021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین مقاطعہ پر لینے اور اس کے تجدید معاہدہ کا حکم
74959اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

زید نے تین سال تک اسد سے مقاطعہ پر زرعی زمین حاصل کی۔ زید نے اسد کے ساتھ تقریبا three تین سال کا معاہدہ کیا۔ (زید کے دوست عمر اور زید نے اپنی ذاتی تفہیم کی اور مشترکہ طور پر یہ زمین حاصل کی،لیکن عمر کا نام معاہدے میں نہیں ہے۔)اور زمین کے مالک کو نہیں معلوم کہ زید اور عمر کو مشترکہ طور پر یہ زمین ملی ہے،وہ سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ صرف زمین کے مالک اور زید کے درمیان ہے،تین سال کے معاہدے میں عمر یا اس کی شمولیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اسد نے سوچا کہ یہ صرف زید ہے جس نے مجھ سے مقاطعہ پر زمین حاصل کی ہے، اب زرعی زمین کے معاہدے کو صرف ایک سال گزرا ہے۔ زمین کے مالک،جناب اسد نے زید سے بات کی ہے کہ کیا آپ ایک سال تک مقاطعہ بڑھا سکتے ہیں؟اب زید کو اپنے ساتھی عمر کے ساتھ پہلے معاہدے کے حوالے سے کچھ مسائل تھے،ادائیگی اور دیگر مسائل میں۔ زید زمین کے مالک اسد کے ساتھ تقریبا fourth چوتھے سال نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں ایک سال کے لیے نیا معاہدہ کریں،نئی شرائط و ضوابط کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی رقم کے ساتھ۔ اب زید کےلیے ایک سال کے لیے نیا معاہدہ کرنا جائز ہےاور یہ تین سال مکمل ہونے پر عمل میں آئے گا،لیکن معاہدےاور ادائیگی کی شرائط کو اب حتمی شکل دی جائے گی اور معاہدہ کیا جائے گا۔ زید نہیں چاہتا کہ عمر اس کےبارے میں جانے یا اس کے ساتھ اس ایک سال کے لیے شراکت داری کرے۔

o

اگر یہ زمین درختوں والی نہ تھی تو سابقہ معاملہ بھی درست ہے اورنئی جائز شرائط وضوابط کے ساتھ جدید معاملہ بھی درست ہے اور اگر زمین درختوں والی ہے تو اس کے معاملہ کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ اول درخت مقاطعہ دار کو فروخت کئے جائیں اور اگر درخت پھل دار ہیں تو مقاطعہ دار کو مساقاۃ پر دیدیئے جائیں اس کے بعد زمین کا اجارہ کیا جائے۔ (احسن الفتاوی:ج۷،ص۲۶۵)

حوالہ جات

۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۶ جمادی الاول۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔