختم کردے اوربات نہ کرے،خاص طورجب  ان دونوں میں میاں بیوی جیسے مقدس رشتے کا تعلق ہوتو یہ اوربھی برا ہے،میاں بیوی کا رشتہ محبتوں کارشتہ ہے یہ تب ہی چل سکتاہے جب میاں بیوی میں سے  ہر ایک دوسرے کا خیال رکھے ،اورایک دوسرے کو برداشت کرے ،نہ میاں  کو چاہیے کہ بلاوجہ  چھوٹی چھوٹی چیزوں پربیوی کو ڈانٹاپھرے اورنہ  ہی بیوی کو یہ زیب دیتاہے کہ اپنے محسن شوہر کی طرف سے اس طرح ہلکی پلکی ڈانت پر ناراض ہوجائے اوربات کرنا بند کردے ۔

حوالہ جات

في ’’ الحدیث ‘‘ :
 عن عائشۃ رضي اللہ عنہا أن رسول اللہ ﷺ قال : لا یکون لمسلم أن یہجر مسلماً فوق ثلا ثۃ أیا م فإذا لقیہ سلّم علیہ ثلاث مرار کل ذلک لا یرد علیہ فقد باء بإثمہ۔(السنن لأبي داود :ص۶۷۳، باب في ھجرۃ الرجال أخاہ)
 في ’’ المرقاۃ ‘‘ :
 وأجمع العلماء علی أن من خاف من مکالمۃ أحد وصلتہ ما یفسد علیہ دینہ أو یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ وبعدہ۔’’ ورب صرم جمیل خیر من مخالطۃ تؤذیہ ‘‘۔(۹/۲۳۰،کتا ب الآداب، باب ما ینہی من التہاجر والتقاطع الخ)ما في ’’ موسوعۃ القواعد الفقہیۃ ‘‘ : بقا عدۃ فقہیۃ:’’ الواجب لا یترک لسنۃ ‘‘ ۔ (۱۲/۱۳۸)(فتاوی محمودیہ: ۱۹/۸۹)
وفي ’’ الشامیۃ ‘‘:
 ونقل في القنیۃ : أن العداوۃ بسبب الدنیا لا تمنع ما لم یفسق بسببہا أو یجلب منفعۃ أو یدفع بہا عن نفسہ مضرۃ  وہو الصحیح وعلیہ الاعتماد ۔(۱۱/۱۵۹،کتاب الشہادات، مطلب : شہد أن الدائن أبرأہما وفلاناً عن الألف، دار الکتاب دیوبند)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/8/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔