03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باپردہ عورت کا بیوٹی پارلر سے تیار ہونے کاحکم
73582جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

باپردہعورت کا بیوٹی  پارلر  سے تیار  ہونا  کیسا  ہے ؟بیوٹی  پار لر چلانے  والی خواتین اکثر  دین کے بارے میں علم نہیں  رکھتیں ، ان کے پاس جاکر میکپ  وغیرہ کروانا  ان کو  اجرت دینا جائز ہے یانہیں؟کیا  یہ فضول خرچی میں  تو نہیں  آتا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت  مطہرہ نے  خواتین کو بناؤ سنگھار  کی ایک حد تک اجازت  دی ہے ، مثلا  خواتین کو حکم ہے کہ  اپنے ہاتھوں پر مہندی لگایا کریں ، بالوں کو کنگی کریں ،تیل لگائیں ،نیز شادی  شدہ  خواتین کو اپنے شوہروں  کو خوش کرنے کی نیت سے  زیب وزینت  اختیا ر کرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔

خواتین کے لئے زیب وزینت  کا  اصل طریقہ یہ ہےکہ ہر خاتون  اپنے گھر کے اندراس کا  انتظام کریں   کہ خاتون خوداپنے ہاتھوں پرمہندی لگالے،چہرے کا داغ دھبہ ختم کرنے کے لئے پاوڈر یاکریم وغیرہ کوئی پاک  چیز  استعمال کرلے،اسی طرح  گھر کی خواتین  آپس میں ملکر  ایک دوسرے کو  مہندی لگالیں ،بالوں میں کنگی کرلیں  ، یا شادی کے خاص موقع پر کسی باپردہ  خاتون  کو جواس کام میں ماہر ہو گھر  بلاکر  اس  سے  جائز  حدود میں رہ کر بناؤ سنگھار  کروایا جائے ،یہ ساری  صورتیں شرعا جائز ہیں ۔ اور جائز کام کی اجرت لینا دینا بھی جائز ہے ۔

لیکن  کسی خاتون کا بناؤ سنگھار میں  اس قدرغلو کرنا کہ بناؤ سنگھار  کی وجہ سے  وہ کا فر  فاسق اوربے دین عورتوں کے    مشابہ ہوجائے ،مثلا  زیب وزینت کے نام پر بھوئیں کٹوانا ،چننا، یاسر کے بالوں کو کٹواکر  چھوٹے  کروانا،یا کوئی ایسی کریم استعمال کرناجس کی تہ جمتی ہو  جو وضوء غسل کی صحت سے  مانع ہو ، بناؤ سنگھار کے نام پر ایسے کام   گھر میں  خود کرنا بھی جائز نہیں  اور کسی  بے دین  خاتون سے کروانا بھی جائز نہیں ،اوراس پر اجرت کا لین دین بھی جائز نہیں ۔

نیز کسی خاتون کا  ایسے  بیوٹی پالر جانا  بھی جائز نہیں جو گھر سے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے آنے جانے میں  فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو،یا وہاں  مرداور خواتین کا اختلاط ہو، یا سینٹر میں کام کرنے والی خواتین بے دین  ہوں  یا مرد ہوں ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ خواتین کے لئے  جائز حدود میں رہ کر  خود  زیب وزینت حاصل کرنا جائزہے  خصوصا  اگر شوہر کو خوش کرنے کی نیت سے  ہوتواجر وثواب کا باعث ہے ،لیکن آج کے دور میں  بیوٹی پارلر کے نام سےجو سینٹرزبنےہوئےہیں ان میں  عموما  خلاف  شرع  امور کا ارتکاب پایا جاتا ہے ،  اس لئے دیندار خواتین کو بیوٹی  پالر میں  جانے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 505)

 قال النبي صلى الله عليه و سلم : " لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال " . رواه البخاري

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 505)

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة "

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 373)

«لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة» النامصة التي تنتف الشعر من الوجه والمتنمصة التي يفعل بها ذلك

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 373)

والواشمة: التي تشم في الوجه والذراع، وهو أن تغرز الجلد بإبرة ثم يحشى بكحل أو نيل فيزرق والمستوشمة: التي يفعل بها ذلك بطلبها والواشرة: التي تفلج أسنانها أي تحددها وترقق أطرافها تفعله العجوز تتشبه بالشواب والمستوشرة: التي يفعل بها بأمرها اهـ اختيار، ومثله في نهاية ابن الأثير وزاد أنه روي عن عائشة - رضي الله تعالى عنها - أنها قالت: ليس الواصلة بالتي تعنون. ولا بأس أن تعرى المرأة عن الشعر، فتصل قرنا من قرونها بصوف أسود وإنما الواصلة التي تكون بغيا في شبيهتها فإذا أسنت وصلتها بالقيادة والواشرة كأنه من وشرت الخشبة بالميشار غير مهموز اهـ

قوله والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب.

النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل      

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم  ذی الحجہ  1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب