021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذہن میں طلاق کا خیال ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوتی
74941طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری بیوی ایک دن کے لیے میکے گئی اور میکے والوں نے اسے روک دیا   کہ آ ج نہ جاؤ کل  جاؤ تو میں نے ان کو کہلوایا کہ آج شام تک ضرور بھیجو ،اگر نہ بھیجا تو نقصان ہوگا اور ذہن میں طلاق تھا۔یہ یاد نہیں کہ  طلاق کے الفاظ زبان سے نکالے تھے یا نہیں ، کیا طلاق واقع ہوگئی؟

o

محض ذہن مین طلاق کا خیال ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ اگر زبان سے طلاق کے الفاظ اد اکیے ہوں یا طلاق کو معلق کیا ہویعنی مذکورہ صورت میں کہ"اگر شام تک بیوی نہیں آئی تو طلاق " وغیرہ اس طرح کے کوئی الفاظ باقاعدہ زبان سے کہے ہوں  اور شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔صورت مسؤولہ میں اگر طلاق کے الفاظ  زبان سے ادا نہ کرنے کا غالب گمان ہے تو محض وسوسے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 51)
وعن أبي الليث لا يجوز طلاق الموسوس يعني المغلوب في عقله عن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم تكلم بغير نظام.
حاشية رد المحتار (4/ 409)
قوله: (وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح، ولكن موسوس له أو إليه: أي تلقى إليه الوسوسة.
وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لانه يحدث بما في ضميره، وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم: هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام، كذا في المغرب.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 219)
حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف.
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 80)
ومنها : شك هل طلق أم لا لم يقع شك أنه طلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه على خلافه.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

16/ جمادی الاولیٰ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔