03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقتافوقتامختلف الفاظ سےطلاق کاحکم(میں نےتم کوآزادکیا, کہاہےکہ طلاق لو اورجاؤ, اگرتم بغیراجازت گھرسےباہرگئی توتم میرےنکاح سےباہرہو)
74199طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم درج ذیل کچھ سوالات ہیں:مسئلہ یہ ہےکہ میری زوجہ سےوقتافوقتا یہی بات رہتی ہےکہ میں تمہیں آزادکردونگا،میں نےتم کوآزادکیا،اوربعض اوقات یہ بھی کہاہےکہ طلاق لو اورجاؤاوراگرتم بغیراجازت گھرسےباہرگئی توتم میرےنکاح سےباہرہو،یہ 5سالوں سےچلتاآرہاہے۔میری راہنمائی کیجیےکہ میری زوجہ مجھ پرحرام ہےیاحلال؟

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ یہ مختلف الفاظ ایک ایک مہینہ کےوقفےسےکہےگئےہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالاالفاظ میں سےپہلاجملہ"میں تمہیں آزادکردونگا"چونکہ مستقبل کےلیےہے،لہذااس سےفی الوقت طلاق واقع نہیں ہوئی،مستقبل میں جب آزادکرےگاتوپھرآزادکاجوشرعی حکم ہےوہ لاگوہوگا۔

دوسرجملہ "میں نےتم کوآزادکیا"اس کاحکم یہ ہےکہ اگریہ لفظ بولتےوقت طلاق کی نیت ہویا صورت حال اس بات پردلالت کرےکہ اس لفظ سےطلاق مرادلی گئی ہو(مثلامذاکرہ طلاق کےوقت یابیوی سےلڑائی جھگڑاکرتےہوئےیہ الفاظ کہےجائیں)تواس کےذریعہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ لڑائی جھگڑاچلتارہتاہےتواس لفظ سےایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے۔

تیسرےجملے"طلاق لواورجاؤ"میں چونکہ طلاق کالفظ صراحتامذکورہے،اس لیےاس کاحکم یہ ہےکہ اس سےایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے،سائل کی وضاحت کےمطابق یہ لفظ پہلی طلاق بائن کی عدت میں(ایک مہینہ کےبعد) کہاگیاہےتوطلاق رجعی پہلی طالق بائن کےساتھ مل کردوطلاق بائنہ واقع ہوگئی ہیں۔

چوتھاجملہ"اگرتم بغیراجازت گھرسےباہرگئی توتم میرےنکاح سےباہرہو"یہ تعلیق طلاق کاجملہ ہے،اگرشرط پائی جائےاورشوہرکےلفظ"تم میرےنکاح سےباہر ہو"سےطلاق دینےکی نیت ہوتوپھرایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے،لیکن اس کےلیےشرط یہ ہےکہ جس وقت کہاجائےاس وقت بیوی نکاح میں ہو۔

صورت مسئولہ میں دوطلاق بائنہ کےبعدچونکہ بیوی نکاح میں نہیں رہی توطلاق کومعلق کرنےاورشرط پائےجانےسےمزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،(بشرطیکہ اس کےعلاوہ صریح الفاظ میں  طلاق نہ دی ہو،ورنہ تین طلاق مغلظہ واقع سمجھی جائیں گی اوربغیرحلالہ کےدوبارہ نکاح بھی نہ ہوسکےگا)اس لیےموجودہ صورت میں دوطلاق بائنہ کی عدت میں یاعدت کےبعددوبارہ نکاح ہوسکتاہے،لیکن آئندہ کےلیےطلاق کےالفاظ کےایسےبےہنگم استعمال سےاجتناب لازم ہوگا۔

چونکہ بیوی سےسابقہ لڑائی جھگڑاچلاآرہاہے،اس لیےبہتر یہ ہےکہ  بیوی کی عدت کےدوران یاعدت گزرنےکےبعددوبارہ اس  سے شادی نہ کی جائے۔

حوالہ جات

" رد المحتارعلی الدرالمختار" 11 / 166:باب الكنايات(كنايته)عند الفقهاء(مالم يوضع له)أي الطلاق(واحتمله)وغيره(ف) الكنايات(لاتطلق بها)قضاء( إلا بنية أو دلالة الحال)وهي حالة مذاكرة الطلاق أوالغضب۔

 فالحالات ثلاث : رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب ، أو لا ولا( فنحواخرجي واذهبي وقومي ) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة ( يحتمل ردا ، ونحو خلية برية حرام بائن ) ومرادفها كبتة بتلة(يصلح سبا ونحو اعتدي واستبرئي رحمك ، أنت واحدة ، أنت حرة ، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لايحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا)أي غيرالغضب والمذاكرة(تتوقف الأقسام)الثلاثة تأثيرا(على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى ۔(وفي الغضب) توقف(الأولان)إن نوى وقع وإلالا(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف(الأول فقط)ويقع بالأخيرين وإن لم ينولأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة ۔۔۔

"رد المحتار"11 / 3:

ومنه : خذي طلاقك فقالت أخذت ، فقد صرح الوقوع به بلا اشتراط نية كما في الفتح ، وكذا لا يشترط قولها أخذت كما في البحر ۔

"الفتاوى الهندية" 8 / 396:

 ولو قال لها خذي طلاقك يقع من غير نية كذا ههنا كذا في المحيط۔

"رد المحتار" 11 / 193:

( الصريح يلحق الصريح و ) يلحق ( البائن ) بشرط العدة۔

"الفتاوى الهندية" 8 / 330:

ولو قال أنا بريء من نكاحك يقع الطلاق إذا نوى ولو قال ابعدي عني ونوى الطلاق يقع كذا في فتاوى قاضي خان ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

16/صفر 1443 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب