021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے کنائی الفاظ کا حکم
74550طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ماضی میں کئی بار کنایہ الفاظ ادا کئے،کبھی یہ محسوس نہیں ہواکہ طلاق دی ہے، جب سے ان کے بارےمیں پڑھا ہے،وہم اور اضطراب کی کیفیت میں ہوں:

(۱)ایک بار غصے کی کیفیت میں کہا کہ"میں تمہیں طلاق دے دوں گا،میری طرف سے فارغ ہوتم، بول دو اسے کہ سنگل ہوتم۔"اسی وقت طلاق دینے کی نیت نہیں تھی بس غصے میں کہا۔

(۲) ایک اور موقع پر بیوی کہہ رہی تھی کہ بس ایک بار کینیڈا گھر پہنچ جاوں،میں سوچوں گی اب۔ آخری الفاظ یہی تھےیا کچھ اور قطعی معلوم نہیں۔غصے میں میں نے کہا کہ"میری طرف سے آزاد ہو تم۔"نیت نہیں تھی ۔

(۳)" آزاد ہی ہو یا آزاد ہی ہو تم میری طرف سے" یہ الفاظ اور بھی مواقع پر کہے ہیں، گفتگو قطعی طور پہ یاد نہیں۔

(۴)پھر ایک موقع پر بیوی سے کہا کہ کیا پھر ختم ہے۔ اس نے جواب میں کہا کہ ختم ہے۔ میں نے آگےسے کہا کہ ٹھیک ہے"ختم ہے۔"

(۵) ایک بار شاید"بھاڑ میں جاو۔" کہا ایک اورموقع پر۔ رہنمائی کیجیے ۔جزاکم اللہ

o

مسائل اور احکام شرعیہ معلوم ہونے کے بعد کی فکرمندی کی کیفیت بری نہیں،بلکہ اچھی اور نیکی اور صالحیت کی علامت ہے،بشرطیکہ اس کے بعدشرعی تقاضوں پر عمل بھی کیا جائے۔

 پہلے نمبر میں ذکر کردہ الفاظ میں سے پہلے جملے(میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔) سے تو طلاق نہیں ہوئی، اس لیے کہ یہ مستقبل میں طلاق دینے سے متعلق گفتگو ہے، اور دوسرے جملے( میری طرف سے  فارغ ہوتم )سے اگرچہ طلاق کی نیت نہ تھی ،لیکن مذاکرہ طلاق یعنی طلاق سے متعلق بحث و مباحثہ کا موقع یقیناتھاجو نیت کے قائم مقام ہے،لہذا اس سے ایک طلاق بائن ہوگی۔

 دوسرے اور تیسرے نمبر میں لفظ آزاد کہنے سےمتعلق حکم یہ ہے کہ چونکہ یہ جملے عموماعرف میں صرف طلاق ہی کے لیے بولے جاتے ہیں لہذااگر آپ کے ہاں بھی ایسا ہی ہوتو اس سےمزیدصریح طلاق(رجعی) ہوگی،اگرچہ طلاق دینے کی نیت نہ ہو،بشرطیکہ آزاد کہنا پہلی طلاق کے عدت( تین حیض کی مدت)کے اندر ہی کہا ہو،ورنہ مزید کوئی طلاق نہ ہوگی اوراسی طرح دوسری بار آزاد کا لفظ کہنے کا حکم بھی ہے،یعنی دوسری طلاق کی عدت کے اندر تو اس  کے کہنےسے تیسری طلاق ہوگی،ورنہ نہیں۔

البتہ اگر آ پ کے لسانی عرف (بول چال)میں اس لفظ کا استعمال طلاق کے لیے عام وغالب نہ ہوتوایسی صورت میں  صورت مسؤولہ میں اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،اگرچہ یہ الفاظ طلاق کی نیت ہی سے کیوں نہ کہے ہوں۔لانھا کنایۃ باصل وضعھاوالکنائی لایحق البائن (فتاوی عثمانی:ج۲،ص)

چوتھے اور پانچوے نمبر میں ذکر کردہ جملوں سے کوئی طلاق نہ ہوگی، اس لیے کہ اس میں نکاح کے رشتہ  کو ختم کرنے پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ نہیں۔

 خلاصہ یہ کہ پہلے نمبر میں ذکرکردہ جملے"میری طرف سے تم فارغ ہو۔"سے مذاکرہ طلاق کے قرینے کی وجہ سے ایک طلاق بائن کنائی واقع ہونا تو یقینی ہے،جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبروں میں ذکرکردہ  جملوں میں مذکور لفظ آزاد سے بشرط غلبہ استعمال بلا نیت  ہی مزید دوصریح رجعی طلاقیں واقع ہونگی،جو پہلی طلاق بائن کے ساتھ ملکر مغلظہ ہوجائے گی،ورنہ مزیدکوئی طلاق نہیں ہوئی۔ 

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸ربیع الثانی۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔