021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوٹیوب چینل بنانے اور اشتہارات لگانے کا حکم
73311اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

تلخیص سوال:    میں یوٹیوب چینل بنانے کی خواہش رکھتا ہوں اور اس پر ان علماء کرام کے بیانات چلانا چاہتا ہوں جو اپنے بیانات کو سوشل میڈیا پر ڈالنے کو معیوب نہیں سمجھتے اور بعض کے اپنے چینل بھی ہیں۔  ان کے بیانات چینل پر ڈال کر اپنے اکاؤنٹ کے زریعے پھیلانے اور ان پر حتی الامکان جائز اشتہارات لگا کر اسے اپنے مستقل روزگار کا ذریعہ بنانا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ اس طرح کی کمائی کا کیا حکم ہوگا؟

o

یوٹیوب چینل پر اشتہارات لگانے کا عمل گوگل ایڈ سینس کے ذریعے ہوتا ہے۔ گوگل چینل مالک سے اس کے چینل پر جگہ اجارے پر لیتا ہے اور اس کی اجرت اسے ادا کرتا ہے۔ اس میں تین طرح کے اشتہارات ہوتے ہیں: تحریری، تصویری اور ویڈیو۔ ان کی کمائی کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

تحریری و تصویری اشتہارات:

تحریری و تصویری اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1.     جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار جائز ہو۔ لہذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔

2.     گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

3.     کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے اور اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر) پر مشتمل ہو  تو اس کا گناہ چینل مالک کو نہیں ہوگا۔ البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

ویڈیو اشتہارات:

جو اشتہارات ویڈیو کی شکل میں ہوں ان کی آمدن مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1.     جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار جائز ہو۔ لہذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔

2.     گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

3.     کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے اور اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر) پر مشتمل ہو  تو اس کا گناہ چینل مالک کو نہیں ہوگا۔ البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

4.     بیک گراؤنڈ میوزک تکنیکی لحاظ سے ویڈیو سے الگ چیز ہے جسے ویڈیو میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ چینل کا مالک گوگل ایڈسینس کو ویڈیو لگانے کے لیے اجارے کے طور پر جگہ دیتا ہے ، بیک گراؤنڈ میوزک لگانے کے لیےنہیں دیتا۔ لہذا اگر اشتہار کا مواد اور بنیادی کاروبار جائز ہو لیکن اس کے بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو تو مالک پر لازم ہے کہ اولاً بذریعہ ای میل یا کسی اور طریقے سے صراحتاً گوگل کو میوزک  نہ لگانے کا کہے۔ اگر گوگل میوزک نہیں ہٹاتا  تو مالک اپنے چینل اور ویڈیوز میں یہ تحریر کر دے کہ اشتہار کی آواز بند کر دی جائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص آواز بند نہیں کرتا تو اس کا گناہ مالک کو نہیں ہوگا اور اس کی آمدن جائز ہوگی۔

مذکورہ بالا جواب سوال میں مذکور مسئلے کا اصولی جواب ہے۔ اس کے اطلاق کے لیے دو باتیں سمجھ لینی چاہئیں:

1.     کسی عالم کی ویڈیو (خصوصاً جب کہ ان کا اپنا یوٹیوب چینل ہو اور وہ کہیں اور ویڈیو پوسٹ کرنا مناسب نہ سمجھتے ہوں) ان کی اجازت کے بغیر اپنے چینل پر شئیر کرنا اور اسے کمائی کا ذریعہ بنانا ایک غیر اخلاقی اور نا مناسب فعل ہے۔ لہذا ایسے کسی کام سے پہلے اجازت لے لینی چاہیے۔

2.     اگر کوئی شخص کسی اسلامی چینل پر تمام شرائط کا لحاظ کرکے اشتہارات لگاتا ہے تو یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ درمیان میں بعض اوقات ایسے اشتہارات آ جاتے ہیں جو نامحرم کی تصاویر اور میوزک وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور دینی گفتگو و تقاریر کے درمیان یہ چیزیں شروع  ہو جاتی ہیں اس لیے مناسب ہے کہ ان اشتہارات سے اجتناب کیا جائے جو ویڈیو کے درمیان میں آتے ہیں۔ گوگل مالک کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کس قسم کے اشتہارات اپنے چینل پر چلانا چاہتا ہے۔

حوالہ جات

"وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط."
(الفتاوی الھندیۃ، 4/450، ط: دار الفکر)
قال الحصكفی رحمہ اللہ تعالی : " (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي."
قال ابن عابدين ؒ: " (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية۔۔۔."
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/392، ط: دار الفكر)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

03/ ذو القعدہ 1442ھ

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔