03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت کی تقسیم میں گھر کے ذمہ دار بیٹے کو نظر انداز کرنا
71991میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا یہ تقسیم درست ہے ، اس تقسیم سے تو ان  لوگوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ،جنہوں نے والدین  پر خرچ کرنے کےبجائے اپنے اثاثہ جات بنائے ہیں؟ اس سے ہماری نئی نسل کو کیا سبق ملتا ہے؟اس طرح کی تقسیم سن کر ہر شخص نفسا نفسی کا شکار ہوگا۔

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ مطہرہ کے مطابق میراث کی تقسیم میں  برکتیں اور رحمتیں اور اجروثواب بہت زیادہ ہے۔ اس سے اجتماعی و انفرادی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ میراث کی تقسیم میں جو حصے مقرر کیے گئے ہیں، ان کی مقدار کی مکمل حکمت و مصلحت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اس لیے کہ ہماری عقل و شعور کو اس کی گہرائی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس لیے

اللہ تعالی نے میراث کے حصص متعین کرنے کے بعد فرمایا: ’’تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون نفع کے لحاظ سے تمھارے قریب تر ہیں۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور تمھاری مصلحتوں کا جاننے والا ہے“(القرآن)

دوسری طرف والدین اور گھر والوں  پر خرچ کرنا باعثِ اجروثواب ہے ، جس پر اللہ کریم دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرماتے ہیں لہذا  اس خدمت میں   دنیاوی سازو سامان کے بجائے آخرت کو اپنا مقصد بنانا چاہیے۔ یہ دونوں باتیں ہم سب کے سمجھ میں آجائیں تو نفسا نفسی اور وراثت کی تقسیم میں رائج ظلم سے ہمارے معاشرہپاک ہوجائے گا۔

حوالہ جات

{لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (11} [النساء: 11]

صحيح البخاري  (1/ 21)

 عن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الاعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى... عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أنفقالرجل على اهله يحتسبها فهو له صدقة.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب