021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اشتہارات دیکھنا اور ان کا پیکج خریدنا
73417اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میرا سوال آن لائن کام کے متعلق ہے۔

ایک ویب سائیٹ ہے شوپو ایڈز جس پر رجسٹر ہونے کے بعد ایڈز خریدنے پڑتے ہیں اور ان کو 30 سیکنڈ کے لیے اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھنا ہوتا ہے۔  شوپو ایڈ والے اس پر کچھ رقم ادا کرتے ہیں۔ یہ رقم آپ کی خریداری پر انحصار کرتی ہے یعنی اگر آپ نے کم قیمت والا پیکج خریدا ہے تو اس پر آپ کو کم پیسے ادا کرے گی اور گر آپ نے زیادہ پیسے خرچ کر کے مہنگے والا پیکج خریدا ہےتو کمپنی آپ کو اسی کام کا زیادہ ادا کرے گی۔ جبکہ آپ اگر آگے ریفر کرتے ہیں تو کمپنی والے آپ کو اس کی کمیشن/ قیمت ادا کرتے ہیں۔

آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا شریعت کی رو سے ایسا کام کرنا جائز ہے؟

o

سوال میں مذکور کام میں مندرجہ ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں:

1.     اشتہارات دیکھنے کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے جس میں اشتہار دیکھنے والے کو اشتہار دیکھنے کی اجرت دی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے۔ اس کے برعکس یہ کام جعل سازی کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے، مثلاً کمپنیاں اشتہار بازی (Advertisement) اس لیے  کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہو سکے،  جبکہ یہاں کسی کمپنی کو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کی پراڈکٹ یا ایپلیکیشن تک اتنے لوگوں کی رسائی ہے حالانکہ وہ لوگ اپنے معاوضے کے لیے اشتہار دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یوٹیوب چینل پر غلط طریقے سے ویورز لا کر یو ٹیوب، گوگل ایڈسینس اور اشتہار دینے والی کمپنیوں کو بھی دھوکہ دیا جاتا ہے۔ لہذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس کی اجرت لینا درست نہیں ہے۔

2.     اشتہارات دیکھنے کے کام کے لیے پیکج خریدا جاتا ہے جو حقیقتاً اجارے (ملازمت) کے حق کو خریدنا ہے۔ یہ حق مجرد کی بیع ہے یعنی بلا کسی عوض ادائیگی کی ایک صورت ہے اور اکل بالباطل اور رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ جائز نہیں  ہے اور اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔

3.     کمیشن  دینے کا جو طریقہ عموماً استعمال ہوتا ہے اسےملٹی لیول مارکیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ چونکہ کمپنی کا افراد کے ساتھ بنیادی معاملہ ہی درست نہیں ہے لہذا اس میں کسی کو شامل کروانا اور اس کی اجرت وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں اشتہارات کے پیکجز خریدنا، اشتہارات دیکھنا اور اس کام میں مزید ممبر بنانا جائز نہیں ہے اور اس کی اجرت بھی شرعاً درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.
(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، مقالة الشيخ محمد تقي العثماني، 5/1931)
 قال الحصكفي ؒ: "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."
علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل."
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

15/ ذو القعدہ 1442ھ 

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔