03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لقطہ کو استعمال کرنے کا حکم
72144جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی کا کوئی سامان پڑا ہواور مالک کا پتا بھی نہیں چلتا ہو اور ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کو ئی بھی سامان اگر پڑا ہوا ملے تو اس کا اصل حکم تو یہ ہے، کہ اس کے مالک کو تلاش کر کے اس کے حوالے کیا جائے، اگر باوجود کوشش کے مالک کا علم نہ ہوسکے اور چیز کے ضائع ہونے کا خوف ہو تو اس کو فقراء پرصدقہ کردیا جائے۔لہذا اگر سامان کو اٹھانے والا شخص خود مستحق زکاۃ ہے تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے ،بصورتِ دیگر خود استعمال کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي - (2 / 418)

قال: " فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها " إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.

الهداية في شرح بداية المبتدي - (2 / 419)

" ولا يتصدق باللقطة على غني " لأن المأمور به هو التصدق لقوله عليه الصلاة والسلام: " فإن لم يأت " يعني صاحبها " فليتصدق به " والصدقة لا تكون على غني فأشبه الصدقة المفروضة " وإن كان الملتقط غنيا لم يجز له أن ينتفع بها

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب