021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پبلک پرینک کا حکم(لوگوں کےساتھ مذاق/مزاح/تمسخرکرنا)
74844جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

آج کل پبلک پرینک کا رواج عام ہورہاہے جوعوام میں بہت مقبول ہو رہا ہے۔ پبلک پرینک دراصل مذاق کی ایک صورت ہے جو کسی اجنبی مسافر،راہ گیر،خریدار سے عوامی مقامات، دکانوں وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد اس مذاق کی ویڈیو نشر کرکےناظرین کو ہنسانا یا محظوظ کرنا ہوتا ہے۔ عموما یہ مندرجہ ذیل صورتوں میں کیا جاتا ہے،جوسائل کےمشاہدہ سے گزری ہیں۔

 1.عوامی مقامات،راہ گزراورراستہ پر چلتے کسی شخص پرآواز کسنا،اس پرپانی یا کوئی اورچیز پھینکنا، تھوکنا،ڈرانا دھمکانا،زوردارہارن کان میں بجانا،سر اور چہرہ کسی چیز سے ڈھانپ دینا وغیرہ،وغیرہ ۔

 2. کسی دکان دار کا روپ دھارکر آنے والے گاہک کو مطلوبہ اشیاء یا خدمت فراہم کرنے کے بجائے مختلف حیلہ و بہانےسے تنگ کرنا، اور غیر مطلوبہ /متعلقہ شئے فراہم کرنا یا خدمت فراہم کرنے میں غفلت برت کر تکلیف پہنچانا، مثلا گوشت کے گاہک کو کتے کے گوشت فراہمی کا اظہار، کھانے کے اشیاء پر چھینکنے کی نقالی،حمام وغیرہ کی دکان پر اندھا حمام بن کر بال کاٹنا وغیرہ وغیرہ۔ پرینک کےبعد عموما پرینک کرنے والا متاثرہ شخص سے زبان کی حد تک معذرت کرتا ہے اور اس کو حقیقت بھی بتا دیتاہے کہ یہ محض آپ سے مذاق کیا گیا تھا۔

3-ان کے علاوہ ایک صورت یہ بھی کی جاتی ہے کہ پرینک کرنے والا اور دوسرا فریق کسی ڈرامہ کی طرح اس طرح کے پرینک کی کوئی صورت پہلے سے طےکر لیتے ہیں اور پھر ریکارڈ کر کے اس کو نشر کرتے ہیں،پہلے سے طے شدہ ہونے کااظہار بھی نہیں کیا جاتا،جب کہ ناظرین اس سے لاعلم ہوتے ہیں کہ یہ پہلے سے طے شدہ ہے یا حقیقت پر مبنی ہے۔ میراسوال یہ ہے:

 1. کہ کیا درج بالا یا اس نوعیت کے کسی قسم کےمذاق کرنے کی کوئی گنجائش ہے ؟

 2. اس کو نشر کرنے پر کسی سماجی ویب مثلا یوٹیوب، فیس بک وغیرہ سے کمائی کرنا صحیح ہے؟اور عوام کیلئے ایسے پرینک دیکھنا کیساہے؟ اکثر عوام میں مقبول علماء کو دیکھا گیا ہے،جو ان پرینک کرنے والے کرداروں سےملتے ہیں اورملاقات کے ویڈیو نشرکرتے ہیں اوران کے اس عمل پررد کرنے کےبجائےعموماسراہتے ہیں،جس سے عوام میں یہ تاثرجاتا ہے کہ یہ کام بھی جائزاورلائق تحسین ہے،رہنمائی فرمائیں۔

o

شریعت میں کسی کے ساتھ مذاق تو ناجائز اور حرام ہے،مذاق یہ ہے کہ کسی کی تضحیک، توہین ،تذلیل کے طور پرکوئی دل لگی کی جائے،لیکن مزاح نہ صرف یہ کہ جائز ہے،بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھی مزاح فرمایا کرتے تھے ،چنانچہ محدثین نے کتب احادیث میں باب المزاح کے نام سے ایک باب قائم فرمایا ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح سے متعلق مختلف واقعات بھی نقل فرمائے ہیں،لیکن  آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میرا مزاح حقیقت اور واقع کے خلاف نہیں ہوتا،لہذااس قسم کی نصوص شریعت کے پیش نظرعلماء امت نےمزاح کی  چند شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے:

(۱) خلاف شریعت یا خلاف حقیقت بات، جھوٹ ،دھوکہ، وفریب، بے حیائی،بے دین(مغربی)معاشرہ وتہذیب وثقافت کی عکاسی پر مشتمل نہ ہو۔

(۲)کسی تضحیک ،تذلیل یا ناگواری کاباعث بھی نہ ہو۔

(۳)دینی ودنیوی ضروری اور اہم مشاغل میں خلل اور کوتاہی کا باعث بھی نہ ہو، بلکہ تفریح طبع مقصود ہونے کے پیش نظر ان مشاغل میں ترقی کا باعث اور معاون ہو۔

(۴) اعتدال کے ساتھ کیا جائے۔

اب سؤال  میں پوچھے گئے نکات کے بالترتیب جوابات یہ ہیں:

۱۔مروجہ پرینک کا طرز عمل چونکہ مغربی معاشرے سے در آمد ہے،جو مذہب اوراسلامی اقدار واخلاقیات سے آزاد ہے،جس کی بنیادہر ممکن طریقے سے محض خواہشات کی تکمیل اورنفس کی تسکین پر رکھی گئی ہے،لہذا اس کے بارے میں حکم شرعی میں درج ذیل تفصیل ہے:

(۱)غیر اسلامی یاغیر اخلاقی موادیاکسی کی تضحیک وتذلیل (ایذاء رسانی)پر مشتمل ہونے کی صورت میں یا بطورلہو ولعب(محض کھیل تماشہ کے طور پر)اس کو مقصود بناکر اپنانے کی صورت میں تضییع وقت اور اس جیسے دیگرمنکرات و لغویات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا بنانایا دیکھنا،یا اسی کو ذریعہ معاش بناناتو کسی صورت جائزاور درست نہیں۔

(۲)جہاں اس قسم کی منکرات ولغویات شامل نہ ہوں اور جس کے ساتھ مزاح کیا جائے، اس سے بے تکلفی ہویا پہلے سے اس کے ساتھ رضامندی سےمعاملہ طے کیا جائے تو اس کے ساتھ تو مذکورہ شرائط کے ساتھ مزاح جائز ہے۔

(۳)جن لوگوں کے ساتھ جان پہچان ہی نہ ہویا بے تکلفی نہ ہواور پہلے سے معاملہ جانبین میں طے شدہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ایساہلکا مزاح توجائز ہے،جس میں ایذاء،تضحیک وتذلیل کا پہلو نہ ہو،اورظن غالب ہو کہ اگر انہیں اس مزاح کی حقیقت معلوم ہوجائے تو وہ یقینا برا نہیں منائیں گے، بلکہ خوشی کا اظہار کریں گے۔

(۴)جن کے بارے میں یہ یقین ہو یا کم از کم ظن غالب ہو کہ وہ اس طرح مزاح سےبھی خوش نہ ہوگا،یا اس کا معاشرتی مقام ومنصب اس کے مناسب نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ ایسا مزاح بھی مطلقا جائزنہیں ہے۔

 چونکہ عوام اور دیکھنے والوں کو اس حقیقت حال کا علم ہوتا ہے کہ ان مزاحیہ پروگراموں میں دونوں قسم( حقیقت پر مبنی اور آپس میں طے شدہ) کے پروگرام شامل ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ دھوکہ کے  زمرے میں نہیں آتے،لیکن جہاں مزاح کے ضمن میں کوئی معاشرتی اصلاحی پیغام بھی دینا ہو تو وہاں وہ پیغام اور اس کااندازدرست ومثبت ہونا چاہئے،بلکہ مسلمان کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اس کا مزاح بھی کسی نہ کسی معاشرتی بگاڑ کے اصلاح کی دعوت پر مشتمل ہو۔

۲۔ جائزاور حقیقت پر مبنی پروگراموں پر مشتمل چینل کی آمدن جائز ہے،بشرطیکہ ناجائز اشتہارات کو اپنے چینل پرچلانے کی شرط  شامل معاہدہ نہ ہو،اس مقصد کے لیے اشتہارات کی سکریننگ کر کے صرف جائز اشتہارات کوباقی رکھا جائےاورسکریننگ کے باوجود اگر کچھ ناجائز امور پر مشتمل اشتہارات چل جائیں تو اندازہ کر کے اس قدر آمدن کو بلانیت ثواب صدقہ کردیا جائے۔

 اسی طرح ایسے شرعی حدود کے مطابق بنائے گئےمزاحیہ پروگرام دیکھنے کی بھی شرعا کوئی ممانعت نہیں،البتہ انہیں مقصود بنالینا درست نہیں،نیز جب یہ عمل شرعی حدود کے مطابق کرنا اور اس کا دیکھنا بھی جائز ہے تو  اس میں شرکت بھی  فی نفسہ صحیح ہے،لیکن ایسے لوگوں کےاس طرح کے پروگراموں میں علماء کو شرکت سے اجتناب کرنا چاہئے ،جن میں دینی لحاظ سےعملی یا نظریاتی طور پر آزادی یا بے راہ روی پائے جاتی ہو،اس لیے کہ اس طرح کرنے سے عوام میں ان کے غلط اقدامات ،نظریات کی تایید ہوتی ہے اور معاشرے میں علماء سے اعتماد بھی اٹھ جانے کا باعث بن سکتاہے، بالخصوص  عوام میں مبلغ دین اور داعی دین کی حیثیت سے مقبول علماء کرام کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اس لیےکہ یہ ان کی علمی اور منصبی مقام اور وقار کے بھی خلاف ہے،البتہ ایسے لوگوں سے ملاقات اگر ان کی اصلاح کی نیت سے ہو اور ملاقات میں اصلاح کے پہلوؤں کو زیر گفتگو لایا جائے تو اس طرح کی ملاقات میں حرج نہیں،بلکہ دعوت دین کی نیت و عمل پائے جانے کی وجہ سے  باعث ثواب بھی ہوگا۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 3061)
ثم اعلم أنه ورد عنه - صلى الله عليه وسلم: «لا تمار أخاك ولا تمازحه» ، وأخرجه الترمذي في جامعه من حديث ابن عباس وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه، وقال الجزري: إسناده جيد، فقد رواه زياد بن أيوب، عن عبد الرحمن بن محمد البخاري، عن ليث بن أبي سليم، عن عبد الملك بن أبي بشر، عن عكرمة، عن ابن عباس، وهذا إسناد مستقيم، وليث بن أبي سليم - وإن كان فيه ضعف من قبل حفظه - فقد روى له مسلم مقرونا، وكان عالما ذا صلاة وصيام، ذكره ميرك. والحديث له تتمة على ما في الجامع الصغير، وهى: لا تعده موعدا فتخلفه، والحديث سيأتي في أصل الكتاب.
قال النووي: اعلم أن المزاح المنهي عنه هو الذي فيه إفراط ويداوم عليه، فإنه يورث الضحك وقسوة القلب، ويشغل عن ذكر الله والفكر في مهمات الدين، ويؤول في كثير من الأوقات إلى الإيذاء، ويورث الأحقاد، ويسقط المهابة والوقار، فأما ما سلم من هذه الأمور، فهو المباح الذي كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يفعله على الندرة لمصلحة تطييب نفس المخاطب ومؤانسته، وهو سنة مستحبة، فاعلم هذا، فإنه مما يعظم الاحتياج إليه. اهـ.
وقال الحنفي: لكن لا يلائمه ما روي عن عبد الله بن الحارث قال: «ما رأيت أحدا أكثر مزاحا من رسول الله - صلى الله عليه وسلم» -. قلت: يلائمه من حيث أن غيره ما كان يتمالك من نفسه مثله - صلى الله عليه وسلم - فكان ترك المزاح بالنسبة إلى غيره أولى، وقد روى الترمذي في الشمائل، «عن أبي هريرة قال: قالوا: يا رسول الله إنك تداعبنا. قال: " إني لا أقول إلا حقا» . والمعنى لا يقال الملوك بالحدادين، والحاصل أن غيره - صلى الله عليه وسلم - داخل تحت نهيه، إلا إذا كان متمكنا في الاستقامة على حده وعدم العدول عن جادته.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 348)
وفي السراج ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر
(قوله ويدخل عليهم إلخ) لأنهم أسقطوا حرمتهم بفعلهم المنكر فجاز هتكها كما للشهود أن ينظروا إلى عورة الزاني حيث هتك حرمة نفسه وتمامه في المنح

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۰جمادی الاول۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔