021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اثبات ِرضاعت کےلئے اقرار یا نصاب شہادت
73377رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک عورت کا دودھ بالیقین خشک ہو چکا ہے (بڑھاپے کی وجہ سے)او ر زید نے اس کا خشک پستان چوس لیا اور مزید یہ کہ اب مدت دراز کے بعد اس عورت کو یاد بھی نہیں ہے کہ زید نے اس کا پستان چوسا تھا اور اس پر کوئی چشم دید گواہ بھی موجود نہیں سوائے اس کے کہ دو ، تین خواتین ان الفاظ سے گواہی دیتی ہیں کہ ہم نے اس عورت کی زبانی سنا ہے کہ ’’میں نے زید کو دودھ پلایا ہے‘‘۔

نیز اگر رضاعت ثابت نہیں ہوئی تو براہِ کرم وجہ کی وضاحت فرما دیجیے کہ دودھ خشک ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی یا گواہ نہ ہونے کی وجہ سے ؟

o

مذکورہ صورت میں دو وجہ سے  حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہو گی:

  1. اصل وجہ تو یہ ہے  کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کیلیے  اقرار یا نصابِ شہادت کا پایا جانا ضروری ہے،یہاں ان دونوں میں سے کوئی چیزنہیں پائی جاتی۔نصاب شہادت  میں دو عادل مرد   یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتیں  پایا جانا ضروری ہے۔
  2. دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہاء کرام نےلکھا ہے کہ جب عورت کو یہ شک ہو کہ اس کے پستان میں دودھ تھا یا نہیں تھا تو اس صورت میں حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی ، جبکہ یہاں تو دودھ کا نہ ہونا یقینی ہے تو حرمتِ رضاعت بطریقِ اولی ثابت نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 224)
الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 212)
وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك.
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 89)
 امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك فيما بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثديي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية انتهى.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 238)
هو مص الرضيع من ثدي الآدمية في وقت مخصوص) أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه في مدة الرضاع.

  محمد عبدالر حمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

08/11/1442

‏                                                   

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔