03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناروےکے علاقوں میں نماز روزوں کا حکم
73065نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور دعوت دین اور خدمت دین کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوں گے۔ ناروے شمال میں دنیا کا آخری ملک ہے جہاں گرمیوں میں سورج کا طلوع اور غروب غیر معمولی طور پر مسلمان ممالک کی بہ نسبت بہت مختلف ہو جاتا ہے۔ ناروے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ناروے کا وہ علاقہ جو 66 ڈگری عرض البلد سے اوپر آتا ہے، وہاں گرمیوں میں کچھ دنوں کے لیے سورج 24 گھنٹے غروب نہیں ہو تااور جو علاقہ 66 ڈگری عرض البلد سے نیچے آتا ہے وہاں گرمیوں  میں سورج غروب تو ہوتا ہے لیکن شفق احمر غائب نہیں ہوتی، ناروے کا یہ حصہ 66ڈ گری اور  59ڈگری عرض البلد کے درمیان ہے۔ اس علاقہ میں مسلمان موجود ہیں، مساجد بھی ہیں، اور نمازیں ادا کی جارہی ہیں۔ لیکن گرمیوں کے ان دنوں میں نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسلمان مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں، کوئی مکہ مکرمہ  کو

 ام القری   ہونے کی وجہ سے معیار بناتے ہوئے مکہ ٹائم کے مطابق نماز ادا کرتا ہے۔ کوئی اقرب البلاد کے اصول کے تحت بوسنیا کے اوقات کے مطابق نمازیں ادا کرتا ہے اور کوئی اقرب الایام کے اصول کے تحت مقامی اوقات یعنی جس دن تمام نمازوں کے اوقات شرعی  علامات کے مطابق  موجود تھے اس کو سٹینڈر بناتا ہے اور اس کے مطابق نمازیں  ادا کی جاتی ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں ظہر کی نماز اس علاقے کے نصف النہار کے مطابق ادا کی جاتی ہے، جبکہ باقی نمازوں کے درمیان فاصلہ اسی ترتیب سے رکھ لیا جاتا ہے جس طریقے کو سٹینڈ ربنایاگیا ہے (مکہ ٹائم، بوسنیا کے اوقات، اقرب الایام ) یہاں آپ کے سامنے 3 شہروں  کا موازنہ رکھا گیا ہے جو 66 اور 59 ڈگری کے درمیان آتے ہیں ، اس جدول میں گرمیوں کے طویل ترین دن 21 جون کے حساب سے طلوع ، غروب، نصف  النہار، رات اور روزے کا دورانیہ درج ہے۔ ان سب علاقوں میں غروب اور طلوع موجود ہے لیکن غروب کا دورانیہ بہت مختصر ہے اور شفق احمر غائب نہیں ہوتی، یعنی مغرب کے بعد عشاء اور فجر کا شرعی وقت داخل نہیں ہوتا۔

شہر

عرض البلد

غروب

طلوع

رات کا دورانیہ

روزے کادورانیہ

نصف النہار

برونوئی سند

65.4

00:37

01:48

01:11

23 گھنٹے سے زائد

13:12

تھروند ہائم

63.4

23:38

03:00

03:22

21گھنٹے تقریبا

13:20

اوسلو

59.9

22.43

03:53

05:10

20گھنٹے تقریبا

13:18

 

 

 

 

 

 

نمازوں کے اوقات کے حوالہ سے ناروے کے اس علاقہ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے  66 اور 62 ڈگری کے درمیانی علاقے کے مسلمان غروب کا دورانیہ نہایت مختصر ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا تین طریقوں (مکہ ٹائم، بوسنیا کے اوقات، اقرب الایام )میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیتے ہیں، بعض مسلمان ان تین میں سے کسی کو اختیار کرنے کے بجائے لوکل غروب اور طلوع کے درمیان میں مغرب، عشاء اور فجر کی نماز ادا کرتے ہیں اور روزہ بھی 23 یا 22 گھنٹے کا رکھتے ہیں۔

62 اور 59 ڈگری کے درمیانی علاقے کے مسلمانوں کی اکثریت لوکل غروب اور طلوع ہی کو فالو کرتی ہے۔

ان علاقوں کے مسلمان غروب اور طلوع کے درمیان 4 سے 5 گھنٹے ہونے کی وجہ سے مغرب، عشاء، فجر اور رمضان میں تراویح  غروب اور طلوع کے درمیان ادا کرتے ہیں۔ البتہ نماز عشاء، فجر اور سحری کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے مندرجہ ذیل سات طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرتے ہیں ، یہ سب طریقے اجتہاری اور تقدیری ہیں کیوں کہ غروب کے بعد آسمان پر سفیدی رہتی ہے اور شفق احمر غائب نہیں ہوتی۔ یہ سب طریقے کسی خاص نص باشر عی دلیل پر نہیں، بلکہ تقدیر کے اصول کے تحت بنائے گئے ہیں۔

  1. سبع  اللیل:۔ غروب اور طلوع کو سات حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلا حصہ مغرب کا اور آخری حصہ فجر کا اور درمیانی پانچ حصے عشاء کے۔ اس طریقے پر عمل کریں تو دیگر طریقوں پر عمل کی بنسبت عشاء کے بعد تراویح کے لیے نسبتا وقت زیادہ ملتا ہے اور روزے کا دورانیہ بھی کم ترین بنتا ہے۔
  2. سدس اللیل:۔ غروب اور طلوع کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلا حصہ مغرب کا، آخری حصہ فجر کا اور درمیانی چار حصے عشاء کے۔ اس میں اور سبع  اللیل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
  3. نصف الليل - غروب اور طلوع کے درمیانی وقت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے پہلا حصہ مغرب اور عشاء کے لیے جبکہ اگلا آدھا حصہ فجر کے لیے۔ اس طریقے پر عمل کریں تو روز و طویل ترین بنتا ہے ، اسی طرح نصف اللیل سے قبل عشاء کے بعد تراویح پڑھنا اور سحری کھانا ممکن نہیں ہوتا۔
  4. مسلمان ممالک کی طرح غروب کے 90 منٹ بعد عشاء اور طلوع سے 190 منٹ پہلے سحری کا اختتامی وقت متعین کیا جاتا ہے۔
  5. جمع بین مغرب و عشاء اور سحری نصف اللیل یاسبع اللیل کے طریقے پر ، اس کے بعد نماز فجر ادا کی جاتی
  6. غروب کے بعد مغرب اور عشاء ادا کی جاتی ہے ، سورج جب افق سے نچلی ترین سطح پر جانے کے بعد افق کی طرف اٹھنا شروع ہو تو سحری کا اختتام ہوتا ہے ، اس کے بعد طلوع سے پہلے پہلے فجر ادا کی جاتی ہے۔
  7.  أقرب الایام جس آخری دن شفق أحمر غائب ہوئی تھی اس دن غروب اور شفق احمر کے دوران جتنا وقت تھا، اس وقت کو ان سارے دنوں میں غروب کے بعد مغرب کا وقت سمجھا جائے، جب تک وہ دن نہ آجائے جب دوبارہ شفق آخر غائب ہو نا شروع ہو، اسی طرح جس آخری دن فجر شرعی علامات کے مطابق موجود تھی، اس دن فجر اور طلوع کے درمیانی دورانیے کو ان تمام دنوں کے لیے سٹینڈر بنایا جائے جب تک دوبارہ شرعی علامات کے ساتھ فجر نہیں آتی۔

ان سات طریقوں کے علاوہ بوسنیا کے مسلمان اقرب البلاد کے اصول پر عمل کرتے ہیں، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

گزشتہ سال بوسنیا کے مفتی عام نے یورپ میں موجود بوسنیا کے ائمہ  کی طرف سے آنے والے استفسارات کے نتیجے میں ایک بڑی طویل بحث کے بعد اس بات پر فتوی دیا ہے کہ بوسنیا سے اوپر شمال کی طرف جتنے علاقے بھی موجود ہیں جہاں شفق آخر غائب نہیں ہوتی، ان دنوں بوسنین مسلمان بوسنیا کے نمازوں کے اوقات کو فالو کریں گے یعنی وہ مغرب کی نماز اور افطار کے لیے لوکل غروب کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ بوسنیا کے غروب کے مطابق  مغرب  کی نمازاور افطار کرلیا کریں گے اس طرح سحری اور فجر کے اوقات بھی بوسنیا کےمطابق ہوں گے۔ اس فتوی کے بعد ناروے کے تمام بو سنین اہل مساجد اور بوسنین کمیونٹی اوسلو کے غروب سے پہلے مغرب کی نماز اور افطار کر لیتی ہے۔ بوسنین کمیونٹی کو دیکھتے ہوئے باقی کچھ ملکوں کے مسلمان بھی گرمیوں کے دنوں میں بوسنیا کے نمازوں کے اوقات پر عمل کر رہے ہیں کیوں کہ مذکورہ بالا سات طریقوں کی بنسبت بوسنین طریقے میں آسانی اور قابل عمل ہونے کا پہلو زیادہ ہے۔

مذکورہ بالا سات طریقوں میں سے کسی بھی ایک طریقے کو اختیار کیا جائے تو اس میں چند چیلینجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلا:

  1.  مذکورہ بالا سات طریقوں میں غروب کے بعد مغرب، عشاء اور فجر رات 11 سے 3 کے درمیان ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس دوران نیند ممکن نہیں ہوتی اور فجر کے بعد صبح کام پر جانے کے وقت (7 بجے) تک بھی نیند پوری نہیں ہوتی، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات اور خواتین کے لیے بھی ان اوقات میں ان تین نمازوں کی ادائیگی مشکل ہے اور اس میں حرج کا پہلو نمایاں ہے۔
  2. نصف اللیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو فجر رات 01:30 پر ادا کی جاسکتی ہے لیکن اس صورت میں رمضان کے روزوں کا دورانیہ بہت طویل ہو جاتا ہے۔ اور عشا کے بعد نماز تراویح اور سحری کا اہتمام بھی نہیں ہو پاتا

کیوں کہ افطار 11 بجے ہے۔

  1.  رات کے ان اوقات میں مساجد میں آنا جاتا بھی ایک چیلینج ہے اور اکثریت گھر پر ہی نماز ادا کرتی ہے۔
  2.  نماز کی عادت اپنانے کے لیے اور نماز پر مداومت کے حوالے سے 10 سے 20 سال کی عمر کے درمیان والے نوجوان ان اوقات میں نماز پڑھنا مشکل سمجھتے ہیں۔ کچھ گھروں میں والدین مغرب اور عشاء کو اکٹھا ادا کروا دیتے ہیں اور فجر صبح اٹھنے کے بعد یعنی طلوع آفتاب کے بعد پڑھنے کا کہتے ہیں۔
  3. مقاصد شریعت کو دیکھا جائے اور دن اور رات کی تقسیم کے حوالے سے ایک متوازن تقسیم کو ذہن میں رکھا جائے تو ناروے میں یہ بات سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ غروب اور طلوع ہی کو سٹینڈر بنایا جائے چاہے وہ ایک گھنٹے کا 2 گھنٹے کا یا 4 گھنٹے کا غروب ہے۔

اس ساری صور تحال کو تفصیل سے بیان کر کے آپ سے راہ نمائی درکار ہے کہ:

  1. شریعت کی روشنی میں آپ کس طریقہ کار کو بہتر سمجھتے ہیں اور ان مشکلات کے حل کے لیے مذکورہ بالا سات طریقوں میں سے کسی طریقے پر عمل کرنے سے شریعت پر بھی عمل ہو سکتا ہے اور باقی معاملات زندگی بھی

اچھے انداز میں ادا کیے جاسکتے ہیں ؟

  1.  مذکورہ بالا تینوں شہروں میں غروب اور طلوع موجود ہے لیکن شفق أحمر غائب نہ ہونے کی وجہ سے عشاء اور  فجر کا شرعی وقت داخل نہیں ہو رہا، کیا ان تمام علاقوں (66سے 59 ڈگری) کے لیے ایک ہی طرح کے احکام ہوں

گے یا ان میں فرق کیا جا سکتا ہے ؟ اگر فرق کیا جاسکتا ہے تو اس کی حد بندی کس  بنیاد پر کی جائے گی ؟ 62  سے 66 ڈگری والے علاقے میں اضطراب بہت زیادہ ہے، بلکہ ایک گھنٹہ کے دوران مغرب اور عشاء کی نماز تراویح کی نماز پھر افطاری، سحری اور فجر کی نماز یہ سب مینیج کرنا ممکن نہیں ، 2 گھنٹوں میں بھی یہ سب مشکل ہے بلکہ تراویح تو ممکن نہیں۔ 3 گھنٹے میں تراویح کے علاوہ باقی کام ہو جاتے ہیں لیکن نیند کا مسئلہ ہے، بالکل رات کے درمیان میں یہ ترتیب بنانا ہر ایک کے لیے بہت مشکل ہے ۔ 4 گھنٹے میں کچھ وقت ترادیح  کامل جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ 1گھنٹہ ،2 گھنٹے ،4گھنٹے، یا5گھنٹے میں سے کس کو سٹینڈ ربنایا جائے اور کیوں بنایا جائے ؟ کچھ علماء 20 گھنٹے سے لمبے دورانیے کی صورت میں غروب سے قبل افطار کا کہتے ہیں، ناروے کی لوکل آئمہ کو نسل نے اس رائے کو اختیار کیا تھا، لیکن تمام آئمہ میں اس پر یکسوئی نہیں ہو سکی۔ جامعہ ازہر سے ایک فتوی کے مطابق 18 گھنٹے سے طویل روزے کو غروب سے پہلے افطار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اصل میں مسئلہ روزوں سے زیادہ نمازوں کا ہے۔ کیوں کہ ہر سال تقریبا 3 ماہ گرمیوں میں غروب کے بعد مغرب، عشاء اور فجر کی نماز کی ادائگی کے نتیجے میں رات کی نیند نہیں ہو پاتی۔

  1.  اگر اقرب البلاد کے اصول کو اختیار کیا جا سکتا ہو تو کیا اقرب البلاد ان تینوں کے لیے ایک ہی ہوگا یا ہر جگہ کے لیے مختلف ہو گا؟ اور اقرب البلاد اگر ان تینوں شہروں کے لیے ایک ہی بن سکتا ہے تو کیا پھر تمام پانچ نمازوں کے اوقات لوکل وقت کے بجائے اس جگہ کے اوقات لیے جائیں گے جسے اقرب البلاد بنایا جائے ؟ یا پھر نصف النہار حقیقی جو کہ ناروے کے شہر میں موجود ہے، اس کے مطابق ظہر ادا کی جائے اور باقی نمازوں کے اوقات کے درمیان میں اتنا فاصلہ رکھا جائے جتنا کہ اقرب البلاد والی جگہ پر وقفہ ہے ؟ جس کے نتیجے میں مقامی غروب سے پہلے مغرب اور افطار کیا جائے گا اور طلوع آفتاب کے بعد سحری اور فجر کی نماز ہو گی۔
  2. اقرب البلاد مسلمان ملک ہونا چاہیے یا کوئی بھی ایسی قریبی جگہ جہاں پانچوں نمازوں کے اوقات شرعی علامات کے ساتھ موجود ہوں چاہے وہ غیر مسلم شہر ہو؟
  3. کیا اوسلو دار الحکومت ہونے کی وجہ سے اوپر شمال کی طرف کے باقی علاقوں کے لیے اقرب البلاد بن سکتا ہے جبکہ اوسلو میں بھی شفق أحمر غائب نہیں ہوتی ؟
  4. کیا ناروے کے تمام مسلمان بوسنین مفتی کی طرف سے دیے گیے فتوی پر عمل کر سکتے ہیں ؟ اور مقامی غروب کے بجائے بوسنیا کو اقرب البلاد سمجھتے ہوئے بوسنیا کے غروب کے مطابق مغرب اور افطار کر سکتے ہیں ؟
  5.  اگر ہر صورت غروب کے بعد ہی مغرب، عشاء اور فجر ادا کرنی ہے تو کیا یہ تینوں نمازیں اکٹھی ادا کی جاسکتی

ہیں  یا ان میں وقفہ ضروری ہے ؟ اگر وقفہ ضروری ہے تو غروب اور طلوع کے درمیان ایک گھنٹہ ہونے کی صورت میں کیسے وقفہ رکھا جائے؟ مغرب، عشاء، سحری اور فجر کے اوقات کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اگر2  گھنٹے کا وقفہ ہو یا 4  گھنٹے

کا وقفہ ہو تو ایک ہی اصول کے تحت تقسیم ہو گی یا فرق ہو گا ؟

  1. کیا 10 سے 20 سال کے درمیانی بچوں کو رخصت دی جاسکتی ہے کہ وہ مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا کر کے سو جائیں اور فجر صبح اٹھ کر یعنی طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لیں ؟

ہمیں اندازہ ہے کہ آپ کی مصروفیات بہت زیادہ میں لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ اس حساس اور اہم موضوع کے حوالہ سے آپ ہمیں جلد تفصیلی جواب سے مطلع کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام جہود اور حسنات کو قبول فرمائے۔ مع السلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دنیا میں تین قسم کے مقامات پائے جاتے ہیں جن سے نماز روزہ کے احکام میں تبدیلی ہوتی ہے:

پہلی قسم : وہ مقامات جہاں سورج چوبیس گھنٹے میں غروب ہی نہیں ہوتا۔

دوسری قسم : وہ مقامات جہاں سورج تو غروب ہو جاتا ہے ، البتہ شفق احمر غروب نہیں ہوتی۔

تیسری قسم : وہ مقامات جہاں شفق احمر بھی غروب ہو جاتی ہے۔

ذیل میں ان سب مقامات کا تفصیلی حکم بیان کیا جاتا ہے :

وہ مقامات جہاں چوبیس گھنٹوں میں سورج غروب نہیں ہوتا:

نمازوں کا حکم :

اس علاقے والوں کے لیے نماز کا حکم یہ ہے کہ اس علاقے میں آخری بار جب پانچوں نمازوں کے اوقات شرعی علامات کے مطابق پائے گئے تھے ان دنوں کو معیار بنایا جائے ، ان دنوں میں جس نماز کا جو وقت تھا، اس وقت پر وہ نماز ادا کی جائے۔

روزوں کا حکم :

روزوں کے معاملے میں اس علاقے والوں کے لیے درج ذیل چار اقوال میں سے کسی بھی قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے:

1۔قریب ترین علاقہ جہاں غروب کے بعد ضرورت کے بقدر کھانے پینے کا وقت ملتا ہو اس کو معیار بنایا جائے، کہ وہاں جب غروب آفتاب ہو تو روزہ افطار کیا جائے اور وہاں جب سحری کا وقت ہو تو یہاں بھی سحری کی جائے۔

2۔ ہر چوبیس گھنٹے پورے ہونے سے پہلے اتنا وقت چھوڑا جائے کہ ضرورت کے بقدر کھانا پینا ہو سکے ۔

3۔ ان دنوں میں ناغہ کرے ، جب دن معمول پر آجائیں تو رمضان کی قضا کرے۔

4۔ قریب تر ایام جن میں چوبیس گھنٹے کے اندر طلوع و غروب ہوتا تھا، ان میں عصر کے بعد سے غروب تک جتنا وقت ہوتا تھا، ان دنوں میں عصر کے اتنی ہی دیر بعد روزہ افطار کیا جائے۔

وہ مقامات جہاں شفق احمر غروب نہیں ہوتی:

روزوں کا حکم:

ان علاقوں میں چونکہ طلوع و غروب پایا جاتا ہے، اس لیے اگر یہاں پر غروب کے بعد اتنا وقت ملتا ہو کہ ضرورت کے بقدر کھایا پیا جا سکے تو غروب تک روزہ رکھنا فرض ہے ، البتہ اگر اس کا متحمل نہ ہو تو چھوٹے دنوں میں قضا رکھے۔ اگر غروب کے بعد صرف اتناہی وقت ہو کہ یا کھانا پینا ہو سکتا ہے، یا پھر مغرب، عشاء، اور فجر کی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں تو ایسی صورت میں پہلے کھانا پینا کیا جائے، پھر اگر وقت ہو تو نمازیں پڑھی جائیں ورنہ ان کی قضا کی جائے۔

نمازوں کا حکم :

ان علاقوں میں نمازوں کا حکم یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز تو اپنے وقت معہود میں ادا کی جائے ، جبکہ باقی تین نمازوں میں تفصیل یہ ہے کہ چونکہ شفق أحمر غائب نہیں ہوتی ، اس لیے یہ علاقہ فاقد وقت العشاء ہے۔ شفق احمر کی تنصیف کی جائے گی ، نصف اول مغرب کا وقت ہو گا اور نصف ثانی فجر کا۔ درمیان میں عشا کا وقت فرض کیا جائے گا اور پھر نصف اول کے بعد و ترسمیت اس کی قضا پڑھی جائے گی۔ واضح رہے کہ تراویح نہیں پڑھی جائیں گی، کیونکہ سنن کی قضا نہیں ہوتی۔

چنانچہ اگر نصف اول میں اتناوقت ہو کہ مغرب کی نماز پڑھی جاسکے ، تو نصف اول میں مغرب کی نماز پڑھی جائے اور نصف ثانی میں فجر کی نماز پڑھی جائے، تاہم اگر نصف ثانی میں اتناوقت ہو کہ فجر سے پہلے عشاء کی قضا پڑھ سکتے ہیں تو پہلے عشاء کی قضا پڑھی جائے، پھر فجر پڑھی جائے، اگر اتنا وقت نہ ہو تو صرف فجر ہی پڑھی جائے اور طلوع کے بعد عشاء کی قضا کی جائے۔

اگر نصف اول میں اتنا وقت نہ ہو کہ مغرب کی نماز پوری پڑھی جاسکے، تاہم اتنا وقت ہے کہ تکبیر تحریمہ کہی جا سکتی ہے، تو مغرب کی نماز فرض ہے اگر چہ اس کی ادائیگی وقت کے بعد ہو، اگر نماز کا کچھ حصہ وقت کے اندر اور کچھ وقت کے بعد ادا کیا گیا تو جو وقت کے اندر ادا ہوا وہ ادا ہے اور جو وقت کے بعد ادا ہوا وہ قضا ہے۔ اگر طلوع سے قبل مغرب کی نماز کی تکمیل ممکن نہ ہو کہ طلوع تک اتنا وقت بھی نہ ہو کہ مغرب کی نماز کا بعض حصہ نصف اول میں ادا اور بعض حصہ نصف ثانی میں قضا پڑھی جاسکے، تو طلوع کے بعد ہی پوری نماز کی قضا کرلے۔ ایسے ہی نصف ثانی میں اگر فجر کی پوری دو رکعتوں کو بالاختصار پڑھنے کا بھی وقت نہ ہو تو طلوع کے بعد قضا کرلے، پہلے عشاءپڑھے، پھر فجر ۔ اور اگر مغرب بھی نہیں پڑھ سکا تو پہلے مغرب ، پھر عشاء، پھر فجر قضاء پڑھے۔

اگر نصف اول بقدر تحریمہ بھی نہیں ہے تو اس کا حکم انہی ایام جیسا ہو گا جن میں چو بیس گھنٹے میں طلوع و غروب نہیں ہوتا۔

وہ مقامات جہاں شفق احمر غروب ہوتی ہے:

روزوں کا حکم :

ان علاقوں میں چونکہ غروب آفتاب کے بعد اتنا وقت بآسانی مل جاتا ہے کہ ضرورت کے بقدر کھانا پینا ہو سکے ، اس لیے یہاں غروب تک روزہ رکھنا فرض ہے، البتہ اگر اس کا متحمل نہ ہو تو چھوٹے دنوں میں قضار کھے۔

نمازوں کا حکم :

ان علاقوں میں چونکہ شفق احمر غروب ہو جاتی ہے، اور حضرات صاحبین کے ہاں شفق احمر پر عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے۔ صاحبین کا قول مفتی بہ بھی ہے، لہذا ان علاقوں میں تمام نمازوں کے اوقات شرعی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے تمام نمازیں اپنے اوقات میں ہی ادا کی جائیں گی۔ البتہ رمضان میں اگر تراویح کا موقع نہ ملے تو انہیں چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وقت کے بعد ان کی قضا نہیں ہوتی۔

ملاحظه : حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کی تحقیق کے مطابق شفق احمر کے غروب کے وقت سورج کا زاویہ زیر افق 12 درجات ہوتا ہے۔ اور شفق ابیض مستطیر 15 درجے زیر افق پر غروب ہوتی ہے۔ لہذا ایسے غیر معتدل علاقوں میں حضرت رحمہ اللہ کی تحقیق پر عمل کرنا چاہیے اس میں سہولت بھی ہے۔

مذکورہ تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔بہتر اور راضح طریقہ وہی ہے جو او پر تفصیلاً ذکر کیا گیا، تاہم آپ کے ذکر کردہ طریقوں میں سے نصف اللیل والا طریقہ بھی درست ہے، مگر اس میں عشاء نصف اول میں نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ نصف ثانی میں اگر فجر سے پہلے وقت ہو، تو پہلے عشاء کی وترسمیت قضا کی جائے پھر فجر پڑھی جائے۔ تراویح نہ پڑھی جائے کیوں کہ سنن کی قضا نہیں ہوتی۔ اور اگر فجر سے پہلے عشاء کے لیے وقت نہ ہو تو صرف فجر ہی پڑھی جائے، طلوع کے بعد پھر عشاء کی وتر سمیت قضا کی جائے۔ اگر نصف اول میں صرف اتنا وقت ہو کہ اگر مغرب کی نماز پڑھی جائے تو کھانے پینے اور سحری کا وقت نہیں ملتا، تو پہلے کھانا پینا کیا جائے اس کے بعد اگر نصف اول کا وقت باقی ہو تو مغرب کی نماز اداء پڑھی جائے ،ور نہ اس کی قضا کی جائے۔

2۔ اس کا جواب اوپر "وہ مقامات جہاں شفق احمر غروب نہیں ہوتی " عنوان کے تحت آچکا، البتہ جہاں تک مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں نیند کا مسئلہ ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ

(الف)۔ یا تو غروب کے فورا بعد مغرب پڑھ کر سو جائیں ۔ طلوع سے پہلے اٹھ کر پہلے عشاء کی قضا کریں پھر فجر پڑھیں، البتہ اگر وقت کم ہو تو صرف فجر ہی پڑھیں طلوع کے بعد ہی پھر عشاء کی قضا کریں۔

(ب)۔ یا غروب کے بعد مغرب پڑھیں، نصف اللیل کے بعد عشاء کی قضا کر کے فجر پڑھ کر سو جائیں۔ رمضان میں اس دوسرے طریقے پر ہی عمل ہو سکتا ہے۔

3،4۔ سوال میں مذکورہ مقامات میں اقرب البلاد کو معیار بنانے کی ضرورت نہیں، تاہم جہاں ضرورت ہو، وہاں صرف ایسے مقام کو معیار بنانا ضروری ہے جہاں اوقات خمسہ شرعی علامات کے مطابق پائے جاتے ہوں، خواہ وہ مسلمانوں کا شہر ہو یا غیر مسلموں کا۔

5۔ اولا تو اس طریقہ پر عمل کیا جائے جو اوپر بیان کیا گیا جو کہ راجح ہے، تاہم اگر شافعیہ کے قول کے مطابق کوئی اقرب البلاد کے اصول پر عمل کرنا چاہتا ہے تو اقرب البلاد کے لیے ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں اوقات خمسہ شرعی علامات کے مطابق پائے جاتے ہوں، اوسلو میں چونکہ شفق احمر غائب نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے عشاء کا شرعی وقت داخل نہیں ہوتا، اس لیے اوسلو کے بجائے اس علاقے کو معیار بنانا چاہیے جہاں شفق احمد بھی غائب ہوتی ہے۔

6۔ اقرب البلاد کے اصول پر عمل اس وقت کیا جاتا ہے جہاں دن ہی دن رہتا ہو اور اس علاقے کے اقرب الایام پر عمل نہ ہو سکتا ہو کہ کبھی بھی اس علاقے میں چو بیس گھنٹے کے اندر اوقات خمسہ نہ پائے جاتے ہوں۔ جہاں سورج غروب ہوتا ہو اور غروب کے بعد بقدر ضرورت کھانے پینے کا وقت بھی ملتا ہو ، اور اکثر نمازوں کا وقت بھی پایا جاتا ہو ، وہاں غروب تک روزہ رکھنا اور ان نمازوں کو اپنے اوقات میں پڑھنا ضروری ہے۔

سوال میں ذکر کردہ علاقوں میں بھی چونکہ سورج غروب ہوتا ہے ، اگر چہ شفق احمر غائب نہیں ہوتی، اس لیے عشاء اور فجر کے علاوہ تمام نمازوں کا وقت پایا جاتا ہے ، ان نمازوں کو اپنے اوقات میں پڑھناضروری ہے، ایسے ہی غروب تک روزہ رکھنا بھی ضروری ہے، البتہ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو معمولی ایام میں قضار کھے۔ جبکہ بوسنیا کو اقرب البلاد مانتے ہوئے افطار غروب سے پہلے لازم آتا ہے، نیز مغرب کی نماز بھی قبل الوقت اداہور ہی ہے ، اس لیے ہماری رائے کے مطابق بوسنین مفتی کی طرف سے دیے گیے فتوی پر عمل کرنا درست نہیں۔

7۔ مغرب اور فجر کا وقت چونکہ موجود ہے ، عشاء کا وقت بھی فرض کر لیا جاتا ہے ، اس لیے یہ تینوں نمازیں غروب کے بعد ہی ادا کر ناضروری ہے جیسا کہ تفصیلا عرض کیا گیا۔ ان تینوں نمازوں کے لیے یہ ضابطہ یاد رکھا جائے کہ مغرب نصف اول میں اور فجر نصف ثانی میں پڑھنا ضروری ہے۔ فجر سے پہلے اگر وقت ہو تو عشاء فجر سے پہلے پڑھی جائے ورنہ طلوع کے بعد پڑھی جائے۔ اب اس کے بعد اختیار ہے چاہے تو ان نمازوں میں وقفہ کیا جائے یا اکٹھا اس طور پر پڑھی جائیں کہ مغرب نصف اول کے آخر میں پڑھی جائے، نصف ثانی داخل ہوتے ہی عشاء کی قضا پڑھ کر فجر پڑھی جائے، اور اگر نصف ثانی میں اتنا وقت نہ ہو کہ عشاء اور فجر دونوں پڑھی جاسکیں، تو صرف فجر پڑھی جائے ، طلوع کے بعد پھر عشاء کی قضا کی جائے۔

8۔بالغ حضرات کے لیے نہ ہی جمع بین المغرب والعشاء جائز ہے، کیوں کہ عشاء قبل الوجوب ادا ہو گی، اور نہ ہی فجر طلوع کے بعد جائز ہے کیوں کہ نماز قضا کرنا بلا ضر روت شرعیہ جائز نہیں۔

حوالہ جات

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين : 366,362/1)

( وفاقد وقتهما ) كبلغار ، فإن فيها يطلع الفجر قبل غروب الشفق في أربعينية الشتاء ( مكلف بهما فيقدر لهما ) ولا ينوي القضاء لفقد وقت الأداء به أفتى البرهان الكبير واختاره الكمال.

قال العلامة ابن عابدين : بقي الكلام في معنى التقدير ، والذي يظهر من عبارةالفيض أن المراد أنه يجب قضاء العشاء ، بأن يقدر أن الوقت أعني سبب الوجوب قد وجد كما يقدر وجوده في أيام الدجال على ما يأتي ؛ لأنه لا يجب بدون السبب ، فيكون قوله ويقدر الوقت جوابا عن قوله في الأول لعدم السبب .

وحاصله أنا لا نسلم لزوم وجود السبب حقيقة بل يكفي تقديره كما في أيام الدجال .

ويحتمل أن المراد بالتقدير المذكور هو ما قاله الشافعية من أنه يكون وقت العشاء في حقهم بقدر ما يغيب فيه الشفق في أقرب البلاد إليهم ، والمعنى الأول أظهر....... إذا علمت ذلك ظهر لك أن من قال بالوجوب يقول به على سبيل القضاء لا الأداء ، ولو كان الاعتبار بأقرب البلاد إليهم لزم أن يكون الوقت الذي اعتبرناه لهم وقتا للعشاء حقيقة بحيث تكون العشاء فيه أداء مع أن القائلين عندنا بالوجوب صرحوا بأنها قضاء وبفقد وقت الأداء.......... فتعين ما قلنا في معنى التقدير ما لم يوجد نقل صريح بخلافه .

وأما مذهب الشافعية فلا يقضي على مذهبنا........ وقد يقال : لا مانع من كونها لا أداء ولا قضاء كماسمى بعضهم ما وقع بعضها في الوقت أداء وقضاء ، لكن المنقول عن المحيط وغيره أن الصلاة الواقع بعضها في الوقت وبعضها خارجه يسمى ما وقع منها في الوقت أداء ، وما وقع خارجه يسمى قضاء اعتبارا لكل جزء بزمانه فافهم ........ أقول : لا يخفى أن القائلين بالوجوب عندنا لم يجعلوا لتلك الصلاة وقتا خاصا بها بحيث يكون فعلها فيه أداء وخارجها قضاء كما هو في أيام الدجال ؛ لأن الحلواني قال بوجوبها قضاء والبرهان الكبير قال : لا ينوي القضاء لعدم وقت الأداء ، وبه صرح في الفتح أيضا ، فأين الإلحاق دلالة مع عدم المساواة ؟ فلو كان بطريق الإلحاق أو القياس لجعلوا لها وقتا خاصا بها تكون فيه أداء ، وإنما قدروه موجودا لإيجاب فعلها بعد الفجر وليس معنى التقدير ما قاله الشافعية كما علمت وإلا لزم كونها فيه أداء وقد علمت قول الزيلعي إنه لم يقل به أحد : أي بكونها أداء ؛ لأنه لا يبقى وقت العشاء بعد الفجر .

والأحسن في الجواب عن المحقق الكمال ابن الهمام أنه لم يذكر حديث الدجال ليقيس عليه مسألتنا أو يلحقها به دلالة ، وإنما ذكره دليلا على افتراض الصلوات الخمس وإن لم يوجد السبب افتراضا عاما ؛ لأن قوله وما روي معطوف على قوله ما تواطأت عليه أخبار الإسراء ، وما أورده عليه من عدم الافتراض على الحائض والكافر يجاب عنه بما قاله المحشي من ورود النص بإخراجهما من العموم .

هذا وقد أقر ما ذكره المحقق تلميذاه العلامتان المحققان ابن أمير حاج والشيخ قاسم .

والحاصل أنهما قولان مصححان ، ويتأيد القول بالوجوب بأنه قال به إمام مجتهد وهو الإمام الشافعي كما نقله في الحلية عن المتولي عنه........

[ تنبيه ]

 ورد في حديث مرفوع { أن الشمس إذا طلعت من مغربها تسير إلى وسط السماء ثم ترجع ثم بعد ذلك تطلع من المشرق كعادتها } .

قال الرملي الشافعي في شرح المنهاج : وبه يعلم أنه يدخل وقت الظهر برجوعها ؛ لأنه بمنزلة زوالها ، ووقت العصر إذا صار ظل كل شيء مثله ، والمغرب بغروبها .

وفي هذا الحديث أن ليلة طلوعها من مغربها تطول بقدر ثلاث ليال ، لكن ذلك لا يعرف إلا بعد مضيها لانبهامها على الناس ، فحينئذ قياس ما مر أنه يلزم قضاء الخمس ؛ لأن الزائد ليلتان فيقدران عن يوم وليلة وواجبهما الخمس ............

 [ تتمة ]

لم أر من تعرض عندنا لحكم صومهم فيما إذا كان يطلع الفجر عندهم كما تغيب الشمس أو بعده بزمان لا يقدر فيه الصائم على أكل ما يقيم بنيته ، ولا يمكن أن يقال بوجوب موالاة الصوم عليهم ؛ لأنه يؤدي إلى الهلاك .

فإن قلنا بوجوب الصوم يلزم القول بالتقدير ، وهل يقدر ليلهم بأقرب البلاد إليهم كما قاله الشافعية هنا أيضا ، أم يقدر لهم بما يسع الأكل والشرب ، أم يجب عليهم القضاء فقط دون الأداء ؟ كل محتمل ، فليتأمل .

ولا يمكن القول هنا بعدم الوجوب أصلا كالعشاء عند القائل به فيها ؛ لأن علة عدم الوجوب فيها عند القائل به عدم السبب ، وفي الصوم قد وجد السبب وهو شهود جزء من الشهر وطلوع فجر كل يوم ، هذا ما ظهر لي ، والله تعالى أعلم .

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (2/ 178)

والصحيح أنه لا ينوي القضاء لفقد وقت الاداء، ومن أفتى بوجوب العشاء يجب على قوله الوتر أيضا.

مراقي الفلاح (ص: 117)

( ومن لم يجد وقتهما ) أي العشاء والوتر ( لم يجبا عليه ) بأن كان في بلد كبلغار وبأقصى الشرق يطلع فيها الفجر قبل مغيب الشفق في أقصر ليالي السنة لعدم وجود السبب وهو الوقت وليس مثل اليوم الذي كسنة من أيام الدجال للأمر فيه بتقدير الأوقات وكذا الآجال في البيع والإجارة والصوم والحج والعدة كما بسطناه في أصل هذا المختصر والله الموفق.

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : 179)

 قوله: "كبلغار" قال في القاموس بلغر كقرطق يعني بضم فسكون والعامة تقول بلغار مدينة الصقالبة ضاربة في الشمال شديدة البرد اهـ قوله: "في أقصر ليالي السنة" وهو أربعون ليلة في أول الصيف عند حلول الشمس رأس السرطان فإن الشمس تمكث عندهم على وجه الأرض ثلاثا وعشرين ساعة وتغرب ساعة واحدة على حسب عرض البلد قوله: "وليس مثل اليوم الخ" روى مسلم عن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الدجال ولبثه في الأرض أربعين يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم" قلنا فذلك اليوم الذي كسنة يكفينا فيه صلاة يوم قال: "لا قدروا له قدره" اهـ قال الأسنوي ويقاس عليه اليومان التاليان واستظهر الكمال وجوب القضاء استدلالا بحديث الدجال وتبعه ابن الشحنة فصححه في ألغازه وذكر في المنح أنه المذهب ولا ينوي القضاء لفقد وقت الأداء وفرق في النهر بأن الوقت موجود حقيقة في يوم الدجال والمفقود. العلامة فقط بخلاف ما نحن فيه فإن الوقت لا وجود له أصلا ورد بأن الوقت موجود قطعا والمفقود هو العلامة فقط فإذن لا فرق وتمامه في تحفة الأخيار.

ذیشان گل بن انار گل فقہ الحلال

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

01/ رمضان 1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ذیشان گل بن انار گل

مفتیان

مفتی محمد صاحب / شہبازعلی صاحب