021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حنفی شخص کے لیے ہاتھ چھوڑکر نماز پڑھنے کاحکم
71605نماز کا بیاننماز کی سنتیں،آداب اورپڑھنے کا طریقہ

سوال

کیا ہم ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھ سکتے ہیں؟

o

امام عبدالرزاق نے اپنی "مصنف" میں، ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی "مصنف" میں، امام ابن منذر نے "الاوسط"   میں ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین میں بعض سے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا منقول ہے، البتہ ہمارے ہاں یہ عمل معمول بہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے ہاں  اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل راجح ہے، اور رسول اللہ ﷺ کا معمول بھی اس کے خلاف ہےلہذا اس پر کسی حنفی کے لیے عمل درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم (4/ 254)
حدثنا هشام بن عمار، نا عبد الله بن سفيان، من أهل المدينة، قال هشام: وهو من ثقاتهم قال: سمعت جدي عقبة بن أبي عائشة يقول: رأيت عبد الله بن جابر البياضي صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعا إحدى يديه على الأخرى في الصلاة "
أخبرنا مالك، أخبرنا ابن شهاب، أن عمر بن الخطاب، وعثمان بن عفان، رضي الله تعالى عنهما «كانا يفعلان ذلك» .قال محمد: لا نرى بهذا بأسا، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله۔
الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم (4/ 254)
 حدثنا هشام بن عمار، نا عبد الله بن سفيان، من أهل المدينة، قال هشام: وهو من ثقاتهم قال: سمعت جدي عقبة بن أبي عائشة يقول: رأيت عبد الله بن جابر البياضي صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعا إحدى يديه على الأخرى في الصلاة "

وقاراحمد بں اجبرخان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی              

 ۲۶جمادی الثانی ۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔