021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر بنا نے کے لئے سودی قرضہ لینے کا حکم
74729سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میں ایک بینک میں بطور منیجر آپریشنز ملازم ہوں، بینک میں بسا اوقات کچھ ایسے معاملات میں شامل ہونا پڑتا ہے جن میں سود شامل ہوتا ہے اور یہ ہماری ملازمت کا حصّہ ہے اور  میں نے اپنے اسی بینک سے اپنا گھر خرید نے کے لئے قرض لیا ہے جس کی ادائیگی  ماہانہ اقساط کی شکل   میں بمعہ   سود میری تنخواہ سے ہوتی ہے ۔ اس بارے میں وضاحت فرما دیں۔

وضاحت از سائل: سوال کا مقصد یہ ہے کہ بینک سے سودی قرضہ  لینا گھر بنانے  کے لئے جائز ہے یا نہیں ؟

o

کسی کو اس طرح قرض دینا کہ  اصل رقم کی ادائیگی کے ساتھ زیادتی کی   شرط لگائی گئی ہو تو  یہ زیادتی سود کھلاتی ہے اور یہ معاملہ سودی قرض کا معاملہ کہلاتا ہے ۔ جس طرح کسی کو سود  کی شرط پر قرض دینا حرام اور ناجائز ہے اسی طرح  کسی سے سود ادا کر نے کی شرط پر   قرض لینا بھی  نا جائز اور حرام ہے۔   ایسا معاملہ کرنا  شرعاً نا جائز اور کبیرہ گناہ ہے۔

اس تفصیل کی روشنی میں یہ سمجھنا چاہئے کہ سودی بینک سے گھر بنانے کے لئے سودی قرض لینا ناجائز  اور حرام ہے، البتہ اگر لے لیا ہے تو اب اس پر استغفار کریں اور اس معاملہ کو ختم کر کے جائز طریقے سے گھر کے حصول کی کوشش کریں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ممکن ہے کہ کسی اسلامی بینک سے رابطہ کر کے گھر کی کل رقم سودی بینک کو ادا  کر دیں اور پھر اسلامی بینک کو قسطوں پر ادائیگی کرتے رہیں۔     آئندہ اس طرح کے معاملات کے لئے اسلامی بینک سے رجوع کیا کریں۔

حوالہ جات

القرآن الكريم ، البقرة : (275)
﴿أَحَلَّ اللہ البيع وَحَرَّمَ الربا﴾ )
القران الكريم ، البقرة 🙁 ۲۷۸  إلى ۲۸٠ ):
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ  وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾
 رد المحتار على الدر المختار، ط: دار الفكر – بيروت(166/5):
 (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني.
 

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏٠٢ /۰٥/١٤٤٣

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔