021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاہک کا مال چھپا کر بعد میں فروخت کرنے کا حکم
74795خرید و فروخت کے احکاماموال خبیثہ کے احکام

سوال

سوال یہ ہے کہ کپڑا بنانے کی فیکٹری میں دھاگے سے  کپڑا بنا نے والے مزدور اور اس فیکٹری کے مالکان کپڑا بنوانے والے کا کچھ  دھاگہ  بچا کر اپنے پاس رکھتے ہیں اور بعد میں اسے بیچ دیتے ہیں اور بیچنے کی وجہ درج ذیل بتا تے ہیں :

  1. کپڑا بنوا نے والے دھاگہ وقت پر نہیں دیتے جس کی وجہ سے مشینیں بند کرنی پڑتی ہیں اور مزدوروں کو دہاڑی دینی   پڑتی ہے ، جگہ کا کرایہ دینا پڑتا ہے اور بہت سے خرچے فکس ہوتے ہیں ۔
  2. مزدور  کہتے ہیں کہ مزدوری کم ملتی ہے اور صرف مزدوری میں وارا نہیں پڑتا ۔
  3. دھاگے کا وزن ہمیشہ برابر نہیں آتا اور ہمیشہ چیک بھی نہیں کر سکتے بہت مشکل ہے، اگر کبھی دھاگہ کم ہو جاتا ہے تو بنوانے والا پیسے کاٹ لیتا ہے۔
  4. دھاگہ خراب دیتے ہیں اور کپڑا اچھا مانگتے ہیں اور اگر کپڑا خراب نکلے تو مزدوری کاٹ لیتے ہیں۔

نوٹ: کپڑا بنوانے والے بھی جانتے ہیں مزدور اور فیکٹری مالکان دھاگہ چوری کرتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے دھاگہ خراب دیا ہے۔ بعض اوقات وہ اس  معاملہ میں جھگڑتے ہیں  لیکن پھر بھی کپڑا بنواتے ہیں۔ کپڑا بنوانے والا بھی کماتا ہے اور بنانے والا بھی۔ کیا فیکٹری مالکان کا دھاگہ بچا کر اسے بیچنا جائز ہے؟

o

فیکٹری مالکان اور کپڑا بنا نے والے مزدوروں کا کپڑا بنوانے والے گاہک کا   دھاگہ چھپا کر بعد میں اسے بیچنا شرعاً ایک نا جائز  کام ہے کیونکہ یہ  ایک طرح کی چوری ہے  اور درج بالا وجوہات کی وجہ سے اس نا جائز کام کو جواز  فراہم  نہیں کیا جاسکتا ۔ کپڑا بنوانے والے گاہکوں کا فیکٹری مالکان اور مزدوروں سے جھگڑ نا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کام  پر راضی نہیں ہیں۔ چنانچہ فیکٹری مالکان اور مزدوروں  پر  واجب ہے کہ وہ اس نا جائز اور قبیح عمل سے توبہ کریں اور چھپائے ہوئے دھاگے کو اصل مالک کو لوٹائیں اور اگر وہی دھاگہ موجود نہ ہو تو اس کی رقم   اس  کو واپس کریں ۔ اگر اصل گاہک کو  کسی بھی وجہ سے لوٹانا ممکن نہ ہو تو دھاگے کی رقم بغیر ثواب کی نیت کے  کسی   مستحق کو صدقہ  کردیں اور   آئندہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کپڑا اسی معیار کے مطابق  ہو جو  بنوانے والے کو مطلوب  ہو۔

اس اصولی بات کے بعد یہ سمجھئے کہ جن صورتوں میں فیکٹری مالکان اور مزدوروں کو واقعی نقصان ہوتا ہو مثلاً اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں یا    نفع میں کمی ہوتی ہو یا دھاگہ پورا نہ  ہوتا ہو تو ان تمام صورتوں میں فیکٹری مالکان اور گاہک ساتھ بیٹھ کر باہمی رضامندی سے کسی بات پر اتفاق کر لیں  تاکہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی سے بچ سکیں اور  کسی ناجائز کام کا  ارتکاب بھی  نہ کرنا پڑے، مثلاً اجرت میں اضافہ کرلیں یا گاہک کو وقت پراور پوری مقدار کا اور اسی طرح  اچھے معیار کا   دھاگہ دینے کا پابند کریں ۔ الغرض اپنے  معاملات کو شریعت کے مطابق کر نے کی کوشش کریں کیونکہ اسی میں برکت اور کامیابی ہے ۔

حوالہ جات

القرآن الكريم ، [المطففين: 1-4] 
﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (١) الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (٢) وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (٣)  أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ (٤) ﴾
فقه البيوع علي ألمذاهب الأ ر بعة، ط: مكتبة  درالعلوم كراتشي  (1018):
قال الشيخ المفتي تقي العثماني حفظه الله: أن  المال المغصوب، وما في حكمه، مثل: ما قبضه الإنسـان رشوة أو سرقة، أو بعقد باطل شرعاً، لا يحل له الانتفاع به، ولا بيعه وهبته، ولا يجوز لأحد يعلم ذلك أن يأخذه منه شـراء أو هبة أو إرثاً، ويجب عليه أن يرده إلى مالكه، فإن تعذر ذلك وجب عليه أن يتصدق به عنه، وإن كان المال نقداً، واشترى به شـيئاً بالرغم من عـدم الجواز، فإن اشترى بعين المال الحرام، فلا يجوز الانتفاع بما اشتراه حتى يؤدي بدله إلى صاحبه؛ وهذا القدر متفق عليه بيـن الفقهاء، إلا ما روي عن ابن مزين من المالكية، وهو قول مرجوح. أما إذا اشترى شيئاً بثمن في ذمته، ثم نقد الثمن من الحرام، فهناك أقوال في مذاهب الأئمة الأربعة أنه جاز الانتفاع بالمشـترى، وجاز الشـراء وقبول الهديـة منه. ولكن الراجح: أنـه لا يجوز إلا بعد أداء البدل إلى المالـك، أو بعد التصدق عنه إن تعـذر أداء البدل إليه، فإن أدى البـدل أو تصدق بمثله، جاز له الانتفاع، وجاز لآخر أن يأخذه منه هبة أو شراء أو إرثاً.

 محمد انس جمیل

 دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

   ٠٦ /۰٥/١٤٤٣                                                                 

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔