021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی شدہ عورت نےکلمہ کفرکہاتواس کےنکاح کاحکم
73082ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ ایک شادی شدہ عورت نےکلمات کفرکہے،جس سےوہ اسلام سےخارج ہوگئ،اب سوال یہ ہےکہ کیااس کانکاح ٹوٹ گیاہےیاباقی ہے؟

 

o

صورت مسئولہ میں اگرشادی شدہ عورت نےواضح طورپرکلمہ کفرکاارتکاب کیااورایسےالفاظ کہے،جس میں کسی بھی طرح تاویل نہ ہوسکتی ہواوراس کی بناءپرمعتبرمفتیان کرام نےواقعہ  کی تحقیق کےبعدعورت کے"مرتدیعنی دائرہ اسلام سےخارج ہونے"کافتوی دیا ہوتوپھرکفریہ کلمات کی وجہ سےعورت دائرہ اسلام سےخارج ہوجائےگی،البتہ مفتی بہ قول کےمطابق اس کانکاح سابقہ شوہرسےبدستورقائم رہےگا،لیکن عورت پرتجدیدایمان کےساتھ ساتھ تجدیدنکاح(نکاح کی مجلس میں دوگواہوں کی موجودگی میں نئےمہرکے ساتھ ایجاب وقبول کرنا)بھی ضروری ہے۔

 شوہرکےلیےعورت کی طرف سےتجدیدنکاح کےبغیرزوجیت کےتعلقات قائم کرناشرعاجائزنہیں،ایسےمیں یاتوتجدیداسلام کرکےاپنےسابق شوہرکےساتھ ازدواجی زندگی گزارےیاپھرشوہرسےطلاق حاصل کرلے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية 17 /  312:
إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر ، ووجه واحد يمنع ، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر ، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق ، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير ، فهو مسلم ، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي ، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط ۔
"الفتاوى الهندية 17 /  311:
ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط ، وما كان خطأ من الألفاظ ، ولا يوجب الكفر ، فقائله مؤمن على حاله ، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط ۔
"الفقه الأكبر"ص: 43:
لَا يكفر مُسلم بذنب مَا لم يستحله۔۔ولا نكفر مسلما بذنب من الذنوب وإن كانت كبيرة إذا لم يستحلها ولا نزيل عنه اسم الإيمان ونسميه مؤمنا حقيقة ويجوز ان يكون مؤمنا فاسقا غير كافر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

04 /رمضان 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔