| 71380 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
سوال:میرے والد کی ۲ بیگمات تھیں۔ پہلی زوجہ کے چار بچے تھے،۳بیٹے اور ایک بیٹی۔بیٹی کا ابو کی حیات میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔پہلی بیوی کے انتقال کے بعد ہمارے والد نے دوسری شادی کی۔دوسری بیوی یعنی ہماری والدہ سے ۱۳ بچے ہیں، ۷ بیٹے اور ۶ بیٹیاں۔
والد کی جائیداد میں ایک پرانا کیبن(چھوٹا گھر)، صدیق آباد کی زمین اور اینڈ آف سروس کی مد میں کمپنی کی طرف سے ملنے والے پرائز بانڈز شامل تھے۔والد نے اپنی حیات میں صدیق آباد والی زمین اپنے بڑے بیٹے کے نام اور کیبن دوسرے بیٹےکے نام رکھی تھی،یہ دونوں بیٹے پہلی بیوی سے تھے۔
والد کے انتقال کے بعد جس بیٹے نے بھی کمایا وہ سب ہماری والدہ کو دیتے تھے۔ والدہ اور سب بھائیوں کے درمیان یہ انڈرسٹینڈنگ تھی کہ جب تک جو بھائی والدہ کے ساتھ رہے گا وہ اس دوران خریدی گئی تمام جائدادوں میں برابر کا حصہ دار ہوگا۔
والد کے پرائز بانڈز میں ایک پرائز بانڈ کا انعام نکلا جس کی رقم سے ناظم آباد میں ایک پلاٹ خریدا گیا۔ناظم آباد والے پلاٹ کی تعمیر کے لیے بڑے بھائی نے پیسے دیے جس سے گھر کی بنیادیں رکھی گئیں۔تعمیر جاری رکھنے کے لیے کچھ قرضہ رشتہ داروں،دوستوں اور ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن سے لیا گیا اور گھر کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔مزید پیسوں کی ضرورت پڑنے پر میرے والد کی جائداد میں سے صدیق آباد والی زمین اور کیبن کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم میں سے کچھ رقم گراؤنڈ فلور کی تعمیر میں استعمال کی گئی اور بقیہ رقم سے رشتہ داروں اور دوستوں کا قرضہ ادا کیا گیا، البتہ ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کا قرضہ ابھی باقی تھا۔
۱۹۷۶ء میں ہمارے بڑے بھائی محمد فاروق ورسیانی سعودیہ چلے گئے اور وہاں سے جو پیسے انہوں نے بھیجے اس سے گراؤنڈ فلور کی فینیشنگ کا کا م مکمل کیا گیا۔۱۹۷۹ء میں ایک بھائی محمد حنیف ورسیا نی اور ۱۹۸۱ء میں ایک اور بھائی الطاف ورسیانی بھی سعودیہ چلے گئے۔اس کے بعد ان بھائیوں کی کمائی سے جو سعودیہ سے بھیجا کرتے تھے، فرسٹ فلور کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا۔ اس دوران ایک حادثے میں ہمارے بڑے بھائی یونس ورسیانی کا انتقال ہوگیا۔۱۹۸۴ء میں فرسٹ فلور کی تعمیر کا کام مکمل ہوا اور ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کا قرضہ بھی ادا کر دیاگیا۔
۲۰۰۰ء میں ہماری والدہ نے فیصلہ کیا کہ ناظم آباد والا گھر پانچ بیٹوں کو جو ان کے ساتھ رہ رہے تھے، لیگل گفٹ ڈیڈ کے ذریعے گفٹ کر دیا جس میں والدہ اور پانچ بیٹوں نے باقاعدہ دستخط بھی کردیے۔اس کے ساتھ ایک اور فیصلہ یہ کیا کہ ناظم آباد والی زمین کے گراؤنڈ فلور کی تعمیر میں چونکہ صدیق آباد والی زمین کے پیسے خرچ کیے گئے تھے اس لیےاس زمین کی قیمت کے برابر ایک فلیٹ خریدا گیا اور تمام بھائی بہنوں کے لیے وراثت کے حصہ کے طور پر مختص کردیا گیا۔ یہاں کچھ باتیں واضح کرنا ضروری ہیں، جیسے کہ: ۱۔یہ فلیٹ صدیق آباد والی زمین کی مالیت کو مد نظر رکھ کر خریدا گیا نہ کہ سال ۲۰۰۰ء میں ناظم آباد والے مکان کے گراؤنڈ فلور کی مالیت کے مطابق۔ ۲۔دونوں فیصلوں سے سوائے والدہ اور ان کے ساتھ رہنے والے ہمارے پانچ بھائیوں کے کسی اور بھائی یا بہن کو آگاہی نہیں تھی۔ ۳۔اس فیصلے میں پرائز بانڈز اور کیبن کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ شرعی علم نہ ہونے کی وجہ سے اس کو والدہ کی ملکیت سمجھا گیا۔
یہ ساری جائداد جس میں ناظم آباد والا مکان اور فلیٹ جو باقی بھائی بہنوں کے لیے خریدا گیا، سب اسی طرح موجود ہے۔ہم سب بہن بھائی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ جو شریعت کے احکام ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے سارے معاملات طے کیے جائیں۔ جس کے لیے ہمارا یہ جاننا ضروری ہے کہ:
۱۔کیا یہ جائیداد ہمارے والد کی سمجھی جائے گی یا پھر والدہ کی؟ اور والد کی اینڈ آف سروس کے پرائز بانڈز والدہ کے مانے جائیں گے یا پھر ان کی شرعی تقسیم ہوگی؟ والد کی پہلی زوجہ کے بیٹوں نے جو کیبن اور صدیق آباد والی زمین والدہ کو دی تھی وہ والدکی جائیداد سمجھی جائے گی یا والدہ کی؟
۲۔وراثت کی تقسیم کا جو فیصلہ ۲۰۰۰ء میں ہوا تھا کیا وہ شرعی طور پر صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح نہیں تھا تو شرعی تقسیم کس طرح سے کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔صدیق آباد والی زمین، کییبن اور پرائز بانڈز آپ کی والدہ کی ملکیت شمار نہیں ہوں گے بلکہ آپ کے والد کی متروکہ جائیداد ہی سمجھی جائے گی جس پر میراث کے احکام لاگو ہوں گے۔ کیونکہ آپ کے والد کے محض نام کردینے سے وہ زمینیں بھائیوں کی ملکیت نہیں بنی تھیں بلکہ وہ والد کی ہی ملکیت تھیں۔ چنانچہ پرائز بانڈ سے ملنے والی رقم سے ناظم آباد میں جو پلاٹ خریدا گیا اور زمینوں کو بیچ کر ان سے حاصل ہونےوالی رقم سے جو فرسٹ فلور کی تعمیر کی گئی وہ آپ کے والد کے ترکہ ہونے کی وجہ سےمشترکہ جائیداد ہی شمار ہوگی اور اس پر میراث کے احکام لاگو ہوں گے۔ البتہ بھائیوں نے جو رقم بھیج کر گھر کی تعمیر میں حصہ ڈالا وہ ان کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا ۔ تاہم بعد میں جو فلیٹ خریدا گیا وہ ترکہ میں شامل نہیں بلکہ خریدار ہی کی ملکیت سمجھا جائے گا، چنانچہ اس پر میراث کے احکام لاگو نہیں ہونگے۔
۲۔ آپ کی والدہ کی طرف سے کیا گیا فیصلہ شرعا درست نہیں تھا کیونکہ وہ والدہ کی جائیداد نہیں تھی بلکہ آپ کے والد کا ترکہ تھا اور مشترکہ جائیداد تھی چنانچہ اس کو تمام ورثاء میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
آپ کے والد مرحوم (نور محمد)نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں بشمول تمام جائیداد کے جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ سامان چھوڑا تھا اورمرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی کے ذمہ واجب تھی، سب مرحوم کا ترکہ تھا۔چنانچہ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی جو مرحوم کے ذمہ واجب تھا۔اگر مرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو اس کے بعد بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(1/3) کی حد تک وصیت پر عمل کیا جائے گا۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کے کل 208حصے کرکے درج ذیل نقشے کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کردیا جائے۔
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
|
1 |
بیوی (ثمن) |
26 |
12.5% |
|
|
2 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
3 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
4 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
5 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
6 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
7 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
8 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
9 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
10 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
11 |
بیٹا (عصبہ) |
14 |
6.7307% |
|
|
12 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
13 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
14 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
15 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
16 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
17 |
بیٹی (عصبہ) |
7 |
3.3653% |
|
|
کل |
|
208 |
100فیصد |
|
چونکہ مرحوم نور محمد کے ایک بیٹے (محمد یونس)کا میراث کی تقسیم سے پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے لہذا آپ کے والد مرحوم سے ملنے والے حصہ اور ان کی دیگر چھوٹی بڑی تمام جائیداد کو جمع کرکے اس میں سے کفن دفن کے مناسب اخراجات نکالنے، قرض کی ادائیگی کرنے اور وصیت پہ عمل کرنے کے بعد باقی جو بچے اس کے کل 144حصے کرکے مرحوم محمدیونس کے ورثاء میں درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
والدہ (سدس) |
24 |
16.6666% |
|
2 |
بیوی (ثمن) |
18 |
12.5% |
|
3 |
بیٹا (عصبہ) |
34 |
23.6111% |
|
4 |
بیٹا (عصبہ) |
34 |
23.6111% |
|
5 |
بیٹی (عصبہ) |
17 |
11.8055% |
|
6 |
بیٹی (عصبہ) |
17 |
11.8055% |
|
کل |
|
144 |
100فیصد |
نوٹ:پرائز بانڈز میں ملنے والی رقم لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں بطور انعام دی جانے والی رقم میں قمار اور سود پایا جاتا ہے۔لہذا آپ کے لیے پرائز بانڈ کی صورت میں ملنے والی رقم میں سے اصل رقم (جو پرائز بانڈ کے لیے جمع کرائی تھی)کو نکال کر بقیہ رقم کو بغیر نیت ثواب کے صدقہ کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 293)
كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية.
احكام المال الحرام (ص: 2)
حكم هذا النوع ;وإنّه حرامٌ للغاصب الانتفاعُ به أو التّصرّفُ فيه، فيجبُ عليه أن يرُدّه إلى مالكه، أوإلى وارثه بعد وفاتِه، وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفةِ المالك أو وارثه، أولتعذّر الرّدّ عليه لسببٍ من الأسباب، وجب عليه التّخلّصُ منه بتصدّقه عنه من غير نيّةِ ثوابِ الصّدقةِ لنفسه.
معاذ احمد بن جاوید کاظم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | معاذ احمد بن جاوید کاظم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


