| 74208 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
میں نےایک عمارت اس غرض سے بنائی ہے کہ کرایہ کی صورت میں نفع آئے گا،کیا عمارت کی قیمت پر زکاۃ -واجب ہوگی یا کرایہ کی مالیت پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مذکورہ میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں تو زکاۃ کے حساب کے دن کرایہ کی رقم میں سے جتنی رقم باقی ہو اس کو مالِ زکاۃ میں شامل کرکے زکاۃ دی جائے گی۔اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو جس دن آپ کے پاس بقدر نصاب مال جمع ہوجائے وہ تاریخ نوٹ کرلیں پھر اگلے سال اسلامی مہینے کی اسی تاریخ کو بھی اگر آپ کے پاس بقدر نصاب رقم موجود ہے تو اس کا 5ـ2فیصد بطور زکاۃ کے ادا کردیں۔اگر موجود نہیں ہے تو زکاۃ دینا لازم نہیں۔
ملاحظہ: بقدر نصاب سے مراد ساڑے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہے۔چاہے وہ رقم کرائے والا ہو یا کرایہ کے ساتھ دوسری نقد رقم یا چاندی یا مال تجارت ملا کر ہو۔
بہر حال زکاۃ کرایہ کی رقم پر واجب ہوگی،عما رت کی مالیت پر نہیں۔
حوالہ جات
(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد، ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها).(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الزکاۃ:3/126)
وفی الکبری: اذااشتری دارا،او عبدا للتجارۃ فآجرہ خرج من ان یکون للتجارۃ؛لانہ لما آجرہ فقد قصد الغلۃ فخرج عن حکم التجارۃ.(الفتاوی التاتارخانیۃ،الفصل الرابع:3/167)
(ومنها) كون المال ناميا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل إلا من المال النامي ولسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب)بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ:2/11)
محمدانس جمال
دار الافتا جامعۃ الرشید کراچی
15/صفر/1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس جمال بن جمال الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


