| 72143 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
بندہ ملازم ہے ۔گھر سے روز نکلتا ہے اور اپنے گاؤں سے نکل کر 80کلو میٹر سے زیادہ کا سفر طے کرتاہے۔ بندہ اسی دن یا دو تین دن بعد اپنے گھر واپس بھی آتا ہےتو اس کی نماز کا کیا حکم ہے وہ قصر پڑھے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر موصوف کی ملازمت کی جگہ گاؤں کی اپنی حدود و آبادی سے نکلنے کے بعد 80 کلو میڑ ہے اور وہاں 15دن قیا م کی نیت بھی نہیں کرتے تو ان کے لئے نمازں کی قصر کا حکم ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 80)
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر " لأنه لا بد من اعتبار مدة لأن السفر يجامعه اللبث فقدرناها بمدة الطهر لأنهما مدتان موجبتان وهو مأثور عن ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم والأثر في مثله كالخبر
الفتاوى الهندية (1/ 140)
ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان كل منهما أصلا بنفسه نحو مكة ومنى والكوفة والحيرة لا يصير مقيما وإن كان أحدهما تبعا للآخر حتى تجب الجمعة على سكانه يصير مقيما….
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۳۰/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


